73

مشیر احتساب شہزاد اکبر فارغ، مقدمات کی نامکمل تفصیلات دینے پر وزیراعظم ناراض، استعفیٰ لے لیا، ذرائع، پارٹی نہیں چھوڑوں گا، سابق مشیر

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیر اعظم کے مشیربرائے احتساب وداخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ وزیراعظم کی ناراضی تھی‘کچھ روزقبل وزیراعظم نے شہزاداکبر سے عدالتوں میں مقدمات کی تفصیلات مانگی تھیں ‘ ذرائع نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے جو تفصیلات وزیراعظم کو دیں وہ نامکمل تھیں‘دوسری جانب عمران خان کی زیرصدارت پارٹی ترجمانوں کااجلاس ہوا جس میں وزیراطلاعات فواد چوہدری نے شہزاد اکبرکےاستعفےپربات کی‘ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے شہزاد اکبر کے حوالے سے زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ شہزاد اکبر ڈیلیور نہیں کرسکے‘وہ کسی اورکام کے تھے‘ان کاکام کچھ او ر تھا ۔ ذرائع کے مطابق دو روز قبل وزیراعظم نے شہزاد اکبر پر ناراضی کا اظہار کیا اور وزیراعظم آفس نے گزشتہ روز شہزاد اکبرسے استعفیٰ دینے کا کہا تھا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کی واپسی کو مشکل قراردینے پر انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا۔ ادھر وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر نے شدیددباؤمیں بہترین کام کیا‘ مافیاز کے خلاف کام کرنا آسان نہیں تھا‘ مشکل حالات میں انہوں نے کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کیا، شہزاد اکبر پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے رکن کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گےجبکہ وزیراعظم کے ترجمان ومعاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہبازگل نے کہاہے کہ شہزاد اکبر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وکالت کے کیریئر کو زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں‘ شہزاد اکبر کو پارٹی میں اہم ذمہ داری ملنے والی ہے۔ واضح رہے کہ مسلسل خبریں آرہی تھیں کہ عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں اور انہیں ہٹانا چاہتے ہیں، عمران خان نے دیگر امیدواروں کے انٹرویو کرنا شروع کردیئے ہیں مگر حسب روایت حکومتی اراکین اس کی تردید کرتے رہے‘جب میڈیا پر شہزاد اکبر کو ہٹائے جانے کی خبر چلی تو اسے جعلی کہتے رہے، 19جنوری کو شہباز گل نےکہاکہ یہ خبر درست نہیں ہے، ہاں یہ درست ہے کہ شہزاد اکبر کی کارکردگی سے شریف فیملی خوش نہیں ہے اور افواہ سازی میں مصروف ہے، شہباز گل کے بیان پر شہزاد اکبر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جی گل صاحب، لگتا ہے نواز شریف کے پرانے اور نئے نمک خوار مل کر بے پر کی اڑارہے ہیں، کوئی رہے نہ رہے احتساب تو رہے گا۔ تفصیلات کےمطابق شہزاداکبر نے پیرکو اپنے بیان میں کہا کہ میں نےبطور مشیر اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھیج دیاہے‘امید ہے عمران خان کی قیادت میں احتساب کا عمل جاری رہے گا،پارٹی سے منسلک رہوں گا اور قانونی خدمات دیتا رہوں گا۔ ذرائع نےدعویٰ کیاہے کہ 18 جنوری کو کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے نواز شریف کی واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے اور بات کا بھی امکان تھا کہ انہیں برطرف کر دیا جائے‘ ذرائع کے مطابق ترجمانوں کے اجلاس میں عمران خان کا کہناتھاکہ شہزاد اکبر نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا‘ مافیا کے خلاف ان کا کام قابل تعریف ہے‘ اب وہ جانا چاہتے تھے۔ادھر فواد چوہدری نے کہا کہ مافیاز کے خلاف کام کرنا آسان نہیں تھا، شہزاد اکبر نے شدید دباؤ میں بہترین کام کیا، انہوں نے بہترین طور پر کیسز کو دیکھا،مزید اہم کام ان کے منتظر ہیں جبکہ وزیراعظم کے ترجمان و معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے شہزاد اکبر کے استعفے پر کہا ہے کہ ہو سکتا ہے شہزاد اکبر اپنی موجودہ ذمہ داری سے نا خوش ہوں یا انہیں کوئی موقع ملنے لگا ہو‘شہباز گل نے شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ شہزاد اکبر یا تو کام کر کے تھک گئے ہوں گے یا انہیں کوئی اور اچھا موقع مل رہا ہوگا‘بہت سے امکانات ہیں‘ اس بارے میں بہتر رائے شہزاد اکبر خود دے سکتے ہیں‘ استعفیٰ قبول ہوگا یا نہیں فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے، شہزاد اکبر کو پارٹی میں اہم ذمہ داری ملنے والی ہے، شہزاد اکبر سیاسی طور پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں جا رہے ہیں ‘ دریں اثناء اپنے بیان معاون خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ شہزاد اکبر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وکالت کے کیریئر کو زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں، شہزاداکبر پی ٹی آئی کی جماعتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہیں گے اور ہم ان کے اس نئے سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں