89

مودی حکومت کی مسلم کش پالیسی.

ایک ایسے وقت جب کورونا کی عالمگیر مہلک وبا سے نمٹنے کے لئے پورا بھارت تقریباً ڈیڑھ ماہ سے لاک ڈائون میں ہے، ہر طرف بھوک و افلاس کا دور دورہ ہے مودی حکومت کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے دہلی پولیس فروری میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے حوالے سے بلوائیوں کے بجائے الٹا سر کردہ مسلم شخصیات کو گرفتار کر کے اس سے اپنی بہتر کارکردگی ثابت کرنا چاہتی ہے۔ گرفتار کیے جانے والے یہ وہ سماجی افراد ہیں جو متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مہم میں پیش پیش تھے۔ ہندوستان کے بعض اپوزیشن رہنما بھی اسے ایک تیر دو شکار کا نام دے رہے ہیں یعنی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں اور ہندو بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جا رہی ۔ یہ ساری صورت حال اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارت کو اکھنڈ ہندو ریاست بنانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیتوں کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتی ہے جو ہندوستان کے سیکولر ریاست ہونے کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ان دنوں لائن آف کنٹرول کے اس پار آزاد کشمیر کی سول آبادی پر گولہ باری اور فائرنگ سمیت مقبوضہ وادی میں بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات کی جو نئی لہر آئی ہے دراصل یہ سب واقعات پاکستان کے سر تھوپ کر بھارتی سرکار اندرون بھارت کے متشدد واقعات سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتی ہے تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے گزشتہ ہفتے بھارت کو اقلیتوں کے لئے خطرناک ملک قرار دیکر باعث تشویش ممالک میں شامل کیا تھا کہ مذہبی آزادیوں میں یہ ملک کئی درجے نیچے آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں ہی نہیں دیگر اقلیتوں کے حق میں بھی آواز اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں