47

میر صادق اور میر جعفر کس کو بولا؟:

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اگرچہ خاصی پر زور وضاحت دی ہے کہ انھوں نے دراصل میر جعفر اور میر صادق شہباز شریف اور ان کے بھائی نواز شریف کو کہا ہے لیکن سوشل میڈیا صارفین کے خیال میں یہ ان کا ایک اور ’یو ٹرن‘ ہے۔
پیر کو پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں عمران خان کا کہنا ہے کہ کہ نواز شریف، مریم نواز فوج پر حملے کرتے ہیں اور ہم پر الزام لگائے جارہے ہیں۔ ‘
انھوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان پر فوج کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انھوں نے پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں اس بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میر جعفر اور میر صادق سے متعلق میں نے کوئی نئی بات نہیں کی، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مسلط حکمران اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں، یہ غدار ملک کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں، کرپٹ، چور، غدار ہمارے اوپر بیٹھے ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کا بڑا بھائی باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف بات کرتا ہے، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی فوج پر حملہ کرتی ہے مگر کیونکہ وہ خاتون ہے اس لیے اس کو کچھ نہیں کہا جاتا اور یہ ہمیں کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش کے بیانیے کا جب بھر ذکر آتا ہے وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے خلاف پاکستان کے ’میر جعفر اور میر صادق‘ نے امریکہ کا ساتھ دیا اور ان کی حکومت ختم ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین اور مریم نواز سمیت حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنما یہ کہتے نظر آئے آئے کہ چونکہ برصغیر کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق دونوں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں اس لیے عمران خان کا اشارہ بھی پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی جانب ہے۔
عمران خان کا یہ بیان اسی کی وضاحت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی حوالے سے بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی ٹویٹ کی کہ عمران خان نے میر صادق اور میر جعفر کی تشبیہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے استعمال کی تھی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے ابھی واضح کیا کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں، غیرملکی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔’
فوج کی جانب سے تنبیہ
یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور اس کے خلاف غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات دینے کی روش نقصان دہ ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘حال ہی میں پاکستان کی مسلح افواج کو ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں جان بوجھ کر گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔’
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘کچھ سیاست دانوں، چند صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے عوامی فورمز اور متعدد مواصلات کے ذرائع جن میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، براہِ راست، بالواسطہ اور حوالہ جات کے ذریعے مسلح افواج اور اس کی سینیئر لیڈرشپ کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔’
اعلامیے کے مطابق ‘غیر مصدقہ اشتعال انگیز اور ہتک آمیز بیانات دینے کی روش انتہائی نقصان دہ ہے۔ افواج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں شامل کرنا کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سب قانون کی پاسداری کریں گے اور افواج پاکستان کو ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں