31

نائیجیرین عدالت نے 6 سال کیبعد آیت اللہ زکزاکی اور انکی اہلیہ کو بیگناہ قرار دیدیا

41 / 100

عالمی میڈیا نے خبر دی ہے کہ نائجیریا کی تحریک اسلامی کے سربراہ آيت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کو زخمی حالت میں اہلیہ سمیت 6 سال قید کی صعوبتیں اٹھانے کے بعد تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے تحریک اسلامی نائجیریا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ نائجیریا کی عدالت نے آج آيت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے جس کے بعد اب انہیں عنقریب آزاد کر دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق آيت اللہ زکزاکی کو آج صبح سخت سکیورٹی میں “کادونا” کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پہلے ان کی اہلیہ اور پھر انہیں بھی عائد کئے جانے والے آٹھوں الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔ تحریک اسلامی نائجیریا کے بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ فیصلہ، حکومتی آزار و اذیت کے مقابلے میں نائجیرین مزاحمتی محاذ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں آيت اللہ زکزاکی کی بیٹی سہیلا زکزاکی کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ طبی غفلت کے باعث ان کے والدین کی صحت انتہائی خراب ہے جبکہ وہ دونوں (6 سال قبل) اپنی گرفتاری کے وقت سے زخمی ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر 2015ء میں نائجیرین فوج نے زاریا شہر میں واقع حسینہ بقیة اللہ پر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کر کے ہزاروں مسلمانوں کو شہید و زخمی کر دینے کے ساتھ ساتھ آیت اللہ شيخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں