52

مہنگی بجلی: رپورٹ عام کرنے کا فیصلہ!

وفاقی کابینہ نے بجلی کے شعبے میں مبینہ گھپلوں اور عوام کو مہنگی بجلی کی فراہمی کے حوالے سے انکوائری رپورٹ عام کرنے کا جو فیصلہ کیا، اس کے نتیجے میں اس شعبے میں شفافیت لانے کی کوششیں موثر طور پر بروئے کار آئیں تو دوسرے شعبوں میں بھی اصلاح و بہتری کے امکانات روشن ہوں گے۔ جیسا کہ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا، قانون کے مطابق کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جارہا ہے جو فرانزک یا مزید تحقیقات کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس تحقیقات سے ایسے لوگوں کا واضح تعین کیا جا سکے گا جو بجلی کے پیداواری و ترسیلی نظام اور ملکی معیشت کے لئے مشکل صورتحال پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے بعد 8نکاتی ایجنڈے کی منظوری کے حوالے سے جو بریفنگ دی اس کے اگرچہ تمام ہی نکات خاص اہمیت کے حامل ہیں لیکن پاور سیکٹر اسکینڈل کے حوالے سے محمد علی کمیشن انکوائری کے اخذ کردہ نتائج کا اس بنا پر انتظار تھا کہ بجلی کے شعبے میں مہنگائی اور بدنظمی سے ناصرف عام صارفین کی روزمرہ زندگی پریشان کن حد تک متاثر ہے بلکہ زراعت، صنعت اور کاروبار پر پڑنے والے اس کے اثرات کے باعث ملکی معیشت بالخصوص برآمدی تجارت بھی منفی طور پر متاثر ہوئی ہے۔ نجی شعبے کے بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے قیام کے ابتدائی معاہدوں سے لیکر انہیں ادا کی جانے والی رقوم اور گردشی قرضوں کی تشویش کو پہنچی حد کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ میں بھی بعض معاملات کو تشویش کی نظر سے دیکھا گیا اور ریمارکس میں اُٹھائے گئے نکات سمیت بہت سے ایسے پہلو تھے جن کی تفتیش و تحقیق ضروری تھی جبکہ اس معاملے میں موجودہ دور کے بعض بااثر افراد کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی باتیں بھی کئی حلقوں میں موضوع گفتگو بنی رہی ہیں۔ اس منظر نامے میں وزیراعظم عمران خان کے اس عزم کو سراہا جانا چاہئے کہ ’’کورونا کے ساتھ ساتھ ہمیں کرپشن کے وائرس سے بھی لڑنا ہے‘‘۔ انہوں نے جہاں اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں وہاں یہ بھی واضح کیا کہ نجی پاور پلانٹس کے معاہدے گزشتہ ادوار میں ہوئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت قبل ازیں آٹا، چینی بحران کی تفتیشی رپورٹ بھی جاری کر چکی ہے جبکہ فرانزک انکوائری کے لئے قائم کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے جس کے اجراء کے لئے 25اپریل کی تاریخ مقرر ہے مگر بعض ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کو کئی نکات پر ابہام دور کرنے کے لئے کچھ مہلت درکار ہے۔ جہاں تک پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ کا تعلق ہے اس کے مندرجات کے بموجب 13برسوں میں قومی خزانے کو 4ہزار 802ارب روپے کا نقصان ہوا جس کی وجوہ میں سبسڈی اور گردشی قرضہ بھی شامل ہے۔ بتایا گیا کہ زیادہ تر بجلی گھروں پر لگائی گئی سرمایہ کاری رقوم کی واپسی کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا۔ 16آئی پی پیز نے 50ارب 80کروڑ روپے کا سرمایہ لگا کر 415ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔ رپورٹ میں آئندہ پانچ برسوں میں نئے بجلی گھر لگانے پر پابندی، گردشی قرضے میں صوبوں کی شمولیت اور 25سالہ پلانٹس سے برقی خریداری بند کرنے سمیت کئی اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں جن پر وفاق اور صوبوں کو مل کر غور کرنا چاہئے۔ موجودہ عالمی منظر نامہ مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں کمی کرکے اور پالیسی ریٹ اور ٹیکسوں کی شرح گھٹا کر عام لوگوں اور صنعتوں کو مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ احتیاط کے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے روزگار کے مواقع اور پیداواریت بڑھانے کی تدابیر جاری رکھ کر کورونا وائرس کو شکست دینے کی کاوشوں کے ساتھ بھوک، کساد بازاری اور معاشی چیلنجوں سے بھی موثر طور پر نمٹا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں