349

نظر آتا ہے جو کچھ اصل میں ایسا نہیں ہے

”کاش میں ایک پرندہ ہوتا! درختوں پر بیٹھتا۔ پھل کھاتا، اُڑتا پھرتا، حساب کا ڈر ہوتا نہ عذاب کا! کاش میں سرِ راہ درخت ہوتا۔ اونٹ میرے پاس سے گزرتے! مجھے نوالہ بناتے۔ چباتے اور نگل جاتے”۔

”اے کاش میں تنکے کی طرح خس و خاشاک ہوتا! کاش میری ماں مجھے نہ جنتی!

یہ حسرتیں عام لوگوں کی نہیں، خلفائے راشدین کی ہیں! عقل مندوں نے ہمیشہ اقتدار سے جان بچائی۔ ایسے ایسے اہل اللہ بھی تھے کہ بادشاہ حاضر ہونے کی اجازت مانگتے تو انکار کر دیتے۔ کچھ اپنی رہائش گاہ چھوڑ کر غائب ہو جاتے!

اس لیے کہ اقتدار سانپ کا بِل ہے۔ یہ بچھوؤں سے بھری ہوئی غار ہے! جس نے اس کی خواہش کی اور اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کی، اس نے اپنے راستے میں کانٹے بوئے۔ اپنا انجام خراب کیا۔ جسے یقین نہ آئے وہ آج پرویز مشرف کا حال دیکھ لے! میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی ابتری، پراگندگی اور دربدری پر نظر دوڑائے! جنرل ضیاالحق کا دنیا میں انجام ذہن میں رکھے۔

کیاپرویز مشرف کو سزا اُنہی جرائم کی مل رہی ہے جن کا ذکر عدالت نے کیا ہے؟ ممکن ہے انہی کی ہو! مگر بہت کچھ ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہے! کتنے ہی سزائے موت کے قیدی آخری لمحات میں بتاتے ہیں کہ جس جرم کا ذکر دنیا کی عدالت میں کیا گیا، وہ ہم نے کیا ہی نہیں! مگر ہمیں معلوم ہے، سزا کس جرم کی مل رہی ہے! امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہ دعا منسوب ہے کہ اے اللہ! مجھے چیزیں اس طرح دکھا جس طرح وہ اصل میں ہیں! اس طرح نہیں جیسے نظر آ رہی ہیں (مفہوم)

نظر آتا ہے جو کچھ اصل میں ایسا نہیں ہے

مگر تم نے مری جاں مسئلہ سمجھا نہیں ہے!

عدالت نے سزائے موت دی! ملے گی یا نہیں، قادر مطلق ہی کو معلوم ہے!

پھر میڈیا پر جنرل صاحب کی (خدا انہیں صحت سے نوازے) وہ تصویریں گردش کرنے لگیں جن میں وہ دبئی کے کسی ہسپتال میں صاحبِ فراش ہیں۔ چہرے کا رنگ اور نقوش بدلے ہوئے ہیں، یہ سب کچھ دیکھ کر اور سزائے موت کا سُن کر، کالم نگار کو مشتاق رضوی یاد آ گیا! آہ! سید مشتاق حیدر رضوی!

یہ جنرل، صدر پرویز مشرف کے اقتدار کا عروج تھا۔ سیاست دان اُن کے حضور دست بستہ کھڑے تھے۔ بیوروکریٹ حکم کے غلام تھے۔ انڈونیشیا میں اس حکمران اعلیٰ نے اپنے ایک ذاتی دوست کو سفیر متعین کیا۔ اس نے وزارت خارجہ سے اور اسلام آباد سے پوچھے بغیر سفارت خانے کی عمارت، جو حکومت پاکستان کی ملکیت تھی، فروخت کر دی! مشتاق رضوی نے، جو فارن سروس کا پروفیشنل افسر تھا اور وہیں تعینات تھا، اس جرم کی اطلاع وزارت خارجہ کو دینے کا ”جرم” کیا۔ اسے منصب اور دفتر سے ہٹا کر سزا کے طور پر او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ وہ دھکے کھاتا رہا۔ جب ملک کا حکمران اعلیٰ ہی مخالف تھا تو شنوائی کہاں ہوتی! ایک دن اسی بے یارومددگار حالت میں شدید ذہنی کرب میں اسی بے گناہی کے جرم میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور نیب، دونوں اداروں نے تصدیق کی کہ اس سودے میں غبن ہوا تھا! تفصیل انٹرنیٹ پر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے! اس کالم نگار نے مشتاق رضوی کی بیوہ کو روتے، بلکتے اور جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے!

وفاقی شعبہ تعلیم کی سربراہی پر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ایک ایسے شخص کو تعینات کیا جو ریٹائرڈ تھا اور وفاق کے سول شعبے سے غیر متعلق! آپ کا کیا خیال ہے اسے کتنی بار اس منصب پر توسیع دی گئی ہوگی؟ پانچ بار! جن اساتذہ کا حق تھا، وہ جوتیاں چٹخاتے، عدالتوں میں دھکے کھاتے، ریٹائر ہو گئے۔ کئی مر کھپ گئے۔ غرہ اتنا تھا کہ یہ صاحب وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔

قوانین، ضابطے، رُول، ریگولیشن، سب روندے جاتے رہے! پوسٹل سروس آف پاکستان ایک ایسا محکمہ ہے جو سول (سی ایس ایس) افسروں پر مشتمل ہے! تیس پینتیس برس یعنی ساری پیشہ ورانہ زندگی کے بعد اس شعبے کا سینئر ترین افسر اس محکمے کی سربراہی تک پہنچتا ہے۔ جنرل صاحب نے یہ حق بھی اُس قلم سے قتل کیا جو اُن کے طاقتور ہاتھوں نے پکڑا ہوا تھا۔ ایک ریٹائرڈ جرنیل کو سربراہ بنا دیا گیا۔ جن کا حق تھا، جنہوں نے جوانیاں محکمے میں دفن کی تھیں، وہ ان صاحب کی ماتحتی میں ریٹائرڈ ہوتے گئے!

خصوصی عدالت کے ججوں کے ہاتھوں پر جو قلم تھے، کیا خبر اُنہیں چلا کون رہا تھا؟ جرم آئین کا قتل تھا؟ یا ان گنت حقداروں کے حقوق کا قتل؟ کون جانے! کون بتائے!

اب میاں نواز شریف صاحب کے انصاف کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ سابق سفیر جاوید حفیظ لکھتے ہیں ”میرا تبادلہ رنگون ہوا۔ ابھی مجھے رنگون میں چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ پھر اذنِ سفر ہوا! میں نے پوچھا: میرا قصور؟ جواب ملا، آپ نے کوئی غلطی نہیں کی! بس جو صاحب رنگون آنا چاہتے ہیں انہیں ہم روک نہیں سکتے۔ یہ دسمبر 1997 کی بات ہے میری جگہ نامزد سفیر میاں صاحب کے ہم زلف تھے یعنی مریم بی بی کے خالو۔ میری فیملی اگلے آٹھ ماہ دربدر رہی”۔

یہ صاحب کون تھے! ایک پرائیویٹ کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھے۔ وجہ ان کی تعیناتی کی، جو اس کالم نگار کے علم میں ہے، افسوسناک تھی۔ تفصیل رہنے دیجیے۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے فوراً بعد، وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں سفیر لگا دیا گیا۔ یہ ایک انوکھی اور مضحکہ خیزتعیناتی تھی!

جنرل ضیاالحق کے طویل عہدِ ہمایونی میں ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ آئین کا درجہ رکھتا تھا! لاتعداد مثالیں تاریخ کے اوراق کا حصہ ہیں، بیرون ملک تعیناتیوں کے حوالے سے ہر قانون کو پیروں تلے روندا گیا۔ نو، نو، دس، دس، سال تک مخصوص ”پسندیدہ” افسران ملک سے باہر، دلکش اسامیوں پر مزے اڑاتے رہے! پلاٹوں کی بندر بانٹ اُس زمانے میں عروج پر تھی۔ مشہور تھا کہ اردن میں اگر کوئی قریب سے بھی گزرا تھا، اسے نوازا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ صدر صاحب اپنے آپ کو آرمی چیف کے طور پر توسیع دیتے رہے!! کون تھا جو بولتا!

حدیث مبارکہ پھر یاد آ گئی۔ فرمان نبویؐ کا حق ہے کہ مسلسل اس کی تشہیر ہو یہاں تک کہ دماغوں میں راسخ ہو جائے۔

”جسے مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی اور تعلق کی بنا پر اہلیت کے بغیر دیا۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے اُس کا فرض مقبول ہے نہ نفل۔ یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے”۔

مفسرین نے یہ حدیث اُس آیت کے ضمن میں بیان کی ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ امانتیں صرف اُنہیں پہنچاؤ جو ان کے اہل ہیں!! جب یہ طے ہے کہ ذرہ بھر نیکی بھی دکھا دی جائے گی اور ذرہ بھر برائی بھی! تو اتنی حق تلفیاں، اتنی اقربا پروری، اتنی غلط بخشیاں کیسے چپکے سے گزر جائیں گی اور نوٹس نہیں لیا جائے گا؟

آج جنرل پرویز مشرف صاحب پورے ملک میں زیر بحث ہیں۔ ان کے حق میں دلائل کے انبار ہیں اور ان کے خلاف شہادتوں کے ڈھیر! مگر کیا معلوم، اُس عدالت میں جو کسی کو نظر نہیں آ رہی، جہاں گرما اور سرما کی کوئی تعطیلات نہیں ہوتیں، جہاں بھاری فیسوں والے وکیلوں کی ضرورت نہیں پڑتی، جہاں تاریخ لینے کے لیے پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے، جہاں کوئی جج سابق وکیل نہیں ہوتا نہ کوئی وکیل مستقبل کا جج ہوتا ہے، کیا معلوم اُس عدالت میں کون سا جرم بڑا جرم سمجھا جا رہا ہے؟ وہاں کتنے مشتاق رضویوں اور ان کی بیواؤں کو سُنا جا رہا ہے؟

وہاں میں محترم تھا اور وہ نادم کھڑے تھے

نظر مجھ سے چراتے تھے وزیر و شاہ میرے

بھٹو صاحب نے سات سینئر جرنیلوں کو محروم کرکے ضیاالحق صاحب کو آرمی چیف مقرر کیا۔ نواز شریف صاحب نے چار سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرکے جنرل کاکڑ کو چُنا۔ میاں صاحب نے جب جنرل پرویزمشرف کو چیف تعینات کیا تو اس وقت جنرل علی قلی خان اور جنرل خالد نوازخان جنرل مشرف سے زیادہ سینئر تھے۔ جو جرنیل تھری سٹار ہوتا ہے، جو کور کی کمانڈ کر چکا ہوتا ہے، وہ سربراہ کیوں نہیں بن سکتا؟ یہ دلیل کہ یہ سربراہ حکومت کی صوابدید ہے کہ کس کو چُنے، ایک بودی دلیل ہے۔ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ جسے محروم کر رہے ہیں اس کی وجہ بھی فائل پر لکھیے۔

غالب نے کہا تھا ؎

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

سارا مسئلہ ہی تو یہی ہے کہ جو ڈائری اُوپر جاتی ہے وہ کسی پرنسپل سیکرٹری یا کیبنٹ سیکرٹری کی لکھی ہوئی نہیں ہوتی! اُسے فرشتے لکھتے ہیں!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں