43

ممنوعہ فارن فنڈنگ اور نااہلی ریفرنسزعمران خان کو نوٹس جاری

ممنوعہ فارن فنڈنگ اور نااہلی ریفرنسزعمران خان کو نوٹس جاری
اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ اور نااہلی ریفرنسز میں عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے، الیکشن کمیشن طلب کرلیا ہے، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے دائر نا اہلی ریفرنس پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 18 اگست جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر 23 اگست اور محسن شاہ نواز کے ریفرنس پر 24 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈز ضبط کرنے کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اگست کو طلب کرلیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 2 اگست کو پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی درخواست پر ممنوعہ فنڈنگ کیس پر سنائے گئے فیصلے کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جاری شوکاز نوٹس میں 23 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 23 اگست کو صبح 10 بجے ہوگی۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی مرضی سے جان بوجھ کر غیر ملکی باشندوں سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی اور مزید لکھا کہ عمران خان پاکستانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔فیصلے میں رومیتا سیٹھی سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دے دی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف نے 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے، یہ 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008 سے 2013 تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے، چیئرمین پی ٹی آئی کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ درست نہیں تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں