از قلم: محمد ارسلان محمود 355

نعت خوانی:وقت نے کیا کچھ بدل دیا.از قلم: محمد ارسلان محمود

نعت خوانی:وقت نے کیا کچھ بدل دیا..

20 سال پہلے کی نعتیہ محافل کا دوراگر یاد کریں تو اشتہارات سادہ اور بغیر تصاویر کے ہوا کرتے تھے- نعت خواں حضرات زیادہ تر سفید لباس اور واسکٹ زیب تن کرتے اور جالی والی سفید ٹوپی پہنتے تھے- سینئر نعت خواں جناح کیپ بھی پہنتے، ڈائری ھاتھ میں تھامے باادب انداز میں ہاتھ باندھ کر اور کبھی کبھار تو آنکھیں بھی مکمل طورپر بند کر کےنعت شریف پیش کرتے-
مائیک سٹینڈ پر لگا ہوتا اورہرنعت خواں تمہیدی گفتگو کے نام پر میزبان اور بااثر شخصیات کی چاپلوسی کے بجائے درور شریف سے آغاز کرتا بلکہ ایک ہی حاضری کےدوران ہر کلام سے پہلے درود پاک کا نذرانہ بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں پیش کیا جاتا- کلام معیاری اور سوزوگدازسے بھرپورہوتا- نعت خواں شہرت کی بجائے عزت کماتے اورپیسے کی بجائے دعائیں لیتے- موبائل فون کی ایجاد سے پہلے سٹٰیج والوں اور حاضرین کی توجہ موبائل کی بجائے پڑھنے والے کی طرف ہوتی- ایک آدھ کیمرا ویڈیو ریکارڈ کرتا- نعت پڑھنےوالےنعت پڑھتے اور گفتگوکم کرتےجبکہ خطاب کرنے والے بھی خطاب کرتےاورنعتیں کم سناتے تھے-
سٹیج کی آرائش سادہ مگر پُروقارہوتی تھی-سامعین کی آمد کا مقصد کسی ایک نعت خواں کو سننا نہیں بلکہ پوری محفل میں باادب حاضری دینا ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ اشتہاروں پر یہ جملہ نہیں ہوتا تھا کہ “فلاں صاحب اتنے بجے پڑھیں گے”- ہرنعت خوان ایک رات میں ایک ہی محفل میں حاضر ہوتا لہذا مجھے پڑھاؤ، مجھے پڑھاؤ، آگے جانا، آگے پڑھنا، لیٹ ہوگیا جیسی تکرارسے بھی ماحول محفوظ تھا- نقیبِ محفل مختصر وقت میں اپنا فرض انجام دیتا اور سبحان اللہ، ماشاءاللہ کہنے کو سامعین کی مرضی پرچھوڑ دیتا- پچھلے دور میں چند ایک بزرگ نعت خواں ربیع الاول یا دیگر مہینوں میں برطانیہ یا کسی اورملک کا رخ کرتے اور وہاں سفیرِنعت کے طور پر باادب اندازمیں اپنی خدمات سر انجام دیتے- لہذا نہ تو فیس بک پر کسی کی بیرونِ ملک حرکتوں کا چرچا ہوتا اور نہ ہی غیر ملکی نعتیہ تنظیموں کو “کسی” پر پابندی لگانے کی ضرورت پیش آتی-

اور پھراکیسویں صدی کا آغاز ہوا- انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی، نت نئے چینل آگئے- جیسے سیاست، ادب، تعلیم، کھیل سب کچھ کمرشلائز ہوتاگیا اسی طرح نعت خوانی کے ماحول میں بھی بے پناہ تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں زیادہ تر منفی رجحانات سامنے آئے- نجانے کہاں کوتاہی ہوئی؟ اورکس کی نظرلگی کہ وہ تمام خوبصورت ماحول اگلی نسل کو منتقل نہیں ہوسکا- نجانے کون تھا جس نے اشتہاروں پہ تصویریں لگانا شروع کیں؟ مائیک سٹینڈ سے اتر کر ہاتھ میں آگیا اور میوزک کنسرٹ کی طرح مائیک لہرا الہراکر پڑھنے کا رواج عام ہوتا گیا- ڈائری کی جگہ موبائل نے لےلی- میوزک کنسرٹ میں استعمال ہونے والی رنگ برنگی لائٹس لگ گئی- آج جب ڈرون کیمرااڑتا ہے تو لوگ سب کچھ بھول کر اسے دیکھنے لگ جاتے ہیں- گرمیوں میں تو وہ کیمراٹھنڈی ہوا دے کر خوشگوار تاثر بھی مہیاکرتا ہے-
نقابت پرفارمنس بن گئی ہے- بیک وقت چار چار مائیک پہ ردھم بنایا جاتا ہے- نعت خوان پڑھ رہا ہوتا ہے تو نقیب کو شعر یاد آنے لگتے ہیں چاہے اپنے وقت میں ایک بھی یاد نہ آئے- محفل کا آرگنائزر بھی چاہتا ہے کہ نقیب،نعت خواں، جونیئر، سیینئر ایسے مل کے پڑھیں کہ ایک ہنگامہ سا برپا ہوجائے اور لوگوں کے لیے یاد گار بن جائے-آج کل وجد کا رواج بھی مارکیٹ میں ہے اور اس کا ریٹ بھی اچھا چل رہا ہے- سٹیج پر باقاعدہ سیلفی سیشن منعقد ہوتا ہے- کبھی کبھارتوایک پڑھنے والا دوسرے نعت خوانوں کو باتوں باتوں میں طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنا دیتا ہے- ماشاءاللہ بہت سارے لوگ تو ایک ہی وقت میں محافل کے سٹیج پر بھی موجود ہوتے ہیں اور فیس بک پر لائیو بھی- ایسے میں کہاں کی حاضری اور کہاں کی حضوری؟؟ کہاں یہ کیفیت کہ پرندے سروں پر بیٹھے ہوں اورکہاں یہ کہ سٹیج پر الیکٹرونک سکرینیں آویزاں ہیں اورہرلمحےبعد سکرین پر منظر بدل جاتا ہے اور حاضرین ان کو دیکھنےمیں مگن ہیں- حتی کہ موبائل کی ٹارچ جلا کر سیاسی جلسوں والی حرکتیں محافل میں عام کی کردی گئی ہیں- آج کل یوٹیوب پر نعتیہ مواد اپ لوڈ کرنے والوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ اللہ کی پناہ- “اویس قادری نے ایسا کیا کردیا کہ مجمع سُن ہوگیا” ،فلاں بمقابلہ فلاں، لوگوں کا سمندر، وغیرہ وغیرہ جیسے عنوانات دے کر ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں- کیا زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے یہی رہ گیا تھا؟؟ نعت خوانوں کی آپس کی لڑائیوں کی داستانیں بھی زبانِ زدِعام ہیں – افسوس صد افسوس کہ یہ سب کچھ آقاۓ نامدارﷺ کے عشق کے نام پر کیا جا رہا ہے-
حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک درد مند طبقے کو اصلاحِ نعت کے لیے میدان میں آناپڑا اور انہوں نےقابلِ قدر کام کیا اور کررہے ہیں- لیکن لاہور میں ایسی ہی ایک کانفرنس میں آدابِ نعت پرگفتگو اتنی طویل ہوتی گئی کہ نمازِظہر کا خیال بھی نہ رکھا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی وقفہ شیڈول میں تھا- کہیں ایسا نہ ہو کہ آدابِ نعت کا احیاء بذاتِ خود ایک حجاب بن جائےاورآنے والے وقتوں میں لوگ اسی کو اپنا کر ذاتی شہرت حاصل کریں- پس ترجیحات کا تعین سب سے اہم ہے-
(اہم نوٹ: اس تحریر میں طوالت کے پیشِ نظر خواتین کی نعت خوانی، نام نہاد نعتیہ شاعروں کی حرکات ،ریکارڈنگ چینلز کی کارستانیاں اور دیگر بہت سے موضوعات پر دانستاً بات نہیں کی گئی کیونکہ بات نکلی تو پھر دور تلک جائے گی——– )

اللہ ہم سب کو حق لکھنے اور بھولنے کی توفیق عطا فرمائے –
از قلم: محمد ارسلان محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں