102

منحرفین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، نااہلی کی میعاد، تعین پارلیمنٹ کرے، انحراف سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم جمہوریت کو ڈی ریل کرسکتا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (رپورٹ) عدالت عظمیٰ نے اراکین پارلیمنٹ کے اپنی سیاسی پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوںکی سماعت مکمل ہونے کے بعد تین دو کی اکثریت سے صدارتی ریفرنس کو نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے کے مرتکب رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہوگا ، عدالت نے کہا کہ اراکین کا انحراف سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور جمہوریت کو ڈی ریل کرسکتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوںکیلئے کینسرکے مترادف ہے، سیاسی جماعتوں کو غیر آئینی حملوں اور توڑپھوڑ سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، سیاسی جماعتوں کے حقوق کا تحفظ ایک رکن کے حقوق سے بالاتر ہے، عدالت نے منحرف رکن کی نااہلی کی میعاد کا تعین کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدر کو ریفرنس کیلئے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے کی ضرورت نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جس کسی رکن اسمبلی کو وزیراعظم پر اعتراض ہے وہ پارلیمنٹ چھوڑ دے، عدالت نے منحرف اراکین کی تاحیات عوامی عہدہ کیلئے نااہلیت سے متعلق پی ٹی آئی کی آئینی درخواست مسترد کردی ہے، بنچ کے رکن دو جج صاحبان، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندو خیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں کوئی جان نظر نہیں آتی، آرٹیکل 63اے ایک مکمل ضابطہ ہے عدالت اسکی تشریح کی مجاز نہیں ہے، آرٹیکل 63۔Aکا مقصد انحراف سے روکنا ہے، تاحیات نااہلی پر رائے دینا ہمارے لئے آئین دوبارہ لکھنے کے مترادف ہو گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجا زالاحسن،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جوکہ شام کو جاری کیا گیا۔ ،اکثریتی فیصلے میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجا زلاحسن اور جسٹس منیب اختر نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے تین سوالات پر اپنی رائے دیدی ہے جبکہ ایک سوال صدر مملکت کو واپس بھیج دیاہے،اکثریتی ججوں نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا کردار کلیدی ہوتا ہے،سیاسی جماعتیں وہ لازمی جزو ہیں جس کے بغیر پارلیمانی جمہوریت کھڑی ہی نہیں ہوسکتی ہے اور کسی منتخب رکن کی جانب سے اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف ،وہ راستہ ہے جس سے سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم کیا جاسکتا ہے ،اکثریتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کا مقصد اراکین کو انحراف سے روکنا ہے، منحرف ارکان کاووٹ نہیں گنا جائیگا، عدالت نے قراردیاہے کہ آرٹیکل 63 اے کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو پارٹی پالیسی سے انحراف نہ کرنا پڑے اور سیاسی جماعتوں کو حقوق کا تحفظ ملے، عدالت نے قراردیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کو اکیلا نہیں پڑھا جاسکتا ہے،اسے آرٹیکل 17 کے ساتھ مربوط کیا جائے گا اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کے حقوق کو تحفظ دیتا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے، آرٹیکل 63اے کا اطلاق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات سے انحراف سے ہوتا ہے، آرٹیکل 63 اے آرٹیکل 17(2) میں دیے گئے سیاسی جماعتوں کے حقوق کاتحفظ کرتاہے جبکہ آرٹیکل63 اے قانون سازی میں سیاسی جماعتوں کو تحفظ دیتا ہے، عدالت نے قراردیاہے کہ سیاسی جماعتیں ہماری جمہوریت کا بنیادی جز وہیں، اور سیاسی جماعتوں میں عدم استحکام جمہوریت کی بنیاد تک ہلادیتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے استحکام کیلئے تباہ کن ہے، اس لیے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتاہے، اکثریتی رائے میں منحرف رکن کی تاحیات نااہلیت کی سزا کے حوالے سے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوال پر رائے دیتے ہوئے عدالت نے اپنے اکثریتی فیصلے میںقرار دیا گیا ہے کہ منحرف ارکان کی نااہلیت کیلئے قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیارہے جبکہ مستقبل میں ممکنہ انحراف روکنے کا سوال عدالت نے صدرمملکت کو واپس بھجوا تے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک مبہم سوال ہے،اکثریتی رائے میںقراردیا گیا کہ اب وقت آگیاہے کہ منحرف اراکین کے حوالے سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے۔ دوسری جانب جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے مشترکہ اقلیتی اختلافی نوٹ میں قراردیاہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 63اے اپنے آپ میں ایک مکمل ضابطہ ہے، جو پارلیمنٹ کے رکن کے منحرف ہوجانے اور اس کے نتائج سے متعلق ایک جامع طریقہ کار فراہم کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے کسی منحرف رکن کیخلاف بھیجے گئے ریفرنس کی تصدیق کرتا ہے، تو وہ رکن اس ایوان کا رکن نہیں رہیگا اور اسکے نتیجہ میںوہ نشست خالی ہو جائے گی،جبکہ ڈی سیٹ ہونے والا رکن یا وہ سیاسی پارٹی آئین کے آرٹیکل 63 اے کے ذیلی آرٹیکل (5) کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی رکھتے ہیں ،فاضل ججوں نے قراردیاہے کہ ہمارے خیال میںسپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی مزید کوئی تشریح کرنا، آئین کو دوبارہ لکھنے یا پڑھنے کے مترادف ہوگا اور اس سے آئین کی دیگر شقوں پر بھی اثر ات مرتب ہونگے ، جن کے بارے میں صدر نے اس ریفرنس میں کوئی سوال تک نہیںپوچھا ہے ا اس لیے یہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے، فاضل ججوںنے مزید کہا ہے کہ ہمیں اس صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں کوئی جان نظر نہیں آتی، اس لئے ان کا جواب نفی میں دیا جاتا ہے، تاہم، اگر پارلیمنٹ مناسب سمجھے تو منحرف ہونے والے اراکین پر مزید پابندیاں عائد کر سکتی ہے، فاضل ججوں نے قرار دیاہے کہ آئینی درخواست ہائے نمبر 2 اور 9 کو خارج کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں