404

ناقصوں کے پیر کامل اور کاملوں کے رہنما. سیدنا عثمان بن علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش . علامہ نعیم جاوید نوری

54 / 100

ناقصوں کے پیر کامل اور کاملوں کے رہنما
سیدنا عثمان بن علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش*
بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئ خوف ھے اور نہ ہی وہ غمگین ھوتے ہیں”(القرآن)
برضغیرپاک وہند میں جن اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے.اپنے علم,وعمل,تقوی وکردار اور دینی سماجی محنت وخدمات کے ساتھ .اسلام کی شمع روشن کی,حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان معتبر شخصیات میں ہوتا ہے.جنہوں نے برصغیر پاک وہند میں شمع توحید کو روشن کیا. اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچایا اور لوگوں کو راہ خدا دکھائی اور مخلوق خدا کی بے مثال خدمت کی ۔ آپ ایک ایسی عالمگیر شہرت اور مقبولیت رکھتے ہیں کہ 431 ہجری میں آپ لاھور تشریف لائے.ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی آپ کا نام نامی اسم گرامی آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کے قلوب و اذہان میں ثبت ہے۔ ہدایت کا یہ چراغ سرزمین افغانستان کے شہر غزنی میں روشن ہوا اور اپنے علم وعمل کی روشنی سے کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو ختم کردیا ۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا امام حسن بن علی المرتضی شیرخداسے جا ملتا ہے اور آپ حسنی سادات میں جلیل القدر نامور شخصیت کے مالک ہیں ۔ مشہور روایات کے مطابق آپ سن 400 ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت علم و فن کے مرکز غزنی شہر میں ہوئی ۔ ذوق علم طلبی اور بلندئ ہمت کے پیش نظر غزنی کے ماہرین علوم وفنون سے وافر ابتدائ علم حاصل کرنے کے بعد آپ نے مزید اعلیٰ علوم و فنون کے حصول کے لیے اورعلم ومعرفت کی طلب میں دنیا کےدور دراز علاقوں کا سفر اختیار کیا۔
آپ کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اکثر و بیشتر عرصہ حیات طلب علم ، ریاضت,مجاہدہ اور بزرگوں کی صحبت و معیت میں گزار دیا ۔ آپ نے اپنے دور کے مشہور بزرگ شیخ ابوالحسن شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن الختلی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ آپ نے علم و فکر کی طلب میں بے شمار دور دراز ملکوں اور علاقوں کا سفر کیا جن میں عراق ، شام ، لبنان ، آزر بائیجان ، خراسان ، کرمان، خوزستان ، طبرستان ،
ترکمانستان اور ماوراءالنہر کے سفر اختیار کیے۔ علم و فن کے ساتھ ساتھ آپ نے ریاضت ومجاہد میں خوب دلچسپی لی اور بزرگان دین سے بہت زیادہ ظاہری وباطنی کسب فیض کیا ۔جن بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے فیض حاصل کیا ، ان میں آپ کے شیخ طریقت کے علاوہ حضرت ابوالقاسم علی بن عبداللہ الگرگانی ، تصوف کی مشھورزمانہ کتاب رسالہ قشیریہ کے مصنف حضرت امام ابوالقاسم قشیری ، ابوسعید الخیر ، شیخ احمد حماد سرخسی خاص شہرت و اہمیت رکھتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی پتا چلا کہ روحانی تربیت کے لئے اور روحانی فیوض و برکات کے حصول کے لئے ایک سے زائد شیوخ سے بھی فیض پانا پڑے تو ادمی متعدد اکابر اور روحانی شخصیات سے کسب فیض کرسکتا ھے ۔ علوم و فنون اور ریاضت و مجاہدہ کی تکمیل کے بعد آپ دین اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت میں مشغول ہوگئے۔ آپ نے اپنے دور میں بڑا ہی مثبت اور معیاری لٹریچر لکھا. بڑی بڑی کتابیں لکھنے کے علاوہ انسانوں کی کردار سازی کا کام بھی کیا۔ معاشرے کے غریب ونادار لوگوں کو اپنی شفقتوں سے نوازا.آپ کا دسترخواں بڑا وسیع تھا جہاں ہرغریب وامیر کو وقت کے مطابق کھانا میسرھوتا.
آپ سے ہزاروں علماء و مشائخ نے فیض حاصل کیا اور لاکھوں کی تعداد میں عوام الناس اور مریدین نے اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا درس لیا ۔ آپ اسلامی علوم کے ماہر استاذ اور میدان تصوف و روحانیت کے شھسوار مانے جاتے ہیں. آپ کی تصنیف کشف المحجوب کو بہت بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئ.یہی وجہ ھے کہ تصوف پہ لکھی گئ اس کتاب کے تراجم دنیا کی بیشمار زبانوں میں ھوچکے ہیں.
البتہ اردوزبان میں اس اہم کتاب کی شرح لکھے جانے کی ضرورت آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ آپ کے بعد آنے والے مختلف سلاسل کے تمام بزرگوں نے آپ کی اس کتاب کشف المحجوب کو زبردست پذیرائی اور اہمیت دی۔ اکثروبیشتر اکابر بزرگوں کی تصانیف اور ملفوظات ومکتوبات میں کشف المحجوب کے حوالے پائے جاتے ہیں اور ان اکابر اولیاء ومشائخ میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء حضرت عبدالرحمن جامی جیسے نام شامل ہیں ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا نے تو یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے روحانی مقامات اور درجات کو پانے کے لیے مرشد کامل کی تلاش میں ہواور اسے کوئ شیخ کامل نہ مل سکے تو وہ حضرت علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب کا مطالعہ کرے اس کی برکت سے اور اس کو رہنمائی اور ہدایت نصیب ہو گی۔ اس کے علاوہ آپ کی اور بھی کئی کتب ہیں جن میں سے فنا وبقا,حقوق اللہ,کتاب, البیان ہے اور شرح کلام منصور حلاج شامل ہیں۔ بہت سارے مشائخ نے آپ کو بڑے ہی اہم الفاظ کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا ہے اور بہت سے ممالک کی سیر و سیاحت کے بعد آپ نے پنجاب کے شہر لاہور کو اپنی قیام گاہ کاشرف عطا فرمایا اورطالبان علم کی پیاس بجھائی اور مخلوق خدا کی خدمت کی ۔ دین اسلام کی عظیم الشان خدمات سرانجام دینے اور اسلامی تعلیمات کی عالمگیر نشرواشاعت کا اعزاز آپ کو ملا ۔آج آپ کا 976 واں عرس مبارک لاھور میں بڑے تزک واحتشام سےمنایا جارہا ہے، آج بھی آپ کا روحانی فیض جاری ہے اورپوری دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں آنیوالے لوگ ظاہری وباطنی لنگر سے مستفید ہوتے ہیں۔ حضرت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری نے آپ کے مزار مبارک پر چلا کیا اور کسب فیض کرنے کے بعد.آپ کی شان میں وہ شعر کہا جو آج تک اہل محبت کی زبان پر جاری و ساری ہے ،
“گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما ”
آپ کے مزار پر ہر وقت خلق خدا کا ایک ہجوم رہتا ہے.جہاں دن رات تلاوت قرآن مجید ، درود سلام، نعت خوانی اور وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور روحانی بہار کا سماں معلوم ہوتا ہے ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے آپ کی بارگاہ میں کچھ اس انداز سے خراج تحسین پیش کیا ہے.
سید ہجویر مخدوم امم مرقد اوپیر سنجر راحرم خاکے پنجاب از دم او زندہ گشت
صبح ما از مہر ومااو تابندہ گشت
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری کا مزار مبارک پیر سنجر یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے لیے حرم کا درجہ رکھتا ہے پنجاب کی مٹی کی بہاریں آپ کےدم قدم سے ہیں”
.اس علاقے میں شمع توحیدکی جو روشنی ھے وہ آپکی دینی وروحانی محنت کا نتیجہ ھے.
جب سے آپکا مزار پاک محمکہ اوقاف پنجاب کے زیرانتظام آیا ھے.اس وقت سے آپ کے مزار عالیہ سے ملحق عظیم الشان جامع مسجد کے جو بڑے بڑے مشہور علماء و خطباءتعینات ھوئے ہیں. ان میں مناظراسلام حضرت مولانا محمد عمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ, حضرت مولانا سعید احمد نقشبندی علیہ الرحمہ.
کے بعد حضرت مولانا مقصود احمد قادری,مولانا محمد سلیم اللہ اویسی کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں.جامع مسجد حضرت داتا صاحب کے موجودہ خطیب مولانا مفتی محمدرمضان سیالوی نہ صرف جدید وقدیم علوم کا ماہر استاذ بلکہ ایک محترک وبالغ النظر معروف مذہبی اسکالرہیں.
حضرت داتا صاحب کا عرس مبارک ہر سال 18 ، 19، 20صفرکو لاہور میں ہوتا ہے. جہاں پوری دنیا سے اور بالخصوص پاکستان کے ہر چھوٹے بڑےشہر اور ہر نگر سے زائرین بڑی ہی عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری پیش کرتے ہیں ۔
محکمہ اوقاف پنجاب عرس کے موقع پہ عالمی محفل حسن قرات,عالمی تصوف سیمینار,قومی اہل قلم کانفرنس,قومی محفل سماع کے علاوہ تین روزہ بہت بڑے تبلیغی اجتماع کا اہتمام کرتا ھے.جس میں دنیا بھر سے علماومشائخ اور مبلغین قرآن وسنت کا پیغام محبت لوگوں تک پہنچاتے ہیں.مبلغین کو باقاعدہ گفتگو کرنے کے لئے علمی واصلاحی عنوانات دئیے جاتے ہیں.یوں کہا جاسکتا ھے کہ سرکاری سطح پہ ملک کا یی سب سے بڑا دینی وروحانی اجتماع منعقد ھوتاھے.
اس کے علاوہ عرس کے موقع پہ .جمعیت علمائے پاکستان,تنظیم اتحادامت,مصطفائ تحریک,تحفظ ناموس رسالت محاذ,لاھور,تحریک دعوت حق, مدینہ فاونڈیشن,سنی تحریک کے علاوہ بہت سی فلاحی ودینی اور سیاسی تنظییمیں,ادارے اور زندہ دلان لاھور پوری دنیا سے آنیوالے زائرین کی خدمت وسھولت کے لئے اپنے طورپر کیمپ لگاتے ہیں.لاھور کی گجربرادری کی دودھ سبیل تو عرس مبارک کا خاص جز ھے.
یوں محمکہ اوقاف پنجاب ,ان تنظیموں,اور اداروں کی طرف سے. زائرئن کے لئے لنگرشریف کا وافر اہتمام ھوتا.مگرارباب اقتدار کو اس پہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ھے کہ جتنا داتا صاحب کے مزار کےعطیات وچندہ جات اکٹھے ھوتے ہیں .اسکے مطابق مزار شریف کے زائرین اور مہمانوں کے لئے انتظامات ناکافی ھوتے ہیں.
داتا صاحب کے مشھور اقوال میں سے چند اقوال درج ذیل ہیں.
زندگی صرف اللہ کی رضا کے لئے گزارو
*اپنے نفس کو ہرحال میں غرور وتکبر سے بچاو.
*رزق حلال کو پورا اہتمام کرو لقمہ حرام سے بچو
*ماں,باپ کو اپنا قبلہ سمجھو
*استاذ کے حقوق کبھی ضائع نہ ھونے دینا.
*شریعت کی کامل اتباع ہی سے طریقت وحقیقت تک رسای ممکن ھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں