16

نئے سال کے شروع ایام میں ہی ہنگامہ خیز سیاست کا آغاز

اسلام آبادنئے سال 2022کا آغاز سیاست کی جس ہنگامہ خیزی سے ہو رہا ہے اس کی ایک جھلک پانچ جنوری کو ہونے والی سیاسی سرگرمیوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اور یہ اندازہ بھی کہ آنیوالے ہفتے اور مہینے کیسے گزریں گے ،صرف بدھ کے روز سیاسی افق کے موضوعات پر ہونیوالی پریس کانفرنسوں کی تعداد بھی 10 کے لگ بھگ تھی، اس کے علاوہ سیاسی رہنمائوں اور اپوزیشن اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات الگ اور ان سرگرمیوں میں دو ایشوز سرفہرست تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے سکروٹنی کمیٹی کی تیار کردہ وہ تہلکہ خیز رپورٹ جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ تحریک انصاف نے بیرون ممالک لوگوں اور کمپنیوں سے بڑی تعداد میں جو فنڈز حاصل کئے لیکن حاصل کردہ رقوم کو نہ صرف بہت کم دکھایا گیا اور درجنوں بینک اکائونٹس اور عطیات کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ دوسرا ایشو لیگی رہنما پرویز رشید اور مریم نواز کی اس ٹیلیفونک گفتگو کی آڈیو ٹیپ کی ریکارڈنگ تھی جس میں دونوں مسلم لیگی رہنما بعض صحافیوں کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی اور جانبداری کا اظہار قابل اعتراض اور قابل مذمت الفاظ میں کر رہے ہیں، تاہم آج ہی کے دن مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل افتخار بابر کی پریس کانفرنس بھی تھی جس میں کئے گئے سیاسی سوالوں کے جواب میں ان کی پریس کانفرنس کے اس حصے کو سیاسی اور عوامی سطح پر زیادہ توجہ کا حامل اور موضوع بحث بنا دیا ،مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کراچی میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ’’منی بجٹ‘‘ کے مضمرات پر قومی اسمبلی میں مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق کیا جبکہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے ان کی رہائش گاہ پرملاقات کی جس کا ’’اعلانیہ ایجنڈہ‘‘ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مولانا سے ’’رہنمائی‘‘لینی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں