Seerat-ul-Nabi 27

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ مکہ کی طرف کوچ

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ مکہ کی طرف کوچ
انہوں نے اس عورت سے پوچھا:
“وہ خط کہاں ہے۔”
اس نے قسم کھاکر کہا:
“میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔”
آخر اسے اونٹ سے نیچے اتارا گیا۔تلاشی لی گئی مگر خط نہ ملا۔اس پر حضرت علی رضی الله عنہہ نے فرمایا:
“میں قسم کھاکر کہتا ہوں ، رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کبھی غلط بات نہیں کہتے… ”
جب اس عورت نے دیکھا کہ یہ لوگ کسی طرح نہیں مانیں گے تو اس نے اپنے سر کے بال کھول ڈالے اور ان کے نیچے چھپا ہوا خط نکال کر انہیں دے دیا۔بہرحال ان حضرات نے خط لاکر حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔خط حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہہ نے لکھا تھا اور اس میں درج تھا کہ اللّٰه کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے جنگ کی تیاری شروع کردی ہے اور یہ تیاری ضرور تم لوگوں کے خلاف ہے۔میں نے مناسب جانا کہ تمہیں اطلاع دے کر تمہارے ساتھ بھلائی کروں ۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی الله عنہہ کو طلب فرمایا۔انہیں خط دکھایا اور پوچھا:
“حاطب! اس خط کو پہچانتے ہو؟ ”
جواب میں انہوں نے عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول! میں پہچانتا ہوں … میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے! میرا قریش سے کوئی تعلق نہیں ، جب کہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین مسلمان ہیں ، ان سب کی قریش کے ساتھ رشتے داریاں ہیں … اس وجہ سے مشرک ہونے کے باوجود وہاں موجود ان کے رشتے دار محفوظ ہیں … وہ انہیں کچھ نہیں کہتے… لیکن چونکہ میری ان سے رشتے داری نہیں ، اس لیے مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں تشویش رہتی ہے… میری بیوی اور بیٹا وہاں پھنسے ہوئے ہیں … سو میں نے سوچا، اس موقع پر قریش پر یہ احسان کردوں … تاکہ وہ میرے گھر والوں کے ساتھ ظلم نہ کریں اور بس… اس خط سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا… قریش پر اللّٰه کا قہر نازل ہونے والا ہے۔”
ان کی بات سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی الله عنہم سے فرمایا:
“تم نے حاطب کی بات سنی! انہوں نے سب کچھ سچ سچ بتادیا ہے… اب تم لوگ کیا کہتے ہو؟ ”
اس پر حضرت عمر رضی الله عنہہ نے عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ اس شخص کا سر قلم کردوں ، کیونکہ یہ منافق ہوگیا ہے۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اے عمر! یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور عمر تمہیں کیا پتہ، ممکن ہے اللّٰہ تعالیٰ نے اہل بدر سے یہ فرمادیا ہو کہ تم جو چاہے کرو، میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔”
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک سن کر حضرت عمر رضی الله عنہہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ادھر اللّٰہ تعالیٰ نے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت نازل فرمائی:
“ترجمہ: “اے ایمان والوں ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو دین آچکا ہے، وہ اس کے منکر ہیں وہ رسول کو اور تمہیں اس بنا پر شہر بدر کرچکے ہیں کہ تم الله تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو۔”
اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ منوره سے کوچ فرمادیا۔مدینہ میں اپنا قائم مقام ابوحضرت رہم کلثوم ابن حصن انصاری رضی الله عنہہ کو بنایا۔آپ صلی الله علیہ وسلم 10 رمضان کو مدینہ منوره سے روانہ ہوئے۔اس غزوے میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ 10 ہزار صحابہ تھے۔یہ تعداد انجیل میں بھی آئی ہے… وہاں یہ کہا گیا ہے کہ “وہ رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے اترے گا۔”… اس موقع پر مہاجرین اور انصار میں سے کوئی پیچھے نہیں رہا تھا۔ان کے ساتھ تین سو گھوڑے اور نوسو اونٹ تھے۔
ان مقدس صحابہ کے علاوہ راستے میں کچھ قبائل بھی شامل ہوگئے تھے۔
اس سفر میں روزوں کی رخصت کی اجازت بھی ہوئی، یعنی جس کا جی چاہے سفر میں روزہ رکھ لے، جو رکھنا نہ چاہے، وہ بعد میں رکھے… اس طرح سفر اور جنگ کے موقعوں پر یہ اجازت ہوگئی۔سفر کرتے کرتے آخر لشکر مرظہران کے مقام پر پہنچ گیا۔اس مقام کا نام اب بطن مرد ہے۔لشکر کی روانگی سے پہلے چونکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی کہ قریش کو اسلامی لشکر کی آمد کی خبر نہ ہو… اس لیے انہیں خبر نہ ہوسکی۔
مرظہران کے مقام پر پہنچ کر رات کے وقت مسلمانوں نے آگ جلائی۔چونکہ بارہ ہزار کے قریب تعداد تھی، اس لیے بہت دور دور تک آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔جس وقت یہ لشکر مدینہ منوره سے روانہ ہوا تھا، اسی وقت حضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی الله عنہہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منوره کی طرف روانہ ہوئے تھے تاکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیں … لیکن نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم سے ان کی ملاقات راستے ہی میں ہوگئی۔یہ ملاقات مقام حجِفہ پر ہوئی… حضرت عباس رضی الله عنہہ یہیں سے آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، انہوں نے اپنے گھر کے افراد کو مدینہ منوره بھیج دیا۔ اس موقع پر اللّٰہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
“اے چچا! آپ کی یہ ہجرت اسی طرح آخری ہجرت ہے، جس طرح میری نبوت آخری نبوت ہے۔”
یہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ عام طور پر مسلمان قریش کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ منوره ہجرت کرتے تھے، لیکن اب آپ صلی الله علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کے لیے تشریف لے جارہے تھے، اس کے بعد تو مکہ سے ہجرت کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ یہ آپ کی اسی طرح آخری ہجرت ہے۔جس طرح میری نبوت آخری ہے۔
آپ صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان سے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا مکمل طور پر رد ہوگیا۔( ختم نبوت زندہ باد)
حضرت عباس رضی الله عنہہ اس خیال سے مکہ کی طرف چلے کہ قریش کو بتائیں ، اللّٰه کے رسول کہاں تک آچکے ہیں اور قریش کے حق میں بہتر ہے کہ مکہ معظمہ سے نکل کر پہلے ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں …
ادھر یہ اس ارادے سے نکلے، ادھر ابوسفیان، بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے متعلق خبریں حاصل کرنے کے لیے نکلے… کیونکہ اتنا ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے لشکر کے ساتھ مدینہ منوره سے کوچ فرمایا ہے… لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کس طرف گئے ہیں … اب جو یہ باہر نکلے تو ہزاروں جگہوں پر آگ روشن دیکھی تو بری طرح گھبرا گئے۔
ابوسفیان رضی الله عنہ کے منہ سے نکلا:
“میں نے آج کی رات جیسی آگ کبھی نہیں دیکھی اور نہ اتنا بڑا لشکر کبھی دیکھا… یہ تو اتنی آگ ہے جتنی عرفہ کے دن حاجی جلاتے ہے۔”
جس وقت ابوسفیان نے یہ الفاظ کہے، اسی وقت حضرت عباس رضی الله عنہہ وہاں سے گزرے۔انہوں نے الفاظ سن لیے، چنانچہ انہوں نے ان حضرات کو دیکھ لیا اور ان کی طرف آگئے۔حضرت عباس رضی الله عنہ بھی حضرت ابوسفیان کے دوست تھے۔
“ابوحنظلہ! یہ تم ہو؟ “حضرت عباس رضی الله عنہ بولے۔ابوحنظلہ ابوسفیان کی کنیت تھی۔
“ہاں ! یہ میں ہوں … اور میرے ساتھ بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام ہیں … تم کہاں ؟ ”
جواب میں حضرت عباس رضی الله عنہ نے کہا:
“اللّٰہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم تمہارے مقابلے میں اتنا بڑا لشکر لے آئے ہیں … اب تمہارے لیے فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔”
ابوسفیان یہ سن کر گھبرا گئے اور کہنے لگے:
“آه! اب قریش کا کیا ہوگا… کوئی تدبیر بتاؤ۔”
یہ سن کر حضرت عباس رضی الله عنہ نے کہا :
“اللّٰہ کی قسم! اگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے تم پر قابو پالیا تو تمہارا سر قلم کرادیں گے… اس لیے بہتر یہی ہے کہ میرے خچر پر سوار ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤں اور تمہاری جان بخشی کرالوں ۔”
حضرت ابوسفیان فوراً ہی حضرت عباس رضی الله عنہ کے پیچھے خچر پر سوار ہوگئے۔حضرت عباس رضی الله عنہہ اور ابوسفیان اس جگہ سے گزرے جہاں حضرت عمر رضی الله عنہہ نے آگ جلا رکھی تھی، حضرت عمر رضی الله عنہ نے انہیں دیکھ لیا، فوراﹰ اٹھ کر ان کی طرف آئے اور پکار اٹھے:
“کون! اللّٰہ کا دشمن ابوسفیان ۔”
یہ کہتے ہی حضرت عمر رضی الله عنہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑے… یہ دیکھ کر حضرت عباس رضی الله عنہہ نے بھی خچر کو ایڑ لگادی اور حضرت عمر رضی الله عنہہ سے پہلے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے خیمے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے… پھر جلدی سے خچر سے اتر کر خیمے میں داخل ہوگئے۔ان کے فوراً بعد حضرت عمر رضی الله عنہ بھی خیمے میں داخل ہوگئے… اور بول اٹھے:
“یارسول اللّٰہ! یہ دشمن خدا ابوسفیان ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے اس پر بغیر کسی معاہدے کے ہمیں قابو عطا فرمایا ہے لہذا مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن ماردوں ۔”
مگر اس کے ساتھ ہی حضرت عباس رضی الله عنہہ نے فرمایا:
“اے اللّٰه کے رسول! میں انہیں پناه دے چکا ہوں ۔”
اب منظر یہ تھا کہ حضرت عمر رضی الله عنہہ ننگی تلوار سونتے کھڑے تھے کہ اِدھر حکم ہو، اُدھر وہ ابوسفیان کا سر قلم کردیں … دوسری طرف حضرت عباس رضی الله عنہ کہہ رہے تھے:
“اللّٰہ کی قسم! آج رات میرے علاوہ کوئی شخص اس کی جان بچانے کی کوشش کرنے والا نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں