mera jism meri marzi tehreer mufti gulzar ahmed naeemi 401

میرا جسم میری مرضی۔ تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

میرا جسم میری مرضی۔
تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

آجکل سوشل میڈیا ہو کہ الیکٹرانک سب پر جناب خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد کا مکالمہ بلکہ ٹاکرا بہت ہی زبان زد عام ہے۔ اس قسم کی ابحاث ہمارے ملک میں بہت زیادہ شروع ہوچکی ہیں۔ایک طرف روایت پسند طبقہ ہے جو اپنی روایات پرپے در پے حملےہوتا دیکھ رہا ہے تو دوسری طرف ماروی سرمد،طاہرہ عبد اللہ اور جبران جیسے لوگ ہیں جو مغربی طرزحیات کو پاکستان کے اسلامی اور مشرقی معاشرے پر غالب کرنے کے درپے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابھی تک ہمارے معاشرے نے مغربی روایات کے نمائندوں کو پذیرائی نہیں دی۔چونکہ ان نمائندوں کے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو اسلامی طرزحیات اور مشرقی طرز فکر کے متبادل کے طور پر وہ پیش کرسکیں اس لیے ابھی تک انہیں خواہ طر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔شاید انہیں اس لحاظ سے کامیابی نہ مل سکے۔میری دانست میں انسانی ذھن صرف اسی نظام کو قبول کرتا ہے جس میں اسے انسانی فلاح کاکوئ پروگرام نظر آرہا ہو۔مغربی تہذیب خدائ تصور سے بالکل خالی ہے اس لیے توحید پرست معاشرہ اسے کبھی بھی قبول نہیں کرسکتا۔
گزشتہ صدیوں میں سلطنتوں کو وسعت دینے کے لیے جنگیں لڑی جاتی تھیں اور جنگجو اسلحہ کے زور سے اپنے رسوم ورواج بھی مفتوح اقوام پر مسلط کردیتے تھے۔کشور کشائی کا یہ شوق قوموں کے طرز حیات کو بھی بدل دیتا تھا۔لیکن اسلام نے اپنی تہذیب کو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور عدل و انصاف کے ذریعے انسانوں کے دلوں مین اپنا مقام پیدا کیا۔اسلام کےنظام اخلاق اور عدالتی نظام کی ایسی شاندار مثالیں موجود ہیں کہ اس کے مقابلے میں آنے والا کوئی نظام ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔اسلام سے پہلے عورت کو عام جانوروں کی طرح دیکھا جاتا تھا۔اسلام نے اسے بہت ہی قابل احترام رشتوں کا حسن عطا کرکے معاشرے میں اسکی نہ صرف عزت بڑھائی بلکہ اسے ایک ممتاز مقام عطا کیا جو مرد کو حاصل نہیں ہے۔کون سوچ سکتا تھاعورت کہ جسکی پیدائش کو باعث شرمندگی خیال کیا جاتا تھا اسے مرد کی طرح وراثت میں بھی شریک کر دیاجائے گا۔اسلام نے محروم عورت کو نہ صرف وراثت میں شریک کیا بلکہ اسے مختلف حیثیتیں عطا کرکے مرد سے زیادہ وراثت عطا کی۔مرد 4حیثیتوں سے وراثت لیتا ہے تو عورت 8 حیثیتوں سے وراثت کی حصہ دار بنتی ہے۔ماں بیٹی بیوی بہن نانی دادی وغیرہ۔ اس طرح عورت مرد کی بنسبت دوگنا وصول کرتی ہے۔
یاد رکھیں۔!کسی بھی معاشرہ کی مضبوطی اسکے نظریات ہوتے ہیں۔اگر معاشرہ نظریاتی طور پر مضبوط ہو تو وہ کبھی بھی کمزور نہیں ہوتا. وہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کو صنعتی یا مادی ترقی مضبوط نہیں بناتی اور نہ ہی اسے ترقی دیتی ہے۔مغرب نے مادی ترقی تو ضرور کی ہے مگر اسکا معاشرہ بدترین شکست وریخت کا شکار ہے۔معاشرہ کی ترقی کی جانچ اسکے مادی وسائل نہیں ہوتے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ معاشرہ کتنی مضبوط بنیادوں پہ کھڑا ہے۔اگر معاشرے سے طھارت اور پاکیزگی کو ختم کردیا جائے تو وہ بے جان ہوجاتا ہے۔عورت جب تک چاردیواری کا حسن رہی تب تک انسانی معاشرے اعلی روایات برقرار رکھے ہوئے تھے۔مغرب کے صنعتی انقلاب نے عورت کو چاردیواری سے نکال کر بازار میں لاکھڑا کیا۔اب وہ گھر کی ملکئہ حسن نہیں بلکہ بازار میں کاروباری اشیاء کو اپنے حسن کے ذریعے بیچ رہی ہے۔اب وہ کاروباری اشیاء کے ساتھ مارکیٹ کموڈٹی بن چکی ہے۔عصر حاضر کا نعرہ”میرا جسم میری مرضی” بھی اپنے پس منظر میں کوئی تہذیب و ثقافت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ہیچھے بھی مغربی دنیا کے معاشی مفادات ہیں۔ اس کے علاوہ اس نعرہ میں کچھ نہیں ہے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ این جی اوز کے ذریعے بھاری تنخواہوں پر ایسی خواتین کو کرائے پر لیا جاتا ہے اور ان سے پھر ایسےنعرہ لگوائے جاتے ہیں۔اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ عورت کو ماں بہن اور بیٹی کے قابل احترام مقام سے نیچے گرا کر اسے بازار میں برائے فروخت ہیش کردیا جائے۔یہ اسلام اور اسلامی معاشرتی نظام کے خلاف ایک تحریک ہے جسے مغربی ادارے چند خواتین کے ضمیر خرید کر پروان چڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔کوئی وقت تھا کہ جب یہاں پاکستان میں دائیں بازو کی قوتیں بہت طاقتور تھیں اور اس قسم کے نعرے لگانے کے لیے بہت حوصلہ درکار تھا مگر 2008 کے بعد یہاں بائیں بازو کی قوتوں کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ اور مغربی دنیا نے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔مساجد اور مدارس کو کمزور کیا گیا ۔اہل مذہب کو بے شمار پابندیوں کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔نتیجتا مغرب زدہ لوگوں کو کھلا میدان مل گیا۔اب بھی وہ معدودے چند ہی ہیں مگر حکومتیں میڈیا اور دیکر قوتیں انکا بھر پور ساتھ دے رہی ہیں جسکی وجہ سے قوت کا توازن ان کے حق میں تبدیل ہورہا ہے۔
ہمیں کوئی سمجھائے کہ ” میرا جسم میری مرضی” کا کیا مطلب ہے؟ اگر اسکا مطلب یہ ہے کہ میری شادی میری مرضی کے مطابق کی جائے تو سمجھ میں آتا ہے اور ہم بھی دینی تعلیمات کے مطابق اس حق مین ہیں کہ جس طرح ہم بیٹے کوبیوی کےپسند کا حق دیتے ہیں عورت کو بھی یہ حق ہونا چاہیے۔لیکن اگر اسکا یہ مطلب ہے کہ یہ میرا جسم ہے اور میں اسے زید کو فروخت کروں یا بکر کو،دن ایک کے ساتھ گزاروں تو رات دوسرے کے ساتھ، نہ مجھے باپ پوچھے نہ بھائی اور نہ شوہر۔تو اس سلسلے میں ہماری ان خواتین سے گزارش ہوگی کہ وہ اپنے والدین ،اپنے بھائیوں اور اپنے شوہروں کے خلاف جلوس نکالیں۔دین کو بدنام مت کریں۔اگر آپ بیوی کے مقدس مقام سے اتر کر لائف پارٹنر یا گرل فرینڈ کا عنوان اور روپ دھارنا چاہتی ہیں تو پھر آپ مذہب کو بدنام نہ کریں۔
مھذب دنیا کبھی بھی اپنے معاشرہ کو مادر پدر آزاد افراد کے حوالہ نہیں کرتی۔اگر افراد زمین کو خدا کی نافرمانی سے برباد کرنا چاہیں تو اللہ ایسا نہیں کرنے دیگا۔اللہ ایک دوسرے کے ذریعے شر کو ختم فرماتا ہے۔اگر کوئ مذہبی طبقہ سے ماروی سرمد کی مخالفت کرتا تو اب تک وہ جیل جا چکا ہوتا۔لیکن اس دفعہ اللہ نے ایک ڈررامہ نگار سے یہ کام لیا ہے۔فرمان خداوندی ہے ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذو فضل علی العالمین۔اگر اللہ لوگوں کو ایک دوارے کے ذریعے نہ روکتا تو زمین پرفساد ہوجاتی لیکن اللہ جہاں والوں پر فضل والا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں