42

میں نے آپ کے لیڈرز کو سنا ہے، آپ بھی مجھےسنیں، شوکت ترین

55 / 100

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ہم پچھلی حکومتوں پر تنقید نہیں کرتے، ہم سب جانتے ہیں، میں نے بھی آپ کےلیڈرز کو سنا ہے، آپ بھی مجھے سنیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرخزانہ شوکت ترین نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں 20ارب کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارا تھا، ہم غریب، زراعت، پاور سیکٹر اور انڈسٹریز کا بھی خیال رکھیں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ فوڈ انفلیشن اس لیے ہوئی کہ آپ اس وقت فوڈ امپورٹر بن گئے ہیں، 70 فیصد دالیں ہم امپورٹ کرتے ہیں، 10سال میں زراعت پر کیوں سرمایہ کاری نہیں کی، 10سال میں کسی اجناس کی پیداوار میں ترقی نہیں ہوئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ انٹرنیشنل فوڈ انفلیشن بلند ترین سطح پر ہے، ہم زراعت بہتر کریں گے، پیداوار بڑھائیں گے، ہم ایک کنسٹرکٹو بجٹ لے کر آئے ہیں، ایکسپورٹ پر ٹیکسز ختم کردیئے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمیں برآمدات، برآمدات اور صرف برآمدات بڑھانی ہیں، چینی سفیر سے ملاقات میں بھی ایکسپورٹ بڑھانے پر بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے فور کلوژر لاء بحال کروایا، حکومت کو کریڈٹ دیں، حکومت نےپہلی مرتبہ غریب کیلئے سوچا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے جو بجٹ دیئے مجھے سب پتا ہے، اب ہم گروتھ کی طرف جا رہے ہیں، ہم غریبوں کو ان کےخواب کی تعبیر دینے جارہے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمیں 28 سے 30 ارب ڈالر ادا کرنے تھے جو قرض انھوں نے لیے تھے، آئی ایم ایف کے پاس مجبور ہوکر جانا پڑا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کوویڈ کی وجہ سے مسائل آئے پھر بھی ایکسپورٹ اور ایگریکلچر میں بہتری آئی، 50 فیصد مہنگائی کہاں ہے؟ مہنگائی ساڑھے11 فیصد ہے، فوڈ انفلیشن 13 فیصد ہے کیونکہ پاکستان فوڈ کا نیٹ امپورٹر بن گیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ کیوں پچھلے سالوں میں ہم نے زراعت میں سرمایہ کاری نہیں کی، بین الاقوامی فوڈ پرائسز اس وقت دس سال کی بلند ترین سطح پر ہیں، بنگلادیش میں 140فیصد، بھارت میں 102فیصد قیمتیں بڑھیں، ہم نے برآمدات کو بڑھانا ہے، خصوصی اقتصادی زونز کو ترقی دیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ چینی مینوفیکچررز خصوصی اقتصادی زونز سے برآمدات کریں گے، ہم نے گھروں کی تعمیرات کیلئے قرضے دیئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں