46

کےپی کےاور پنجاب IMF معاہدہ نہیں مانیں گے

کےپی کےاور پنجاب IMF معاہدہ نہیں مانیں گے
کراچی (ٹی وی رپورٹ)تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ حکومت چل نہیں رُل رہی ہے ‘ آئی ایم ایف ڈیل کا معاملہ دیکھ لیں ‘ ابھی پنجاب اور کے پی کہہ دے ہم اس ڈیل میں ساتھ نہیں ہیں آپ کے تو آپ پھر مجھے آئی ایم ایف سے ڈیل لے کر دکھادیں کیونکہ جو ڈیل ہے اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ پنجاب اور کے پی اتنا پیسہ وفاق کو دیں گے ۔اس سوال کہ کیا پنجاب او رخیبر پختونخواکی حکومتیں وفاق کو یہ کہہ سکتی ہیں کہ ڈیل میں ہم آپ کے ساتھ نہیں ،جس پر فواد چوہدری نے کہا دونوں حکومتیں سو فیصد ایسا کہیں گی ‘ حکومت کو الیکشن کرانے ہوں گے اس کے علاوہ ان کے پاس آپشن بہت کم ہیں ‘عمران خان پر دہشت گردی کا گھٹیا مقدمہ بنایاگیا‘ہم ابھی تک بہت برداشت کررہے ہیں ۔ٹی وی چینل سے گفتگو میں اس سوال پرکہ آئی ایم ایف کی ڈیل تو آپ کے دور میں سائن ہوئی ہے کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا ہم سے آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ ہم نے انحراف کیا ہے ،مفتاح اسماعیل کی بات سن لیں وہ تو خود کہہ رہے ہیں کہ توانائی پر سبسڈی دینا غلط ہے‘ ہماری پالیسی یہ تھی کہ انرجی سستی ہوگی تو فیکٹریاں چلیں گی ، فیکٹریاں چلیں گی تو نوکریاں ہوں گی لیکن وہ کہتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہے تو اس کو سستا کیسے کرسکتا ہوں ہم کہتے ہیں کہ نہیں آپ کو یہ سستا کرکے دینا ہوگا تاکہ آپ کی انڈسٹری دوسرے ملکوں کے ساتھ آگے بڑھ سکے‘ یہ فلاسفی کا فرق ہے آئی ایم ایف کا ایشو نہیں ہے ۔ آئی ایم ایف سے طے ہوتا ہے کہ آپ اتنا پیسہ بچائیں گے ہم نے اپنے حکومت کے وقت میں احساس پروگرام کا پیسہ 100 ارب ڈائیورٹ کردیااور اس کو انرجی میں ڈال دیا اس کے بعد 30ارب روپیہ ہم نے ادھر ادھر کے پراجیکٹس سے لے کر 50ارب روپے کی سبسڈی دیدی ۔ جب ہم روس گئے تو ان سے تیل دینے کی بات کی خان صاحب نے 40 فیصد سستا دینے کا کہا ، صدر پیوٹن نے 30فیصد سستا پر رضا مندی ظاہر کی ،واپس آکر ہمارا یہ خیال تھا کہ گیس پائپ لائن اور 30 فیصد تیل سستا ہوجائے گا اور ہمیں آگے سبسڈی نہیں دینا پڑے گی ۔انہوں نے کہا ہم 100 فیصد امریکا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ امریکا ہمیں بتائے کہ آپ نے فلاں ملک جانا او رفلاں ملک نہیں جانا ہے ۔اس سوال کہ آپ کی حکومت کی جانب سے صرف لیٹر لکھا گیا تھا آئل کی بات نہیں ہوئی تھی کیونکہ روس کا موقف تھا کہ جو2015ء گیس پائپ لائن ہے وہی ابھی تک تعطل کا شکار ہے کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا یہ موجودہ حکومت کی وجہ سے نہیں ہوئی کیونکہ تین سال تو انہوں نے ضائع کردیئے ہم نے تو 2018ء میں حکومت سنبھالی تو آتے ہی اس پر کام شروع کردیا ہمیں روس سے تعلقات بحال کرنے میں سال ڈیڑھ سال لگا اور ن لیگ سے روس کی ڈیل اس لئے نہیں ہوسکی کہ اس کو لاہور کے میئر خواجہ حسان ڈیل کررہے تھے اب کوئی مجھے بتائے کہ اس کا کیا تعلق اس ڈیل سے تاہم مجھے پتہ ہے کہ رشین کنٹریکٹر کے ساتھ خواجہ حسان کیوں بیٹھا ہوا تھا موجودہ حکومت نے تو قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ کوئی کام پیسے لئے بغیر نہیں کرنا ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہم دونوں اسمبلیاں نہیں توڑیں گے اور کیوں نہیں توڑیں گے کیونکہ ہم موجودہ الیکشن کمیشن کو تسلیم نہیں کرتے ہمارا مطالبہ ہے کہ نیا الیکشن کمیشن بنایا جائے ۔ کے پی اور پنجاب کی اسمبلیاں ناں توڑنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر توڑ دیں تو پھر ہمارے پاس الیکشن کمیشن کی دھاندلیاں روکنے کا طریقہ نہیں رہ جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے حالیہ پنجاب الیکشن میں ہمیں ہرانے کے لئے پورا زور لگایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں