69

میری جان کو خطرہ ہے، اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفے یا نئے انتخابات کی پیشکش کی، کل بڑا سرپرائز دوں گا، عمران خان

اسلام آباد(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کو(کل) بڑا سرپرائزدوں گا‘کپتان کی حیثیت سے اتوار کا پلان تیار کر رکھا ہے‘اگر ہم عدم اعتماد جیت جاتے ہیں تو بڑا اچھا ہے قبل از وقت الیکشن کی طرف چلے جائیں گے‘اکثریت سے آکرسارا گند صاف کروں گا‘ احتساب کے عمل میں جان بوجھ کر خلل ڈالا گیا، تاخیری حربے استعمال کئے گئے، ان لوگوں کو سازش، ڈیلز کے تحت بچایا گیا، احتساب کے عمل کو خراب کرکے ملک سے بڑی غداری کی گئی‘سب پتہ ہے، ہم بے بس تھے۔مجھے اپنے اقتدار کی نہیں اپنے عوام کی فکر ہے‘میری جان کو خطرہ ہے ‘ایک بڑا طاقتور ملک دورہ روس پر غصہ ہوگیا‘ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک عدم اعتماد، استعفیٰ یا الیکشن کی آفر دی‘اپوزیشن کہتی ہے امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہئے تھا ‘ مجھے ہٹانے پر سارے چورملکر کیسے حکومت چلائیں گے ‘فوج کے ساتھ تمام معاملات ایک پیج پر رہے ہیں، کسی معاملہ پر کوئی اختلاف نہیں ہوا۔میں کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا‘ہمیشہ چاہوں گا ہماری فوج مضبوط سے مضبوط تر ہو، کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے پاکستان کمزور ہو‘ اگر مضبوط فوج نہ ہوتو دشمن ہمارے تین ٹکڑے کرسکتا ہے‘ہم اپنی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں‘اپوزیشن کے سازشی عناصر میری کردار کشی بھی کریں گے، ابھی سے بتا رہا ہوں‘ انہوں نے مہم تیارکی ہوئی ہے ‘یہ ہرقسم کی غلط قسم کی باتیں کریں گے‘یہ میری بیوی کی کردارکشی کریں گے اور میری بیوی کی دوست فرح خان کی کردارکشی کریں گے ۔اپوزیشن کی جانب سے کردار کشی کے حوالے سے کوئی آڈیو ٹیپ بھی نکالی جاسکتی ہے‘لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی کی خدمات جاری رکھنے کے حق میں اس لئے تھا کہ میں نے ان کے ساتھ تین سال کام کیا اور میں یہ کہہ رہا تھا کہ سردیوں میں ملک پر سب سے مشکل وقت آنا ہے جو آج آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور ملک میں عدم استحکام ہو چکا ہے‘ جہاں ہماری معیشت اوپر جا رہی تھی اچانک سے نیچے کی طرف چلی گئی ہے‘اس وقت یہ بھی خدشہ تھا کہ افغانستان کے معاملے پر بھی حالات سنگین ہو سکتے ہیں اس لئے میں کہہ رہا تھا کہ سکیورٹی کے ماہر آدمی کو ایسے وقت میں ادارے کی سربراہی کرنی چاہیے جبکہ دوسری جانب رائے یہ تھی کہ فوج میں اپنا ایک نظام ہوتا ہے جس کے تحت پروموشن ہوا کرتی ہے لیکن یہ باتیں میرے ذہن میں نہیں تھیں کیونکہ میں تو بطور ملک کا چیف ایگزیکٹو ہو کر سوچ رہا تھا اور وہ اپنے نظریے کے مطابق سوچ رہے تھے اور میں دوسرے نظریے سے دیکھ رہا تھا لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ کسی کو آرمی چیف لگاؤں‘کبھی یہ میرے ذہن میں بھی نہیں آیا ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے حوالے سے (ن) لیگ نےڈس انفارمیشن مہم چلائی‘ بیرونی مداخلت پر سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو‘ سینئر صحافیوں سے گفتگو اوراسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنے انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی پذیرملکوں کو میر جعفر اور میر صادق کے ذریعےکنٹرول کیا گیا، ملک فتح کرنے کی ضرورت نہیں ‘ایسا شخص بٹھا دیں جو ذاتی مفادکیلئے ملک کامفاد قربان کردے۔ان میر جعفروں اور میر صادقوں کی شکلیں قوم کو دکھانا چاہتا ہوں تاکہ ہمیشہ کیلئے ان پر مہر لگ جائے‘ان کا کہنا تھاکہ مجھےاگست سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ گیم چل رہا ہے، لندن سے منصوبہ بندی ہورہی تھی، ایجنسیز کی رپورٹ تھی‘ میرے پاس سب رپورٹیں ہیں ، کون کس سفارتخانے میں جاتا ہے؟ کونسا سیاستدان جاتا تھا‘ کونسا صحافی ، اینکر جاتا تھا۔ پلاننگ پانچ چھ مہینے پہلے سے ہورہی تھی۔ان کی کوشش ہے اقتدار میں آئیں، نیب کو ختم کریں‘ یہ نوازشریف کی نااہلی ختم کریں گے اور نواز شریف کو بحال کریں گے۔مجھے حکومت بچانا ہوتی تو پہلے دن این آر او دے دیتا‘ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے آفر دی کہ تین چیزیں ہیں، عدم اعتماد کا ووٹ، استعفیٰ دے دیں یا الیکشن لیکن ہم نے کہا کہ الیکشن سب سے بہتر طریقہ ہے، استعفیٰ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ہمیں ملک کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرنی ہے، میرا کسی ملک سے مسئلہ نہیں ہے‘ ہمیں امریکا اور یورپ سے دوستی کرنا چاہیےمگر اس کی حد ہونی چاہئے ۔عمران خان نے مزید کہاکہ سب کے سامنے کہہ رہاہوں، میری جان کو خطرہ ہے، یہ جو سارے ملے ہوئے ہیں، ان کویہ پتا ہےکہ عمران خان چپ کرکے نہیں بیٹھنے والا۔دریں اثناءعمران خان نےجمعہ کو سینئرصحافیوں سے ملاقات کی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر گفتگومیں ان کا کہنا تھاکہ اتوار کو (کل )بڑا سرپرائز دوں گا۔میری جان کو خطرہ ہے، ہمارے سفیر کو کہا گیا کہ عمران خان ناقابل قبول ہیں، ہٹایا جائے‘کہا گیا دورہ روس سے متعلق فیصلہ عمران خان کا ذاتی فیصلہ ہے،وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عثمان بزدار کو ہٹانا سیاسی سمجھوتہ تھا‘آخری گیند تک لڑوں گا، کپتان کبھی بھی اپنا اسٹریٹجی شیئر نہیں کرتا، یہ ایک بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں سے اکثریتی فیصلے میرے خلاف آتے ہیں، کسی بھی ادارے میں کبھی کوئی مداخلت نہیں کی۔علاوہ ازیں ’’اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں بیرونی امداد کیلئے ہم نے خودداری، قومی سلامتی اور معاشی مفادات دائو پر لگائے، بیرونی امداد کی وجہ سے اپنے عوام کے مفادات کا سودا نہیں کرنا چاہئے‘ اس بنا پر تشکیل دی جانے والی پالیسیوں کی سب سے بھاری قیمت عوام نے چکائی اور اس کا فائدہ اشرافیہ کو ہوا۔جب تک پوری قوم اپنی قومی سلامتی کیلئے کھڑی نہیں ہوتی یہ 22 کروڑ کا ہجوم ہی رہے گا، فوج صرف محدود سکیورٹی دے سکتی ہے، عوام جب قوم بن جائیں تو وہ سب سے محفوظ ملک و قوم بن جاتے ہیں، کیوبا کی مثال سامنے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں