30

میرا تحفہ میری مرضی، فوجیوں کو بھی پلاٹ ملتے، ان کی مرضی جو چاہیں کریں، عمران خان

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں ) سابق وزیراعظم و تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے توشہ خانے کے معاملے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرا تحفہ میری مرضی‘۔ توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ ریکارڈ پر ہے‘ہم نے توشہ خانہ کی چیزوں کی قیمت 15سے بڑھاکر 50 فیصد کی‘فوجیوں کو بھی ڈی ایچ اے میں پلاٹ ملتے ہیں تو ان کی مرضی وہ جو چاہیں کریں ‘ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا‘پیرکوصحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو نااہلی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں‘چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی آزاد باڈی کے ذریعے ہونی چاہیے‘میری حکومت کے خلاف باہر اور اندر سے ملکر سازش ہوئی ۔ اللہ کا شکر ہے3سال بعد اگر انہیں میرے خلاف کچھ ملا تو توشہ خانہ ملا‘مافیا کو این آر او 2 مل گیا ہے لیکن قوم کو آزادی کے لیے نکلنا ہوگا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں چھوڑنے کا پلان بنا رہے ہیں ۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کی بہت سے باتوں کا علم ہے مگر کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے ملک کو نقصان پہنچے، ہمارے لیے مضبوط فوج بے حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے پاک فوج کو نقصان ہو۔ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا تھا‘ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا۔الیکشن کمیشن نے بروقت حلقہ بندیاں نہ کر کے نااہلی کا مظاہرہ کیا، الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ملک میں قبل از وقت انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔پنجاب میں عثمان بزدار کو ہٹانے کا فیصلہ درست نہیں تھا‘عمران خان نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنا غلطی تھی، ہمیں غیر ضروری طور پر عدالت سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ریفرنس اس وقت وزارت قانون کی جانب سے بھیجا گیا تھا، میرا کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں۔میں نے کسی کو ڈیڈ لاک کے خاتمے کی درخواست نہیں کی‘ اسٹیبلشمنٹ نے ہماری سینئر قیادت سے ملاقات کے بعد 3 آپشنز پر بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ آخری رات اینکرز اور پارٹی اراکین کے سوا کسی سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جنوری سے بننے والے منصوبے میں حسین حقانی بھی اہم ملاقاتیں کر رہا تھا۔میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں‘ان کا کہنا تھا کہ فرح خان کے حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔پارٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کے غلط سروے پر جلدی میں فیصلے کیے‘ اتحادیوں کوٹکٹ دے کر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ روس کے دورے سے قبل جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کرکے ان کی رائے لی کہ کیا اس صورت حال میں بھی دورہ ہونا چاہیے تو جنرل باجوہ نے رائے دی کہ دورہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایک صدر نے گھر پر تحفہ بھجوایا جسے توشہ خانہ بھیج کر 50 فیصد قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں