48

ناقدین کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں، عدالت کا کام سب کے ساتھ انصاف آئین کی بالادستی مقدم، ملک کیلئے قربانیاں دینے والے قابل احترام، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نیوز ایجنسیز) اراکین صوبائی و قومی اسمبلی وسینٹ کے پارٹی پالیسی سے انحراف سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63اے کی تشریح کے حوالے سے پی ٹی آئی کی سابق حکومت کی جانب سے دائر کئے گئے ’’صدارتی ریفرنس‘‘ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ناقدین کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں، عدالت کا کام سب کے ساتھ انصاف، آئین کی بالادستی مقدم ہے، ملک کیلئے قربانیاں دینے والے قابل احترام ہیں،پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ ریفرنس کے بعد عہدیداروں نے آئین کی خلاف ورزی کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے قربانیاں دے کر بھی ہمیشہ اداروں کا ساتھ دیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فوجی عدالت کے حق میں ووٹ دے کر آپ رو پڑے تھے اگر مستعفی ہوجاتے توکیا خیانت ہوتی،جس پر رضا ربانی نے کہا کہ اخلاقی جرات نہیں تھی۔ نمائندہ جنگ کے مطابق ’’صدارتی ریفرنس‘‘ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کیلئے کھڑی ہے، جب تک آئین کو ماننے والے ہیں ہمیں تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو لوگ تنقید کرتے ہیں ان کو کوئی نہ کوئی تکلیف پہنچی ہوتی ہے، عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں، عدالت کا کام سب کے ساتھ یکساں انصاف کرنا ہے، ذاتی کنٹرول اور برداشت لوگوں میں سے ختم ہوتی جارہی ہے، کوئی ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچے؟ ہم ملک و قوم کی خدمت کرتے رہیں گے، ملک کیلئے قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازلاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی تو رضا ربانی ایڈووکیٹ بطور پارلیمنٹیرین ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد آئینی عہدیداروں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، جمہوری اداروں پر بدنیتی پر مبنی تنقید کے دو طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں، یا تو ملک فاشزم کی جانب جاتا ہے یا سوویت یونین جیسا بن جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ آئین کیلئے کھڑے ہونے پر اداروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، جس پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، عدالت کا کام سب کے ساتھ انصاف کرنا ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، قربانیاں دے کر بھی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اداروں کا ساتھ دیا ہے، کوئی ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچے ملک کی خدمت کرتے رہیں گے، قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں، رضا ربانی نے اپنے دلائل میں پارٹی سے انحراف پر تاحیات نااہلی کے سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹی کی پالیسی سے انحراف پر آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) کا اطلاق نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کے دیئے گئے ڈیکلیریشن کا جائزہ لے سکتا ہے، تاہم الیکشن کمیشن بااختیار ہے، جسے دیکھنا ہوتا ہے کہ ڈیکلیریشن کے شواہد شکوک و شبہات سے پاک ہیں، انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ پارٹی سے وفاداری نہ کرنے والا بے ایمان بھی ہو؟ کاغذات نامزدگی میں دیا گیا حلف پارٹی سے وابستگی کا ہوتا ہے، اصل حلف وہ ہے جو بطور رکن قومی اسمبلی اٹھایا جاتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف پر رکن ڈی سیٹ ہوجاتا ہے، آرٹیکل تریسٹھ اے اراکین پارلیمنٹ کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہ دینے کا خوف دلاتا ہے، ارکان کو علم ہوتا ہے کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں دوسرے ممالک کی طرح ادارے نہیں بن سکیں، کیونکہ ریاست ارکان کو ایک سے دوسری جگہ بھیج کر حکومتیں گراتی رہی ہے، مغربی جمہوریت کی اقدار بہت بلند ہیں، ٹرین حادثہ پر وزیر مستعفی ہوجاتا ہے، لیکن پاکستان میں استعفیٰ دینے کا کوئی کلچر نہیں، پاکستان میں تو چند دن پہلے سابق وزیراعظم نے استعفیٰ نہیں دیا لیکن آئین کی سنگین خلاف ورزی کے لئے تیار تھا، انہوں نے کہا کہ انحراف کی سزا رکنیت کا خاتمہ ہے، عوامی عہدہ کیلئے نااہلیت نہیں ہے، اگر قانون سازوں کے پیش نظر منحرف رکن کو نااہل کرنا مقصد ہوتا؟ تو اس صورت میں مدت کا تعین بھی آئین میں کیا ہوتا، سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہی منحرف رکن کی شرمندگی کیلئے کافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں