52

منحرفین کو وزیراعظم کا انتباہ و پیشکش،ضمیر فروش لکھا جائیگا، اسکولوں میں بچوں کا مذاق اڑے گا، رشتے نہیں ملیں گے، غلطی کرنے والے واپس آجائیں، معاف کردونگا، عمران خان

درگئی(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کے منحرف ارکان کو واپسی کی پیشکش کے ساتھ ساتھ وارننگ بھی دیدی ۔اتوار کو درگئی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین سے کہا ہے کہ جو غلطی کربیٹھے ہیں وہ اپنی جماعت میں واپس آ جائیں‘ میں انہیں باپ کی طرح معاف کر دوں گا‘اب چھانگا مانگا کے دن چلے گئے‘ اگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے تو وہ اپنا مستقبل ہمیشہ کیلئے تباہ کر دیں گے‘ آپ کے نام کے ساتھ ضمیر فروش لکھاجائیگا‘ووٹ بیچ کر آپ بدنام ہوجاؤ گے‘ضمیر فروشوں کا گھر سےنکلنا‘ تقاریب میں جانا مشکل ہوجائے گا‘ اسکول میں آپ کے بچوں کا مذاق اڑایاجائےگا‘ ان کو رشتے نہیں ملیں گے ‘تین غلاموں نے بیرونی دنیاکے پاؤں پکڑ کر سازش کی‘ کرپشن کے پیسے سے ضمیر خریدنے والے تین غلاموں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ عدم اعتماد کی تحریک میں فتح ہماری ہو گی‘ سندھ ہائوس میں ایم این ایز کو بند کرکے جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا‘عوام کا پیسہ چوری کر کے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ حکومت چلی جائے ‘ پیسے اور رشوت دے کر اپنی حکومت بچانے پر لعنت بھیجتا ہوں‘اللہ کا حکم ہے کہ بدی کے خلاف اور نیکی کے ساتھ کھڑے ہوجا، یہ نہیں کہا کہ نیوٹرل رہو‘ملک میں فیصلہ کن وقت آچکا ہے، ایک طرف ملک کے نامور ڈاکو اکٹھے ہوگئے، دوسری طرف ان کے خلاف25سال سے جدوجہد کرنے والا شخص ہے‘قوم فیصلہ کرے کہ حق اور باطل کے معرکہ میں اس نے کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے؟ بھارت کو داددیتا ہوں جس نے ہمیشہ آزاد خارجہ پالیسی رکھی اوراپنے عوام کے مفادکو مقدم رکھا‘ سپرپاورزکے سامنے جھک کر اور غلام بن کر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ضمیر فروش پیسے لے کر اپنا ملک، دین اور ضمیر کا سودا کرتا ہے، یہ جو لوگ لوٹے ہو رہے ہیں یہ اپنے ضمیر کے سودے کر رہے ہیں، ملک کی عدلیہ، الیکشن کمیشن اور ملک کا نوجوان دیکھ رہا ہے، آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، نوجوان باشعور ہے، ساری قوم کے سامنے ضمیر کا سودا ہو رہا ہے اور اس کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے‘اگر معاشرے کو بچانا ہے ا ور عظیم ملک بننا ہے تو نیکی کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، جب سندھ ہائوس میں پولیس کے پہرے میں پیسے کے زور پر جمہوریت کا جنازہ نکالا جائے تو عوام کا فرض ہے کہ اس سودے بازی کے خلاف آواز بلند کرے اور اس کے خلاف کھڑے ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کیا چوری کرنے والا مخالف جب ساتھ مل جائے تو چوری بری چیز نہیں رہتی‘ان کو شرم آنی چاہئے، یہ ملک کے ساتھ وہ کرنے جا رہے ہیں جو دشمن نہیں کرتا‘ وزیراعظم نے کہا کہ بچہ بچہ آپ کے نام سے واقف ہے، ان کو علم ہے کہ آپ پیسے لے کر وفا داریاں بدل رہے ہیں‘آپ جتنا کہیں ضمیر جاگ گیا، لوگ نہیں مانیں گے‘عمران خان کا کہنا تھاکہ مجھے کہا گیا کہ ان کو زیادہ پیسے دے کر واپس لے آئیں، میں نے انہیں کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے‘یہ چوری کر کے اپنی حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ میری حکومت چلی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن میں امریکا کے ساتھی ہوں گے لیکن جنگ میں نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین کے سفیر نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خط لکھا کہ روس کے خلاف پاکستان بیان دے ، یہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کے مترادف ہے، ہم نے انہیں کہا کہ وہ ہندوستان کے خلاف پہلے بیان دیں اس سے ان کی جان جاتی ہے۔ میں اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، ہمارے ملک میں دس سال حکمران رہنے والوں نے ڈرون حملوں کے خلاف بات نہیں کی، یہ پیسے کے پجاری اور منافق لوگ ہیں، یہ کبھی اپنی قوم کیلئے کھڑے نہیں ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کا جمہوریت میں بڑا کلیدی کردار ہوتا ہے تاہم کئی میڈیا ہائوسز میں پیسہ چل رہا ہے، کئی باہر سے پیسہ لے رہے ہیں، یہ ان ڈاکوئوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو لوگوں کے ضمیر خرید رہے ہیں، قوم ان کو دیکھ رہی ہے، قوم میڈیا کا فیصلہ بھی کر رہی ہے کہ کون بکائو ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں