Seerat-ul-Nabi 86

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺموتہ کی جنگ

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺموتہ کی جنگ
عمرے سے فارغ ہوکر حضور نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ پہنچے، تو ایک سنگین واقعہ پیش آگیا۔آنحضرت ﷺ نے ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کے نام بھیجا تھا، یہ خط حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ لے کر روانہ ہوئے، موتہ کے مقام پر پہنچے تو شرجیل( سرخ بیل)غسانی نے انہیں روک لیا۔یہ شرجیل قیصر روم کی طرف سے شام کے اس علاقے کا بادشاہ تھا۔شرجیل نے حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
“تم کہاں جارہے ہو…. کیا تم محمد ﷺ کے قاصدوں میں سے ہو۔”
جواب میں انہوں نے کہا:
“ہاں ! میں محمد ﷺ کا قاصد ہوں ۔”
یہ سنتے ہی شرجیل نے انہیں رسیوں سے بندھوادیا اور پھر انہیں قتل کردیا۔آنحضرت ﷺ کے قاصدوں میں سے یہ پہلے قاصد ہیں جنہیں شہید کیا گیا۔اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو اس واقع سے بہت رنج ہوا۔آپ نے فوراً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک لشکر تیار کیا، اس کی تعداد تین ہزار تھی۔حضور اقدس ﷺ نے ان لوگوں کو شاہ روم سے جنگ کرنے کا حکم فرمایا اور اس لشکر کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔جب یہ لشکر کوچ کرنے کے لیے تیار ہوگیا تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اگر زید بن حارثہ شہید ہوجائیں تو ان کی جگہ جعفر بن ابی طالب لشکر کے امیر ہوں گے۔اگر جعفر بن ابی طالب بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ ان کی جگہ لیں گے اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی شہید ہوجائیں تو مسلمان جس پر راضی ہوں ، اسے اپنا امیر بنالیں ۔”
جب آپ ﷺ نے یہ ہدایات فرمائیں ، اس وقت ایک یہودی شخص بھی وہاں موجود تھا اور یہ سب سن رہا تھا، اس نے کہا:
“اگر یہ واقعی نبی ہیں تو میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ جن لوگوں کے نام انہوں نے لیے ہیں وہ سب شہید ہوجائیں گے۔”
یہ بات حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سن لی تو بولے: “میں گواہی دیتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ سچے نبی ہیں ۔”
آپ ﷺ نے ایک سفید رنگ کا پرچم تیار کیا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، پھر آپ نے مجاہدین کو نصیحت فرمائی:
“جہاں حارث بن عمیر کو قتل کیا گیا ہے، جب تم وہاں پہنچو تو پہلے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا، وہ دعوت قبول کرلیں تو ٹھیک، ورنہ اللہ تعالیٰ سے ان کے مقابلے میں مدد مانگنا اور ان سے جنگ کرنا۔”
لشکر کو روانہ کرتے وقت مسلمانوں نے کہا: “اللہ تمہارا ساتھی ہو، تمہاری مدد فرمائے، اور تم لوگوں کو خیر اور خوشی کے ساتھ ہمارے درمیان واپس لائے۔”
جب یہ لشکر روانہ ہوا تو آپ ﷺ ثنیتہ الوداع کے مقام تک انہیں رخصت کرنے کے لیے ساتھ چلے، وہاں پہنچ کر انہیں نصیحت کی: “میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کرتا ہوں ، تمہارے ساتھ جو مسلمان ہیں ، ان سب کے لیے عافیت مانگتا ہوں ، اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو، اللہ کے اور اپنے دشمنوں سے شام کی سرزمین میں جاکر جنگ کرو…. وہاں تمہیں عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں رہنے والے ایسے لوگ ملیں گے جو دنیا سے کٹ گئےہیں ، ان سے نہ الجھنا، کسی عورت پر کسی بچے پر تلوار مت اٹھانا، نہ درختوں کو کاٹنا اور نہ عمارتوں کو مسمار کرنا ۔
عام مسلمانوں نے بھی انھیں رخصت ہوتے ہوئے کہا، الله تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہیں مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے ۔ان دعاؤں کے ساتھ لشکر روانہ ہوا اور شام کی سرزمین میں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا ۔اس وقت صحابہ کرام رضی الله عنہم کو معلوم ہوا کہ روم کا بادشاہ شہنشاہ ہرقل دولاکھ فوج کے ساتھ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہے، اس کے علاوہ عرب کے نصرانی قبائل بھی چاروں طرف سے آکر ہرقل کی فوج میں شامل ہوگئےہیں اور ان کی تعداد بھی ایک لاکھ کے قریب ہے، اس طرح لشکر کی تعداد تین لاکھ تک جا پہنچی تھی، ان کے پاس بے شمار گھوڑے، ہتھیار اور سازوسامان بھی تھا ۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی کل تعداد صرف تین ہزار تھی اور ان کے پاس سازوسامان بھی برائے نام تھا ۔
یہ تفصیلات معلوم ہونے پر اسلامی لشکر وہیں رک گیا، دو رات تک انھوں نے وہاں قیام کیا اور آپس میں مشورہ کیا، کیونکہ اتنی بڑی تعداد والے دشمن سے صرف تین ہزار آدمیوں کے مقابلہ کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ۔قدرتی بات ہے کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعين یہ سن کر پریشان ہوئے تھے، کسی نے مشورہ دیا:
ہمیں چاہیے یہاں رک کر رسول الله ﷺ کو اطلاع دیں تاکہ ہمیں کمک بھیجیں یا واپسی کا حکم فرمائیں ‌‌” ‌‌اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پرجوش لہجےمیں کہا: لوگو! تم اسی مقصد سے جان بچارہے ہو جس کے لیے وطن سے نکلے ہو، تم شہادت کی تلاش میں نکلے تھے ۔ہم دشمنوں سے نہ تو تعداد کے بل پر لڑتے ہیں ، اور نہ طاقت کے بل پر ۔ہم تو صرف دین کے لیے لڑتے ہیں ۔دین کے ذریعے ہی الله تعالٰی نے ہمیں سرفراز فرمایاہے اب یا ہمیں فتح ہوگی یا شہادت نصیب ہوگی ۔
یہ پرجوش الفاظ سن کر صحابہ کرام بول اٹھے:
الله کی قسم! ابن رواحہ نے باالکل ٹھیک کہا ۔چنانچہ اس کے بعد لشکر آگے روانہ ہوا اور یہاں تک کہ موتہ کے مقام پر پہنچ گئے، اسی مقام پر رومی لشکر بھی مسلمانوں کے سامنے آگیا ۔حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ نے رسول الله ﷺ کا پرچم ہاتھ میں لیا اور دشمن کی طرف بڑھے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کی قیادت میں رومی لشکر پر حملہ آور ہوئے ۔مسلمانوں نے زبردست حملہ کیاتھا ۔ادھر رومی بھی آخر تین لاکھ تھے ۔انھوں نے بھی بھرپور حملہ کیا، تلواروں سے تلواریں ٹکرانے لگیں ۔نیزے اور تیر چلنے لگے، زخمیوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں ..گھوڑوں کے ہنہنانے اور اونٹوں کے بلبلانے کی آوازیں گونجنے لگیں …اس حالت میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ پرچم اٹھائے جنگ کررہےتھے اور مسلسل آگے بڑھ رہے تھے ۔ان پر جوش کی ایک ناقابل بیان کیفیت طاری تھی…ان کے ہاتھوں کتنے ہی رومی جہنم رسید ہوئے…..آخر وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔
اسی وقت حضرت جعفر رضی الله عنہ نے پرچم لے لیا ۔وہ اپنے سرخ رنگ کے گھوڑے پر سوار تھے ۔اب مسلمان ان کی قیادت میں جنگ کرنے لگے، انھوں نے اس قدر شدید جنگ کی کہ بیان سے باہر ہے ۔لڑتے لڑتے ان کا ایک بازو کٹ گیا ۔انھوں نے پرچم بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا ۔کچھ ہی دیر بعد کسی نے ان کے بائیں بازو پر وار کیا اور وہ بھی کٹ گیا ۔انھوں نے پرچم کو اپنی گود کے سہارے سنبھالے رکھا اور اسی حالت میں شہادت کا جام نوش فرمایا ۔
اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہ آگے آئے اور پرچم اٹھالیا ۔انھوں نے گھوڑے کے بجائے پیدل جنگ کرنا مناسب جانا اور دشمنوں سے مقابلہ شروع کردیا، انھوں نے بھی بہت دلیری سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے اب مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کی صفوں میں گھس چکے تھے… اور جنگ گھمسان کی ہورہی تھی… کافروں کی تعداد چونکہ بہت زیادہ تھی اور مسلمان صرف تین ہزار تھے….لہٰذا ان کی تعداد کو اس تعداد سے کوئی نسبت ہی نہیں تھی، اس لیے ان حالات میں بعض مسلمانوں نے پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ کیا….. لیکن اسی وقت حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ پکارے:
“لوگو! اگر انسان سینے پر زخم کھاکر شہید ہوتو یہ اس سے بہتر ہے کہ پیٹھ پر زخم کھاکر مرے۔”
ایسے میں حضرت ثابت بن ارقم رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر گرا ہوا پرچم اٹھالیا اور بلند آواز میں بولے :
“مسلمانو! اپنے میں سے کسی کو امیر بنالو… تاکہ پرچم اسے دیا جاسکے۔”
بہت سے صحابہ پکار اٹھے:
“آپ ہی ٹھیک ہیں ۔”
یہ سن کر وہ بولے:
“لیکن میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا۔”
ان حالات میں سب کی نظریں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پڑیں …. سب نے انہیں امیر بنانے پر اتفاق کرلیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود حضرت ثابت بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ہی پرچم ان کے حوالے کیا تھا اور کہا تھا:
“جنگ کے اصول اور فن آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔”
اس پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بولے:
“نہیں ! میرے مقابلے میں آپ اس پرچم کے زیادہ حق دار ہیں ، کیونکہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں ۔”
آخر سب کا اتفاق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر ہوگیا۔اب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جنگ شروع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں