Seerat-ul-Nabi 94

معرکہ احد کا آغاز

معرکہ احد کا آغاز
اسلامی لشکر نے جہاں پڑاؤ ڈالا اس مقام کا نام شوط تھا۔آپ ﷺ نے یہاں فجر کی نماز ادا فرمائی۔اس وقت لشکر میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا، یہ منافق تھا۔اس کے ساتھ تین سو جوان تھے، یہ سب کے سب منافق تھے۔اس مقام پر پہنچ کر عبداللہ بن ابی نے کہا!
“آپ نے میری بات نہیں مانی اور ان نوعمرلڑکوں کا مشورہ مانا۔حالانکہ ان کا مشورہ کوئی مشورہ ہی نہیں ہے۔اب خود ہی ہماری رائے کے بارے میں اندازہ ہوجائے گا، ہم بلاوجہ کیوں جانیں دیں ۔اس لیئے ساتھیو! واپس چلو. ”
اس طرح یہ لوگ واپس لوٹ گئے۔اب حضور ﷺ کے ساتھ صرف سات سو صحابہ رہ گئے۔اس روز مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔ان میں سے ایک آنحضرت ﷺ کا تھا اور دوسرا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کا تھا۔شوط کے مقام سے چل کر آپ ﷺ نے احد کی گھاٹی میں پڑاؤ ڈالا۔آپ ﷺ نے پڑاؤ ڈالتےوقت اس بات کا خیال رکھا کہ پہاڑ آپ ﷺ کی پشت کی طرف رہے۔
اس جگہ رات بسر کی گئی۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی آذان دی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے صفیں قائم کیں اور آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔نماز کے بعد حضور ﷺ نے مسلمانوں کو خطبہ دیا ۔اس میں جہاد کے بارےمیں ارشاد فرمایا ۔جہاد کے علاوہ حضور ﷺ نے حلال روزی کمانے کے بارےمیں بھی نصیحت فرمائی اور فرمایا:
جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ وحی ڈالی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنے حصے کے رزق کا ایک ایک دانہ حاصل نہیں کرلیتا (چاہے کچھ دیر میں حاصل ہو مگر اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی) ۔اس لیے اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور رزق کی طلب میں نیک راستے اختیار کرو (ایسا ہرگز نہیں ہوناچاہئے کہ رزق میں دیر لگنے کی وجہ سے تم الله کی نافرمانی حاصل کرنے لگو) ۔
آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
ایک مومن کا دوسرے مومن سے ایسا ہی رشتہ ہے جیسے سر اور بدن کا رشتہ ہوتاہے ۔اگر سر میں تکلیف ہو تو سارا بدن درد سے کانپ اٹھتا ہے….
اس کے بعد دونوں لشکر آمنے سامنے آکھڑے ہوئے ۔مشرکوں کے لشکر کے دائیں بائیں خالد بن ولید اور عکرمہ تھے ۔یہ دونوں حضرات اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ دے کر فرمایا:
تم خالد بن ولید کےمقابلے پر رہنا اور اس وقت تک حرکت نہ کرنا جب تک کہ میں اجازت نہ دوں ۔پھر آپ ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کے ایک دستے پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس درے پر متعین فرمایا جو مسلمانوں کی پشت پر تھا ۔اس درے پر پچاس تیر انداز مقرر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ پشت کی طرف سے دشمن حملہ نہ کرسکے ۔حضور اکرم ﷺ نے ان پچاس تیر اندازوں سے فرمایا: تم مشرکوں کے گھڑ سوار دستوں کو تیر اندازی کرکے ہم سے دور ہی رکھنا ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پشت کی طرف سے آکر حملہ کردیں ، ہمیں چاہے فتح ہو یا شکست…..تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا ۔اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے ایک تلوار نکالی اور فرمایا:
کون مجھ سے یہ تلوار لےکر اس کا حق ادا کرسکتا ہے؟…
اس پر کئی صحابہ کرام اٹھ کر آپ ﷺ کی طرف لپکے، لیکن آپ ﷺ نے وہ تلوار انہیں نہيں دی ۔ان حضرات میں حضرت علی رضی الله عنہ بھی تھے ۔آپ ﷺ نے ان صحابہ سے فرمایا:
بیٹھ جاؤ ۔
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بھی وہ تلوار لینے کی تین بار کوشش کی، مگر آپ ﷺ نے ہر مرتبہ انکار کردیا ۔آخر صحابہ کے مجمع میں سے حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:
میں اس تلوار کا حق ادا کروں گا ۔
آپ ﷺ نے وہ تلوار انہیں عطا فرمادی ۔ابودجانہ رضی الله عنہ بےحد بہادر تھے، جنگ کے دوران غرور کے انداز میں اکڑ کر چلا کرتےتھے ۔جب آپ ﷺ نے انہیں دونوں لشکروں کے درمیان اکڑ کر چلتے دیکھا تو فرمایا: یہ چال ایسی ہے جس سے اللہ تعالی نفرت فرماتا ہے،سوائے اس قسم کے موقعوں کے ۔(یعنی دشمنوں کا سامنا کرتے وقت یہ چال جائز ہے تاکہ یہ ظاہر ہوکہ ایسا شخص دشمن سے ذرا بھی خوف زدہ نہیں ہے اور نہ اسے دشمن کے جنگی ساز و سامان کی پروا ہے ۔) پھر دونوں لشکر ایک دوسرے کے بالکل نزدیک آگئے ۔اس وقت مشرکوں کے لشکر سے ایک اونٹ سوار آگے نکلا اور مبارزت طلب کی یعنی مقابلے کے لیے للکارا ۔اس نے تین مرتبہ پکارا۔تب حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اسلامی صفوں سے نکل کر اس کی طرف بڑھے ۔حضرت زبیر رضی الله عنہ اس وقت پیدل تھے ۔جب کہ دشمن اونٹ پر سوار تھا ۔اس کے نزدیک پہنچتے ہی حضرت زبیر رضی الله عنہ ایک دم زور سے اچھلے اور اس کی اونچائی کے برابر پہنچ گئے ۔ساتھ ہی انہوں نے اس کی گردن پکڑلی….
دونوں میں اونٹ پر ہی زورآزمائی ہونے لگی ۔ان کی زورآزمائی دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔
ان میں سے جو پہلے نیچے گرے گا، وہی مارا جائےگا ۔اچانک وہ مشرک نیچے گرا پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس پر گرے، گرتے ہی انہوں نے فوراﹰ ہی اس پر تلوار کا وار کیا اور وہ جہنم رسید ہوگیا ۔
آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرمائی:
ہر نبی کا ایک حواری (یعنی خاص ساتھی) ہوتاہے اور میرے حواری زبیر ہیں ۔پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔اگر اس مشرک کے مقابلے کے لیے زبیر نہ نکلتے تو میں خود نکلتا ۔اس کے بعد مشرکوں کی صفوں میں سے ایک اور شخص نکلا ۔اس کا نام طلحہ بن ابو طلحہ تھا ۔یہ قبیلہ عبدالدار سے تھا ۔اس کے ہاتھ میں پرچم تھا ۔اب اس نے مبارزت طلب کی ۔اس نے بھی کئی بار مسلمانوں کو للکارا، تب حضرت علی رضی الله عنہ مسلمانوں کی صفوں میں سے نکل کر اس کے سامنے پہنچ گئے، اب ان دونوں میں مقابلہ شروع ہوا ۔دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک وار اس کی ٹانگ پر لگا ۔ٹانگ کٹ گئی ۔وہ بری طرح گرا اور اس کے کپڑے الٹ گئے ۔اس طرح وہ برہنہ ہوگیا ۔وہ پکار اٹھا:
میرے بھائی میں خدا کا واسطہ دے کر تم سے رحم کی بھیک مانگتا ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں