77

نہ رابطہ کیا نہ اسمبلی میں جائیں گے

نہ رابطہ کیا نہ اسمبلی میں جائیں گے، شریف خاندان کے خلاف تحقیقات میں مشکلات رہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ تھا، عمران خان
پشاور(ٹی وی رپورٹ‘ایجنسیاں) سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عدم اعتماد کے دوران سابق صدر آصف زرداری سے رابطوں کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو چکے‘تصدیق کیلئے جانے کی ضرورت نہیں‘پرویزالٰہی ہمارے پلان کے مطابق چل رہے ہیں ‘لانگ مارچ ختم کرنے کے پیچھے کوئی ڈیل نہیں‘لانگ مارچ ختم نہ کرتا تو خون خرابہ ہوتا‘اسمبلی میں واپس جانے کا مطلب امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنا ہوگا‘ جب ہم حکومت تھے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ تھا‘ پیغام بھیجا گیا کہ اپنے ملک کا سوچیں، پیغام کس کی طرف سے آیا تھا یہ ابھی نہیں بتاسکتا‘ہماری حکومت میں شریف خاندان کے خلاف تحقیقات میں مشکلات تھیں‘ تحقیقات کرنے والے لوگ ڈرتے تھے‘نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق کبھی نہیں سوچا، نہیں معلوم نیا آرمی چیف کون ہو گا‘سارے فوج مخالف بہت خوش ہیں لیکن فوج اورپی ٹی آئی ہی ملک کو متحد رکھ سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے عدم اعتماد کے دوران آصف زرداری سے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے آصف زرداری اور ملک ریاض کے درمیان گفتگو سےلاتعلقی کا اظہار کردیا۔پشاور میں ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 26 سال سےکہہ رہا ہوں کہ آصف زرداری اور ن لیگ ایک ہی ہے‘ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر اسپیکر کے سامنے مستعفی ہونےکا اعلان کیا‘ اب کسی رکن کو انفرادی طور پر اسمبلی جانےکی ضرورت نہیں ہے۔امریکا کے زیر اثر مخصوص لابی مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اب یہ چلا رہے ہیں ہمیں اسمبلی میں چلا جانا چاہیے یہ ٹریپ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں