میجر راجہ عزیزبھٹی شہید 60

میجر راجہ عزیزبھٹی شہید

میجر راجہ عزیزبھٹی شہید
تعارف:
میجر راجہ عزیز بھٹی پاکستانی فوج میں نشانِ حیدر پانے والے تیسرے اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے واحد فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 12 ستمبر 1965ء کو بی آر بی نہر پر دشمن کے ایک بہت بڑے حملے کو پسپا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور بے مثال بہادری، ولولہ انگیز قیادت اور اہم جنگی کارنامے کے دوران وہ دشمن کے گولے کانشانہ بن کر شہید ہوئے ۔ انہوں نے چند جوانوں کے ساتھ ملکر دشمن کے ایک بہت بڑے حملے کو روکا اگر یہ حملہ نہ رکتا تو دشمن لاہور پہنچ کر ہی دم لیتا۔ ان کی بہادر ی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ان کو تاریخ ’’محافظ لاہور ‘‘کے نام سے یاد کرتی ہے۔
ابتدائی زندگی:
میجر راجہ عبدالعزیز بھٹی (پورا نام عبدالعزیز بھٹی) کا تعلق راجپوت کے گھرانہ سے تھا ۔بلاشبہ ان کے اندر راجپوتوں کی دلیری،شجاعت،مردانگی،اولعزمی اور بہادری و جرات وراثتی انداز میں شامل تھیں۔ان کا گھرانہ اسلامی اقدار کی پاسدای میں ایک مثالی گھرانہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ان کے دادا اور دادی راسخ العقیدہ بزرگ تھے اور دونوں پورے خاندان میں عبادت اور ریاضت کی وجہ سے مشہور تھے۔ان کے والد محمد عبداللہ جہلم کے ایک گاؤں لادیاں میں1889 میں پیدا ہوئے ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گاؤں عظیم مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے آباد کروایا تھا اور اس دورسے آبادتھا ۔تاریخ کا طالب علم یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ1889کا دور اہل اسلام کیلئے نہایت ابتری اور بد حالی کا دور تھا۔ 1857کی جنگ آزادی ان کے لئے طعنہ بن کر رہ گئی تھی۔مسلمانوں کا اس دور میں کوئی بھی پارسان حال نہ تھا۔مسلمانوں کی اکثریت ہندوستان سے دوسرے ملکوں کا رخ کر رہی تھی۔مگر لازمی بات یہ ہے کہ غریب اور بے یارومددگار لوگ تو ملک سے باہر بھی نہیں جا سکتے تھے۔کیونکہ سرمایہ کی کمی یا عدم دستیابی بھی آڑے آتی تھی۔اسی دور میں انکے والد نے انتہائی ناساز گار حالات کی وجہ سے ہانگ کانگ جانے کا پختہ ارادہ کر لیا۔خاندان کے بزرگوں نے انہیں جانے کی اجازت دے دی مگر ان کو شادی کرنے کا کہا گیا۔چنانچہ ان کی شادی ہوئی اور وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہانگ کانگ گئے۔راجہ محمد عبداللہ نے ہانگ کانگ پہنچ کر یہ چاہا کہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر لیں مگر نا موافق حالات کی وجہ سے وہاں کوئی بھی کاروبار شروع نہ کر سکے۔ان کی ذہنی مطابقت چونکہ فوجی ملازمت سے نہ تھی چنانچہ کسی نہ کسی طرح انہوں نے ہانگ کانگ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت حاصل کر لی۔
1934تک وہ اسی محکمہ میں ہی ملازم رہے۔ہانگ کانگ میں سکونت کے دوران ہی ان کے تمام بچے پیدا ہوئے۔ان کے بعد ان کے ہاں 8ستمبر1920کو ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نذیر بیگم رکھا گیا۔اسکے بعد ان کے ہاں 28جنوری1922کو ایک بیٹے بشیر احمد نے جنم لیا مگر ابھی وہ محض 15،14برس کے ہی تھے کہ جاپانیوں نے انہیں انگریز ہونے کے شبہ میں قتل کر دیا۔بشیر احمد کے بعد راجہ محمد عبداللہ کے ہاں اس بچے نے جنم لیا جس کی وجہ سے محمد عبداللہ تاریخ پاکستان کے قابل فخر رکن بن گئے ۔6اگست1923کو پیر کا روز تھا جب راجہ عبدالعزیز بھٹی پیدا ہوئے۔دیار غیر میں جب اس نو مولود نے جنم لیا تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھاکہ یہ نو مولود اسلامی ریاست میں سب سے بڑا فوجی اعزاز پائے گا۔ ہانگ کانگ تو برطانیہ کی ایک نو آبادی تھی۔وہاں کیا خبر تھی کہ اس نومولود کی پیدائش کے 24برس کے بعد اس کی پیدائش کے ہی مہینے میں ایک مسلم ریاست آزاد ہو جائے گی اور یہی نومولود اس آزاد مسلم ریاست میں سب سے بڑا فوجی اعزاز حاصل کرے گا۔اگست کا مہینہ میجر عبدالعزیز بھٹی کیلئے بڑا ہی اہم ثابت ہوا کیونکہ 6اگست کو وہ پیدا ہوئے اور 14اگست کو پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔
تعلیم:
میجرعزیز بھٹی شہید کا پورا خاندان ہانگ کانگ میں مقیم تھا۔ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے گھر میں خوشحالی تھی۔ان کے والد گرامی وہاں کے ایک مقامی سکول میں ایک معلم کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تھے۔جب وہ ذرا بڑے ہوئے تو ان کو اسی سکول یعنی ایس کدوری سکول میں داخل کروا دیا گیا۔میجر عزیز بھٹی نے اس سکول میں مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔مڈل کے بعد آپکو کوئنیز کالج میں داخل کروا دیا گیا۔جب آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو جاپان نے ہانگ کانگ پر دوسری جنگ عظیم کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔چنانچہ ناگزیر حالات کی وجہ سے آپ مزید تعلیم حاصل نہ کرپائے۔اسی اثنا میں ان کے چھوٹے بھائی بشیر احمد کو ان کی سرخ و سفید رنگت کی وجہ سے جاپانیوں نے انگریز سمجھ کر قتل کردیا۔یہ صدمہ پورے خاندان کیلئے بے حد دردناک تھا مگر نا گفتہ بہ حالات میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔جب حالات قدرے نارمل ہوئے تو میجرراجہ عزیز بھٹی نے بحری فوج میں بطور واچ مین شمولیت اختیار کرلی۔وہ ایک بیدار مغز انسان تھے۔انہوں نے خداداد صلاحیتوں کی بنا پر خوب ترقی کی اور ہیڈواچ مین بن گئے۔ اس کے بعد آپ کپتان کے کورس کی بھی عملی تربیت حاصل کرنے لگے۔یہ سلسلہ 1945تک جیسے تیسے چلتا رہا مگر ان کے والد نے مناسب یہی خیال کیا کہ اب دیار غیر میں رہنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔چنانچہ 1945میں ان کا خاندان واپس مادر وطن آگیا۔ان کا مسکن ایک مرتبہ پھر آبائی گاؤں لادیاں بنا۔یہاں آکر سب سے پہلے میجر عزیز بھٹی کی شادی ہوئی یعنی آمد کے ایک برس کے بعد اور میجر صاحب کی زندگی کے انیسویں برس جون 1946 میں آپ کی شادی سابق نائب صوبیدار اکرم الدین بھٹی صاحب کی صاحبزادی کے ساتھ انجام پائی۔ان کی زوجہ محترمہ کا نام زرینہ اختر تھا۔میجر عزیز کے ہاں چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیداہوئیں۔آپ کے بیٹوں کے نام ظفر جاوید،ذوالفقاراحمد،رفیق احمد اور اقبال جاوید ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام رفعت آراء ، اور زینت آراء ہیں۔
سیرت و کردار:
میجر عزیز بھٹی شہید کی سیرت بہت سی خصوصیات کا مرقع تھی۔وہ مضبوط اور سڈول جسم کے مالک تھے جبکہ ان کا قد موزوں تھا نا طویل قامت تھے اور نہ ہی پست قامت ۔ان کی آنکھیں قدرتی طور پر خمار آلود تھیں اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہر کس و ناکس کے بس کا کام نہ تھا۔بظاہر وہ ایک معصوم صورت اور بھولے بھالے سے تھے لیکن بے حد ذہین و فطین شخصیت کے مالک تھے۔مڈل کے بعد جب انہوں نے کوئنز کالج میں میٹرک کرنے کیلئے داخلہ لیا تو انکی ذہانت اور قابلیت کے سبھی اساتذہ معترف ہو گئے۔ان کی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے ہی ان کے پرنسپل نے برطانوی حکومت سے سفارش کی کہ اس ہو نہار طالب علم کو وظیفہ عطا کیا جائے۔یہ سفارش منظور بھی ہو گئی مگر شو مئی قسمت کہ اسی دوران ہانگ کانگ پر جاپان نے قبضہ کر لیا۔چنانچہ ان کا وظیفہ جاری نہ ہو سکا ۔صرف یہی نہیں بلکہ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی یکدم ختم ہو گئیں۔مگر اس سے ان کی ذہانت و قابلیت ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کا مطالعہ کا شوق مزید بڑھ گے۔جب ان کو سکول میں داخل کروایا گیا تو وہ بیک وقت فٹبال ،کرکٹ،ہاکی اور ٹینس کی ٹیموں میں کھیلا کرتے تھے۔کھیلوں کے علاوہ ان کی خصوصی دلچسپی موسیقی میں بھی تھی۔اوائل عمری میں ہی وہ ہارمونیم اور مارتھ آرگن کے ماہر تھے۔فوج میں شمولیت کے بعد وہ اکثر اوقات محافل میں آرگن اور مارتھ ہارمونیم بجا کر محفل کو لوٹ لیا کرتے اور حاضرین اس دوران مبہوت ہو کر بیٹھے رہتے تھے۔چونکہ ان کی پرورش انگریزی اور چینی ماحول میں ہوئی تھی اس لئے انہیں چینی اور انگریزی دھنیں بے حد پسند تھیں۔جبکہ ان کو انگریزی اور جرمن زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔مطالعہ کے شوق کی وجہ سے انکے پاس معلومات کا گویا سمندر موجود تھا۔کوئی بھی موضوع ان کی دسترس سے باہر نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب 1949میں کا کول ملٹری اکیڈیمی کے جریدہ (رائزنگ کریسنٹ)کا اجراء ہوا تو ان کے مضامین نے گویا تہلکہ مچا کر رکھ دیا۔اب انکی پہچان ایک ادیب کی ہو گئی تھی۔ میجر عزیز بھٹی ایک درد مند انسان تھے اور اگر آپ کو یہ معلوم ہو جاتا کہ کوئی شخص پریشان حال ہے تو وہ از حد پریشان ہو جاتے اور حتی الامکان اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے۔اگرچہ ان کی عادات میں فضول خرچی شامل نہ تھی مگر جب کسی کی مدد کرنے کا موقع آتا تو ہو ہر ممکن طریقے سے ا س کی مدد کرتے ۔وہ پاکستان کے عوام کے مسائل پر بھی اکثر فکر مند رہتے ۔ایک مرتبہ وہ بے حد ملول خاطر ہوئے جب 1965میں صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا۔ ان کے دیگر دوست بہت خوش تھے مگر انہوں نے ان سے کہا کہ دوستو !جیسا کہ تم سب جانتے ہو کہ ملک ابھی غربت کے دور سے گزر رہا ہے اور میرے خیال میں تو ملک اس قدر بڑی تنخواہوں کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نظر میں پاکستان کے عام معاشی حالت پر بھی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح پاکستان کے قومی خزانے پر بوجھ پڑے گا۔
ابتدائی زندگی:
میجر راجہ عزیز بھٹی نے جس معاشرہ میں پرورش پائی وہاں تعصب اور انا پرستی نہیں تھی۔لوگ مساویانہ انداز میں زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔ان کی گھریلو زندگی سادگی سے بھر پور دکھائی دیتی تھی جس کا ماحول نہایت ہی خوشگوار تھا۔میجرعزیز بھٹی نے ابتدائی زندگی کے تقریبا22 برس ہانگ کانگ میں بسر کئے ۔جہاں ہر طرح کی نسل کے لوگ آباد تھے۔وہ 22 سال کی عمر میں وہ اپنے والد گرامی کے ساتھ واپس آگئے۔یہ ہر طرح سے مشکل مرحلہ تھاکیونکہ انہوں نے پہلی مرتبہ اس سر زمین کو دیکھا تھا جو دراصل ان کی مادر وطن تھی۔مگر اس معاشرے میں اور ہانگ کانگ کے معاشرہ میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔دوسرے یہ کہ ان کا خاندان ہانگ کانگ سے خوشگوار یادیں نہیں لے کر آ رہا تھا۔کچھ ہی عرصہ قبل عزیز بھٹی کے چھو ٹے بھائی بشیر احمد وہاں قتل کر دئیے گئے تھے۔یہ صدمہ پورے خاندان کیلئے بہت بڑا سانحہ تھا۔میجر راجہ عزیز بھٹی اصولوں پر سخت کاربند رہنے والے انسان تھے۔اور یہ بھی تھا وہ اصولوں پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔ کسی قسم کی مصلحت ان کو اصول پسندی سے ہٹا نہیں سکتی تھی۔جب وہ ہانگ کانگ سے واپس وطن آئے تو انہوں نے محنت کو ہی اپنا شعار بنا یا اور اپنے آپ کو مایوسی کی دلدل میں نہ دھکیلا بلکہ ایک سکول میں ملازم ہو گئے۔کیونکہ انہوں نے انگریزوں کے درمیان زندگی گزاری تھی لہذا ان کو انگریزی زبان پر مکمل دسترس حاصل تھی۔وہ جلد ہی ایک استاد کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔میجر عزیز بھٹی نے اسکول میں ملازمت تو اختیار کر لی مگر وہ اس ملازمت میں اپنا دل نہ لگا سکے۔ان کے ساتھی اساتذہ ان کی قابلیت ا ور علمیت کے دلی طور پر معترف تھے مگر قدرت نے تو ان کو کسی اور ہی مقصد کے لئے چنا تھا۔
عملی زندگی:
1945 میں جب یہ خاندان واپس اپنے آبائی گاؤں لادیاں آیا تواس کے پاس کوئی معقول ذریعہ روزگار نہ تھا۔مگر اس خاندان کے ہر فرد کے حوصلے جوان تھے۔اس خاندان کے سربراہ محمد عبداللہ نے پہلی فرصت میں یہ کیا کہ ایک مقامی سکول میں بطور استاد ملازم ہو گئے۔وہ ماہر تعلیم تھے۔یہ وہ وقت تھا جب بہت ہی کم لوگ پڑھے لکھے ہوتے تھے اور انگریزی دان تو مقامی لوگو ں میں شازو نادر ہی ملتے تھے۔ایسے میں آپ کی عزت حد درجہ بڑھ گئی۔ناصرف محمد عبداللہ صاحب ایک سکول میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہو گئے بلکہ ان کے صاحبزادے راجہ عزیز بھٹی بھی ایک سکول میں بطور معلم ملازم ہو گئے۔ راجہ عزیز بھٹی نے اس سکول میں محض چند ماہ ملازمت کی کیونکہ تب ملازمت ایک طرح سے ان کی معاشی مجبوری تھی۔جب حالات قدرے بہتر ہوئے تو انہوں نے فوج میں شمولیت کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔1946میں انہوں نے ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور بطور ائیرمین ملازم ہو گئے۔ ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ پاکستان برطانوی استبداد سے آزاد ہو گیا۔ان کی قابلیت اور لیاقت کی بدولت 21جنوری 1948کو پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول سے منسلک کردئیے گئے ۔انہوں نے اس کورس کے دوران اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔میجر عزیز بھٹی شہید کی قابلیت کا اندازہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ 1950میں انہوں نے فوج میں شامل ہونے کے بعد دو سالہ تربیتی کورس مکمل کیا اور سیکنڈ لفٹنینٹ بن کر پنجاب رجمنٹ میں 14اپریل 1950کو شامل کر دئیے گئے۔راجہ عزیز بھٹی نے محض چند ماہ بعد ہی میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا لیا۔1951 تا 1953کے دوران انہوں نے ایڈجوٹنٹ کی خدمات سرانجام دیں۔1953 تا 1956کے دوران وہ کیپٹن ایڈجوٹنٹ ،مارٹر آفیسر اور کمپنی کمانڈر جیسے عہدوں پر فائز رہے۔وہ کیڈٹ جس نے 1950میں اپنا تربیتی کورس مکمل کیا ہو اس کے لئے یہ کس قدر حیرت انگیز ترقی ہے کہ محض چھ برس کے عرصے میں وہ ایک کیڈٹ سے اعلی آفیسر بن جائے۔1956ء میں جب وہ کینیڈا سے دس ماہ کی ٹریننگ کے بعد وطن واپس آئے تو انہوں نے اپنی تربیت کو اعزازی حیثیت سے مکمل کیا۔چنانچہ واپسی پر آپ کو میجر کے رینک پر ترقی دے دی گئی۔یہ ترقی صرف اور صرف چھ برسوں کی محنت شاقہ کا مرہون منت ہے۔راجہ عزیز بھٹی جولائی1957تا ستمبر1959کے دوران جہلم اور کوہاٹ کے علاقوں میں جی ایس llآپر یشنز کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔وہ جون 1961تا جون 1964تک پنجاب رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر بھی رہے۔انہی اوصاف کی وجہ سے ان کو سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیلٹکس کوئٹہ میں انسٹریکٹر تعینات کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کو مئی 1965میں 17پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ ان کمان کی حیثیت سے تعینات کر دیا گیا۔بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو وہ برکی کے محاذ پر بطور کمپنی کمانڈر تعینات تھے اور اسی عہدہ پر وہ شہید ہوئے۔
شہادت اور نشان حیدر:
جنگ زوروں پر تھی اور 4ستمبر 1965ء تک کشمیر کے تمام محازوں پر افواج پاکستان نے غلبہ پا لیاتھا۔صورت حال بھارت کے انتہائی مخالف تھی کیونکہ اس کی فوج مسلسل پسپائی اختیار کر رہی تھی۔اس جنگ کا آغاز بھی تو اسی نے کیا تھا اور اب الٹی آنتیں گلے میں پڑ رہی تھیں۔اس کے ماہرین اپنی تمام تدابیر آزما چکے تھے۔صورت حال یہ تھی کہ پاک فوج دریائے توئی عبور کر کے راجوڑی کے محاز پر بھارتی سورماؤں کی دوڑیں لگوا رہی تھی۔بھارتی سورما بد ستورپسپائی اختیار کئے ہوئے تھے۔جوڑیاں کا محاذ 5ستمبر1965کے روز پاک فوج کے کنٹرول میں آگیا اور چھاؤنی پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔اس دوران سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔سلامتی کونسل کی دھجیاں اڑانے کا بھارت نے فیصلہ کر لیا اور اب اس نے یہ چاہا کہ پاکستان پر ہی قبضہ کیا جائے۔ اس نے کشمیر میں اپنی ہزیمت کی خفت کو مٹانے کی خاطر 6ستمبر1965ء کو پاکستان میں جنگ چھیڑ دی۔ 6ستمبر1965ء کو ساڑے گیارہ بجے صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے اچانک ریڈیو پاکستان سے قوم سے خطاب کیا اور موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا ۔اسی کے ساتھ ہی انہوں نے باقاعدہ جنگ کا بھی اعلان کر دیا۔دوسری جانب بھارتی فوج نے بڑی سرعت کے ساتھ پاکستانی آبادیوں کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ آدھی رات کے وقت پاکستان کی متذکرہ بالا سرحدوں پر اچانک بھارتی افواج نے حملہ کر دیا۔اس دوران میجر عزیز چھٹی پر تھے۔ان کو فوری طور پر محاذ جنگ پر پہنچنے کا حکم دیا گیا۔جب وہ اپنے گھر والوں سے رخصت ہو رہے تھے تو یہ کوئی خوشگوار لمحات ہرگز نہیں ہوں گے۔گھر سے چلتے وقت وہ محاذ کی صورت حال سے بے خبر تھے۔وہ محاذ جنگ پر تقریبا ًساڑھے سات بجے کے قریب پہنچے۔اسی اثنا میں ان کو یہ اطلاع ملی کہ بھارتی فوج ہڈیارہ کی جانب بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ بھارتی فوج ان سے صرف 6ہزار گز دور ہے۔یہ ایک بالکل ہی مختلف صورت حال تھی۔جس کا اندازہ بحر حال بھارت کے فوجی نہیں کر رہے تھے۔اس ابتدائی حملہ نے سب سے آگے آنے والی بھارتی کمپنی کے پر خچے اڑا کر رکھ دئیے۔مگر اچانک ایک گولہ اس چوکی کے بالکل نزدیک آن گرا جس پر میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوان جوابی کاروائی کر رہے تھے۔دشمن کو میجرعزیز بھٹی کے ٹھکانے کا علم ہو گیا تھا۔بھارتی فوج نے اب ٹینکوں کی مدد سے بھی حملے کا آغاز کر دیا۔ان کے لئے لمحات نہایت فکرمندی کے تھے۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس پیش قدمی کو روکنے کا ایک ہی حل ہے کہ بی آر بی لنک کنال کا پل توڑ دیا جائےوگرنہ بھارتی فوج کو لاہور میں داخل ہونے سے روکنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔دراصل اب جنگ صرف ایک ہی مقصد کیلئے زوروں پر تھی کہ پل پر قبضہ کر لیا جائے یا پل کو تاڑ دیا جائے۔ابھی یہ کاروائی ہو ہی رہی تھی کہ بھارتی فضائیہ نے بھی برکی محاذکا رخ کر لیا۔انہی کاروائیوںمیں 7ستمبر کا سورج غروب ہو گیا ۔خوفناک جنگ کا تیسرا روز شروع ہو چکا تھا۔یہ 8ستمبر 1965کی صبح تھی کہ بھارتی سورماؤں نے محاذ کارخ بدلنے کی کوشش کی اور چھنک ونڈی کی جانب سے حملہ کر دیا۔میجرعزیز مسلسل تین روز سے بھوکے اور بے آرامی کی حالت میں محاذ جنگ پر بر سر پیکار تھے۔آفرین ہے میجر عزیز بھٹی پر کہ انہوں نے محض ڈیڑھ دو سو سپاہیوں کی مدد سے شہر کی حفاظت بڑی کامیابی سے کی اور اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔9ستمبر کی صبح کا آغاز بھی ہو گیا۔9ستمبر کی صبح ہی بھارت کی فضائیہ اس چوکی کو نشانہ بنایا جو ان کی تباہی و بربادی اور لاہور میں ان کے داخلے کی راہ میں حائل تھی۔حملہ اگرچہ بہت شدید تھا مگر اس حملے سے اس چوکی کو کوئی خاص نقصان نہ پہنچا۔گیارہ ستمبر 1965کا سورج جب طلوع ہوا تو میجر عزیز بھٹی نے فیصلہ کر لیا کہ کسی نہ کسی طرح یہ پل آج ہی تباہ کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس چوکی کو خیر آباد کہہ کر کھلے میدان ہی میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔مگر یہ سارا دن بھی شدید جنگ میں گزر گیا اور پل تباہ نہ ہو سکا۔بارہ ستمبر 1965کا دن جب طلوع ہوا تو میجر عزیز بھٹی ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر اپنے توپ خانے کو ہدایات دے رہے تھے۔پاک فوج کے توپ خانہ کی گولہ باری میں وہ شدت نہ تھی چنانچہ بھارتی فوج نے پل کی طرف سے اپنے ٹینکوں اور پیدل فورس کو بڑھانا شروع کر دیا۔انہوں نے توپ خانے کو حکم دیاکہ اپنا تمام تر تجربہ اس پل کو اڑانے میں خرچ کر دے۔آخر کا پل کو اڑا دیا گیا مگر اسی اثنا میں ایک گولہ میجر عزیز بھٹی کو آن لگا جو ان کی چھاتی چیرتا ہوا دوسری جانب نکل گیااور ان کو شہادت کے رتبے پر فائز کر گیا۔ان کی قربانی نے لاہور کو بھارتی فوج سے بچا لیا ۔جب پل تباہ ہو گیا تو بھارتی فوج کی تمام تر منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی۔میجر صاحب کی میت کو پورے احترام سے ان کے آبائی گاؤں لادیاں میں پہنچا دیا گیا جہاں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انہیں دفن کر دیا گیا۔صدر پاکستان نے ان کو اس عظیم قربانی کے صلے میں ملک کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز سے نوازا۔
خراجِ تحسین:
نشان حیدر کا اعزاز ان کی زوجہ محترمہ نے ہی صدر پاکستان فیلڈمارشل جنرل ایوب خان سے وصول کیا۔اعزاز وصول کرنے کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان سے انٹرویو میں کہا کہ آج یوم پاکستان ہے، یہ وہ دن ہے جب ہم نے اپنے ملک کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔میرے شوہر نے جس ایثار کا ثبوت دیا ہے وہ صرف میرے لئے فخر نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے باعثِ فخر ہے۔۔حکومت پاکستان نے میرے شوہر کو نشان حیدر کا اعزاز دیا ہے میں حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتی ہوں ۔میجر عزیز بھٹی شہید کے والد مکرمی جناب محمد عبداللہ نے بتایا کہ جب 1950میں راجہ عزیز بھٹی کو میڈل ملا تو اس پر کنندہ تھا (حیات جاوداں اندر ستیز است) ۔صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے جب شہید کی زوجہ کو نشان حیدر دیا تو دوران تقریر کہا کہ کسی دوسرے ملک کے سپاہی ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان پر پوری قوم کو ناز ہے۔آرمی چیف جنرل موسی خان نے 16اکتوبر کو شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں (شہدا) نے وطن عزیز کو دشمن کی دست بردسے محفوظ رکھنے کیلئے جام شہادت نوش کر کے جس لا ثانی شجاعت اور غیر فانی عزم کا مظاہرہ کیا ہے اس پرپوری قوم ان بہادروں کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے بارگاہ رب میں شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے دست بہ دعا ہے۔میجر راجہ عزیز شہید کے ایک اعلیٰ آفسیر جنرل اعظم خان نے انہیں ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا :’’ میجر عزیز بھٹی ایک پاکیزہ،نیک سیرت اور بے حد فرض شناس افسر تھے جن پرفوج کو فخر ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں