98

منیشا روپیتاپاکستان کی پہلی ہندو ڈی ایس پی جو بڑے خواب دیکھنے والی ہر لڑکی کی عکاس بنیں

منیشا روپیتاپاکستان کی پہلی ہندو ڈی ایس پی جو بڑے خواب دیکھنے والی ہر لڑکی کی عکاس بنیں
منیشا روپیتا پاکستان کی وہ پہلی ہندو خاتون ہیں جنھیں ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کا چارج دیا گیا ہے اور فی الوقت وہ کراچی کے علاقے لیاری میں زیرِ تربیت ہیں۔
ان کا تعلق سندھ کے ایک پسماندہ اور چھوٹے سے ضلع جیکب آباد سے ہے جہاں سے انھوں نے اپنی پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن حاصل کی۔
وہ بتاتی ہیں کہ ‘جیکب آباد میں لڑکیوں کو پڑھانے لکھانے کا رجحان بہت کم ہے اور اگر کسی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہو تو اُس کے لیے صرف ایم بی بی ایس یعنی ڈاکٹری ہی واحد شعبہ ہے، جسے مناسب سمجھا جاتا ہے۔‘
منیشا کے والد سندھ کے چھوٹے اور پسماندہ شہر جیکب آباد میں ایک تاجر تھے۔ وہ صرف تیرہ برس کی تھیں کہ ان کے والد کی وفات ہوگئی۔ اُن کی والدہ نے اپنے پانچ بچوں کی اکیلے پرورش کی اور اُن کی تعلیم اور بہتر مستقبل کی خاطر کئی سال پہلے کراچی منتقل ہوگئیں۔
اُن کی تین بہنیں بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جبکہ اِکلوتے اور چھوٹے بھائی میڈیکل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
منیشا ایم بی بی ایس کے داخلہ ٹیسٹ میں ’ایک نمبر سے‘ پیچھے رہ گئیں تو انھوں نے ڈاکٹر آف فزیکل تھیراپی کی ڈگری لی اور بغیر کسی کے علم میں لائے سندھ پبلک سروس کمشین کے امتحان کی تیاری کرتی رہیں، امتحان پاس کیا اور چار سو اڑتیس امیدواروں میں سولہویں پوزیشن حاصل کی۔
’یہ تاثر ختم کرنا ہے کہ اچھے گھر کی لڑکیاں تھانے نہیں جاتیں‘
پاکستان میں پولیس تھانے اور کچہری وہ جگہیں ہیں جہاں آج بھی خواتین کا جانا غیرمناسب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر اکثر خواتین صرف گھر کے مردوں کے ہمراہ ہی یہاں آتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں منیشا نے پولیس کے محکمے کو چُننے جیسا غیر معمولی اقدام کیوں لیا؟
وہ جواب دیتی ہیں کہ ’مجھے پولیس نے ہمیشہ بہت اٹریکٹ کیا، انسپائر کیا کیونکہ مجھے وہ عورتوں کے لیے بہت امپاورڈ (بااختیار) پوزیشن لگتی ہے۔ میرا بنیادی محرک یہ ہے کہ ہم ’فیمینائزیشن آف پولیس‘ کریں۔‘
منیشا نے انتہائی جوشی سے کہا کہ وہ اس تاثر کو ختم کرنا چاہتی ہیں کہ ’اچھے گھر کی لڑکیاں تھانے نہیں جاتیں۔‘
’ہمارے ہاں مردوں اور عورتوں کے پیشوں کے درمیان میں بھی امتیاز ہے کہ کون سا پیشہ کس صنف کے لیے مناسب ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ جس معاشرے میں سب سے زیادہ ظلم کی شکار عورتیں ہوں وہاں آپ کی محافظ بھی عورتیں ہونی چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہمارے پاس ’پروٹیکٹر ویمن‘ ہوں۔ اسی سوچ اور مقصد کے تحت میں ہمیشہ سے پولیس میں جانا چاہتی تھی۔‘
’وہ کہتے تھے ایک لڑکی پولیس آفیسر نہیں بن سکتی‘
منیشا کے ڈی ایس پی بننے کی خبر پر ہندو کمیونٹی سمیت پوری قوم نے انھیں سراہا اور ان کی ہمت کی تعریف کی لیکن منیشا بتاتی ہیں کہ اُن کے بعض قریبی رشتہ داروں میں یہ تاثر ہے کہ وہ اس پیشے سے زیادہ عرصہ منسلک نہیں رہ سکیں گی اور جلد ہی اپنی فیلڈ تبدیل کرلیں گی۔
منیشا اس سوچ کو پدرسری معاشرے کی ’گھسی پٹی سوچ‘ کا عکاس سمجھتی ہیں۔
’یہ تاثر اُن کا میرے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے جو سوشل سٹیریو ٹائپس (گھسے پٹے سماجی خیالات) ہیں کہ ایک لڑکی پولیس آفیسر نہیں بن سکتی اور خاص طور پر ہماری کمیونٹی سے۔ تو یہ اُن کا اپنا خوف ہے۔‘
انھوں نے پُرامید انداز میں کہا کہ ’میں ایسا ہوتا دیکھ رہی ہوں کہ ایک دو سال میں یہ لوگ خود اپنے سٹیٹمنٹس (بیانات) واپس لیں گے اور شاید ان کی اپنی ہی بچیوں میں سے کوئی پولیس میں آئے گا۔‘
‘خواتین آفیسرز پولیس کے امیج کے لیے بہتر’
بطور ڈی ایس پی باقاعدہ چارج سنبھالنے سے پہلے منیشا کی کراچی کے مشکل ترین علاقے لیاری میں ٹریننگ جاری ہے۔
وہ اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) عاطف امیر کی زیرِ نگرانی تربیت لے رہی ہیں۔ ان کے خیال میں پولیس کو ایک ’اینٹی ہومنسٹک فورس‘ تصور کیا جاتا ہے اور منیشا جیسی مزید پولیس آفیسرز کے آنے سے اس تصور کو ’برش آسائیڈ‘ یعنی دور کرنے کا موقع ملے گا۔
’عورتوں کے سامنے اگر جُرم ہوا ہو یا اگر وہ جُرم کے بارے میں جانتی ہوں تو وہ ایک گواہ کے طور پر سامنے آنے سے کتراتی ہیں۔ وہ پورے لیگل پراسیس یا قانونی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتیں کیونکہ انھیں بار بار مرد پولیس آفیسرز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین پولیس آفیسرز زیادہ ہوں تو اس صورتحال پہ فرق پڑسکتا ہے۔’
گو کہ اے ایس پی عاطف کا ماننا ہے کہ پولیس ایک جینڈر نیوٹرل سروس ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ دفاتر اور تھانوں میں خواتین پولیس آفیسرز کی موجودگی سے گھریلو تشدد اور ہراسانی جیسے کیسز پر کافی فرق پڑے گا۔
’عام طور پر پولیس سٹیشن کی آؤٹ لُک ایسی ہوتی ہے جس سے لگتا ہے کہ آپ جائیں گے تو نجانے کیا ہوجائے گا۔ جب آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک خاتون آفیسر پولیس سٹیشن میں ہے تو آپ کے لیے رسائی بہتر ہو جائے گی۔ عوام اور افسران کے درمیان فاصلہ کم ہوجائے گا۔‘
تو انھیں سب ’میڈم سر‘ کیوں کہتے ہیں؟
میں منیشا سے پولیس کی خصوصی تربیت، مردوں کا شعبہ سمجھے جانے والے اس پیشے میں بطور افسر تعیناتی اور ہتھیار چلانے کے بارے میں اُن کے خیالات پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایاکہ ’میری سب سے بڑی فکر یہ نہیں تھی کہ میں ہتھیار چلا پاؤں گی یا نہیں۔
’مجھے فکر تھی کہ ایک عورت ہونے کے ناطے شاید فیلڈ میں مجھے اُس طرح ویلکم نہ دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہاں مجھے سب میڈم سر کے نام سے بُلاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس میں ’کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ (سر کے ساتھ) میڈم شامل کر لیا گیا ہے اور چیزیں (آہستہ آہستہ) تبدیل ہو رہی ہیں۔‘
‘ہر اُس لڑکی کی عکاس جو بڑے خواب دیکھتی ہے’
منیشا پُرامید ہیں کہ مستقبل میں مزید خواتین خاص طور پر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پولیس فورس میں شامل ہوں گی۔
’میں خصوصی طور پر سمجھتی ہوں کہ میں نہ صرف اپنی کمیونٹی (ہندو) کی نمائندہ ہوں بلکہ میں ہر اُس لڑکی کی عکاس ہوں جو زندگی میں کچھ بننا چاہتی ہے۔
’وہ لڑکی جو ایک چھوٹے سے علاقے سے تعلق رکھتے ہوئے بھی بہت بڑے خواب دیکھتی ہے۔‘
منیشا کے بقول انھوں نے مقابلے کا امتحان بغیر کسی مدد کے پاس کیا اور اب وہ ایک پرائیویٹ اکیڈمی میں پڑھاتی بھی ہیں۔
ان کی خصوصی توجہ مقابلے کے امتحان کی تیاریاں کرنے والی لڑکیاں ہیں جن کی وہ رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ اگر اُن کی رہنمائی سے کافی لڑکیاں مختلف پیشوں میں آگے جاسکیں تو وہ ’بہت خوشی‘ محسوس کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں