masnoon nikah aatqa bashir 153

مسنون نکاح…اجر وثواب کا باعث .عاتکہ بشیر

10 / 100

مسنون نکاح…اجر وثواب کا باعث

عاتکہ بشیر

عورت اورمرد کا ازدواجی تعلق درحقیقت انسانی معاشرے کا سنگ بنیاد ہے۔ اسی سے ابتداء میں خاندان کی تشکیل ہوتی ہے جو معاشرے کا چھوٹا یونٹ ہوتاہے ،پھر ان یونٹس کے اجتماع سے معاشرہ وجود میں آتاہے۔ شریعت اسلامی نے مسلمانوں کی ازدواجی زندگی کے لئے ایک ایسا نظام عطاکیا جو سادہ اورپاکیزہ ہونے کے علاوہ تمام سابقہ نظاموں سے بہتر تھا۔
اب اسلام کا مقدس فریضہ ‘شادی مذہبی سے غیر مذہبی فریضے کی شکل اختیار کرچکاہے۔ شادی اسی صورت میں باعث اجر ہوسکتی ہے جس طرح نبی کریمﷺ نے نہ صرف خود کیں بلکہ اپنی صاحبزادیوں کی کیں۔ نبی کریمﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاـکہ
لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَہ
’’بے شک تمہارے لئے نبی کریمﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
گویانبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرکے ان کے ارشادات واحکامات کی روشنی میں ہی اس فریضہ کو سرانجام دے کر اجر حاصل کرسکتے ہیں۔ شادی کے سلسلہ میں پہلا مرحلہ انتخاب کا ہوتا ہے جوکہ لڑکی والوں اور لڑکے والوں دونوں کی طرف سے ہوتاہے اور جسے ایجاب وقبول کہاجاتاہے۔ انتخاب کے سلسلہ میں نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ:
’’عورت سے نکاح چار چیزوں کی بناء پر کیا جاتاہے۔حسب و نسب،مال ،حسن اور د ین داری…مگر تم ترجیح دینداری کو دو۔‘‘(متفق علیہ)
اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایاہے کہ ’’عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرنا کیونکہ ممکن ہے کہ ان کاحسن تمہیں ہلاکت میں ڈال دے اور ان کے مالوں کی وجہ سے بھی ان سے نکاح نہ کروکیونکہ ممکن ہے کہ ان کے اموال تمہیں سرکش بنادیں ۔تم عورتوں سے نکاح ان کے دین کے سبب کرو۔ایک دیندار سیاہ فام لونڈی نکاح کے لئے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
اسی طرح مرد کے انتخاب کے بارے میں ارشاد نبویﷺ ہے کہ
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کافرمان ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جب تمہارے یہاں کوئی ایسا نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے شادی کردو۔ اگرتم ایسا نہ کروگے توزمین میں زبردست فتنہ و فساد پھیل جائے گا۔‘‘(ترمذی)
اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کی لخت جگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی بہترین نمونہ ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کی عمر ابھی پندرہ سال کی تھی کہ کئی بڑے بڑے گھرانوں سے پیام آئے لیکن نبی کریمﷺ خاموش رہے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا مدعا ظاہرکیا تو نبی کریمﷺ نے خوشی سے فوراً قبول کرلیا جبکہ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں صرف ایک گھوڑا اور زرہ کے سوا کچھ نہ تھا۔
مگرافسوس!آج ہم مسلمانوں کے شادی کے انتخاب یکسرتبدیل ہو چکے ہیں ۔ حتیٰ کہ اپنی بیٹی یا اپنے بیٹے کے لئے رشتہ کی تلاش میں سرگرداں والدین نے کبھی لڑکی‘لڑکے سے پوچھا تک نہیں کہ کبھی اس نے نمازاور قرآن بھی پڑھا ہے یا نہیں…یا وہ اسلامی شرعی احکامات سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں۔ماں باپ کے لڑکے ‘لڑکی کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اسلام نے خود لڑکی اور لڑکے کو بھی اختیار دیاہے کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیں اور خود ماں باپ اس کا بندوبست کریں۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نبی کریمﷺ کے پاس آیااورایک عورت کاذکر کیا کہ میں اس سے نکاح کرنا چاہتاہوں توآپﷺنے فرمایا:’’جاؤ جاکر اسے دیکھو ،اس سے تمہاراآپس میں پیار بڑھ جائے گا۔‘‘تومیں اس انصاری عورت کے گھر آیا اور اس کے والدین سے رشتہ مانگا،ساتھ ہی نبی کریمﷺ کافرمان بھی بتایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے انہوں نے بیٹی دکھانے میں کچھ کراہت محسوس کی۔ اس عورت نے پردے سے بات سن لی تو وہ کہنے لگی ’’اگراللہ کے رسولﷺ نے تجھے حکم دیا ہے تو دیکھ لے، ورنہ میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہوں ‘گویا اس نے مرد کے سامنے آنا بہت برا سمجھا۔‘‘اللہ اکبر
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے دیکھا اور اس سے شادی کی تو اللہ نے اتنی محبت پیداکردی کہ مدینہ میں اس کی محبت کا چرچا ہوگیا۔ (مسند احمد‘ ابن ماجہ‘ نسائی)
عام رواج ہے کہ لڑکے اورلڑکی کی رضامندی کے بعد منگنی کی جاتی ہے۔ شریعت اسلامی کی رو سے منگنی کا کوئی تصور موجود نہیں ۔ نبی کریمﷺ نے نہ کبھی خود منگنی کی اور نہ ہی اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کی منگنی کی اور نہ ہی ایسا کرنے کاحکم کسی کودیا۔ بلکہ رضا مندی کے بعد نکاح ہی قائم کیا۔ اس کے بعد رخصتی کا مرحلہ آتاہے ۔تاہم نکاح کے بعد رخصتی میں کچھ عرصہ تاخیر کی جاسکتی ہے مگر شرعی عذر کے بغیر نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیرکرنا بھی تاریخ سے ثابت نہیں۔ سیدہ عائشہ ؓکی مثال اس سلسلے میں روشن ہے کہ نبی کریمﷺ نے ان سے نکاح کیا اور رخصتی کچھ عرصہ بعد ہوئی کیونکہ اس میں سیدہ عائشہؓ کی کم سنی عذر تھا۔
نکاح کالغوی مفہوم: لفظ نکاح عربی لغت میں جماع‘ مباشرت‘ مجامعت اوربیاہ شادی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اصطلاحی مفہوم: اصطلاح میں مختلف ائمہ مسالک کی تعبیرات مختلف ہیں جیسا کہ فقہ کی کتا ب میں ہے ’’نکاح ایک ایسا معاملہ ہے جس میں نکاح‘ ترویج یا اس کا ہم معنیٰ لفظ استعمال کیاجاتاہے تاکہ اس سے مباشرت کااختیار حاصل ہو۔‘‘
قرآن وحدیث میں نکاح کا حکم واضح الفاظ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ : فانکحوا ماطاب لکم من النسا ء مثنیٰ وثلٰث وربٰع (النساء)’’پس عورتوں میں سے جوتمہیں پسند ہوں ان میں سے دو دو یا تین تین یاچار چار سے تم نکاح کرلو۔‘‘ ساتھ ہی یہ فرمایا ہے کہ ’’اگرتمہیں خطرہ ہوکہ عدل نہ کرسکو گے توایک ہی بیوی رکھو۔‘‘ (النساء)
رسول اللہﷺ نے فرمایاہے کہ ’’جوشخص دو بیویاں رکھے اور وہ ایک کی طرف مائل ہوجائے تو قیامت کے دن وہ آئے گا اوراس کی ایک طرف فالج زدہ ہوگی۔‘‘ ( ابوداؤد)
اسی طرح نکاح کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے فرمایاہے کہ ’’اس عورت سے نکاح کرو جوخاوند سے محبت کرے اور بہت بچے جنے ،میں تمہاری کثرت اولاد کی وجہ سے باقی امتوں پہ فخر کروں گا۔‘‘ ( ابوداؤد ،النسائی)
نبی کریمﷺکثرت امت پراسی وقت فخر کریں گے جب امت ٹھیک الہٰی طریقوں کی پیروکار ہوگی جو نبی کریمﷺ نے بتائے ہیں لیکن امت میں اگرکثرت گلوکاروں ‘اداکاروں اور فحاشی پسند لوگوں کی ہوگی تو یقیناً نبی کریمﷺ فخر کی بجائے لعن وطعن کریں گے۔‘‘
حضرت علی ؓ کی سیدہ فاطمہ ؓکے ساتھ نکاح کی خواہش نبی کریمﷺ نے خوش دلی سے قبول کرلی اور دریافت فرمایا’’علی!تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟‘‘سیدنا علی ؓنے کہا ،اللہ کے رسولﷺ ایک گھوڑے اور زرہ کے سوا کچھ بھی نہیںہے۔ آپﷺ نے ارشادفرمایا کہ گھوڑا تو سپاہی کے پاس رہنا ہی چاہئے۔ جاؤ اپنی زرہ بیچ ڈالو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے اور کم وبیش چار سو درہم میں اپنی زرہ بیچ آئے۔اسی رقم سے نبی کریمﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے دوچاندی کے بازوبند‘ ایک پیالہ‘ ایک چکی‘ ایک گھڑا اور کچھ اشیاء خریدیں اور چارسو مثقال چاندی پر اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کردیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کرلیا اور دعاکے لئے ہاتھ اٹھادئیے۔’’اے اللہ ان دونوں میں محبت اور موافقت پیدا فرمائیے ‘ برکت بخشئے اور صالح اولاد عطافرمائیے۔‘‘
تمام عورتوں کی سردار اور خاتون جنت سید ہ فاطمہ ؓ کا نکاح سید ناعلی ؓ کے زرہ کی رقم سے ہی کیا گیا جوجہیز اورحق مہر کے کام آیا ۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ گویا جہیز کی ساری ذمہ داری مر د کے ذمہ ہی ہے ۔
مگر موجودہ دور میں یہ کیسی بات ہے کہ جہیز کی ذمہ داری لڑکی والوںپر ڈال دی جاتی ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺنے حق مہر کو ایک عملی مثال کے ذریعے سمجھایا کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی کے تمام اخراجات اور دلہن کے زیورات اور کپڑے مہیا کر نا ‘خاوند کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لئے اسے مطلوبہ اخراجات شادی سے پہلے دلہن کے گھر والوںکو مہیا کرنے چاہئیں اسی کو شرعی حق مہر کہاجاتاہے لیکن آج جہالت کی وجہ سے حق مہر کی رقم کو شادی کے اخراجات سے علیحد ہ کوئی رقم سمجھا جاتا ہے ۔
لڑکیوں کو والدین کی جانب سے قیمتی’’ جہیز ‘‘دینے کی جو رسم ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔یہاں تک کہ اسلام کی زبان یعنی عربی میں اس رسم کے لئے سرے سے کوئی لفظ ہی نہیں ۔ویسے خودجہیز عربی زبان کا لفظ ہے لیکن اس کے معنیٰ وہ نہیں جو ہم لیتے ہیں ۔اس کا معنیٰ ’’ہلکا تیز رفتار کا گھوڑا ‘‘ہے ۔
اگر لڑکیاں ایسے گھروں میں بیاہی جائیں جہاں گھر کی ضرورت کا سامان پہلے ہی موجود ہوتو اس کے لئے نیا سامان خرید نے کی سرے سے ضرورت نہیں، ہاں اگرشادی کے بعد لڑکی کو نیا گھر بسانا ہے جس میں ضرورت کا سامان موجود نہیںتو اس کے لئے یہ سامان مہیا کیا جاسکتاہے لیکن یا درہے کہ یہ سامان مہیا کر نا لڑکی کے والدین کی ذمہ دار ی نہیںبلکہ خاوند کی ذمہ داری ہے ۔
رسول اللہﷺکی دوسر ی بچیاں ‘ایسے گھروں میں بیاہی گئی تھیںجہاں ضرورت کاسامان پہلے سے موجود تھا اس لئے آپ ﷺکو ان کے ساتھ ضرورت کا سامان مہیا کر نے کاتردد نہیں کرنا پڑا لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کاچونکہ نیا گھر بسنا تھا جہاں ضرورت کی چیزیں موجود نہیں تھیں اس لئے آپ ﷺنے ان کا بہتر بندو بست مہر کی رقم سے کیا جوسید ناعلی رضی اللہ عنہ نے شادی سے پہلے ادا کر دی تھی۔
عجیب بات ہے کہ ایک گھرانے میں پہلے سے اپنے پانچ سات فیملی ممبر ایک نئی آنے والی لڑکی کو رہنے کے لئے چند چیزیں مہیا نہیں کرسکتے کہ وہ لڑکی اپنے ساتھ لاکھوں کا سامان لے کر آتی ہے۔ کیا اس آنے والی لڑکی کو اتنے سارے سامان کی ضرورت ہوتی ہے؟نہیں بلکہ وہ اس بھرے ہوئے گھر میںموجود افراد کے لئے سامان اٹھا ئے آتی ہے ۔
حق مہر کی ادائیگی پر قرآن و سنت نے بہت زور دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ : واتوا النساء صدقتھن نحلۃ (النسا ء:۴) ’’اورتم عورتوں کوان کے مہر خو شی سے دو‘‘
ایک دوسری جگہ فرمایا: فانکحوہن باذن اہلھن واتو ہن اجورھن بالمعروف
’’تم ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اورتم ان کا مہر دستور کے مطابق اداکرو۔‘‘
اس با ت پر سب کا اتفاق ہے کہ حق مہر کا تقررصحت نکاح کے لئے ضروری ہے اور اس کے بغیر تعلقات زوجیت قائم کرنا جائز نہیں ۔گویا مہر ہر صورت میں اد ا کرنا ہوگا۔ اگر مہر ادا نہ کیا جائے تو عورت کوحق حاصل ہے کہ اپنے آپ کو اس سے روک لے ۔
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاہمیشرہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺکی طرف سے نجاشی شاہ حبشہ نے چار سو دینار سنہری اشرفیاں بطور مہردیئے ۔ اسی طرح سیدہ عائشہ ؓ کے ساتھ رخصتی کے وقت نبی کریمﷺ کے پاس مہر کی رقم موجود نہ تھی توانہوں نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے ادھار رقم لے کر مہر ادا کیا۔ اس طرح مہرکی ادائیگی نبی کریمﷺ نے لازمی قرار دی ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’ جس نے مہرکے عوض کسی سے نکاح کیا اور نیت نہ رکھی کہ مہر ادا کرے گا تووہ دراصل زانی ہے۔‘‘
تاہم مہرکی مقدار میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے قرآن کی سورۃ کے عوض بھی ایک شخص کانکاح ایک عورت سے کیا۔ (صحیح مسلم)
تاہم مہر کی رقم نہ ہونے کے باوجود نبی کریمﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ کو۵۰۰درہم مہر ادا کیا ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ سیدہ عائشہؓ سے محبت کے سبب نبی کریمﷺ ان کواچھے مہرکے عوض گھرلائے۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ مہر کی رقم اور کم سے کم کی بھی کوئی مقدار مقررنہیں اور یہ روایت کہ مہر کی رقم۳۲ روپیہ آٹھ آنے ہے …صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔
ہجرت مدینہ کے بعد نبی کریمﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓکے کپڑوں پر زرد رنگ کے نشانات دیکھے توفرمایا ‘ عبدالرحمن!یہ کس چیز کے نشان ہیں؟ بولے‘اے اللہ کے رسولﷺ میں نے شادی کی ہے‘ یہ خوشبو زعفران کے نشان ہیں ۔پوچھا‘ حق مہر کتناہے؟ بولے‘کھجورکی ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ آپﷺ نے برکت کی دعادی۔(صحیح بخاری)
اس سے ایک اوربات بھی واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرامؓ کی شادیاں کس قدر سادہ تھیں۔ مدینے کی چھوٹی سی بستی میں آپ ﷺ کے جانثار صحابی ؓ نے شادی کرلی تونہ آپﷺ کو بلایا اورنہ بتانے کی ضرورت محسوس کی ہے اور پھر نبی کریمﷺ نے ذرہ برابر ناراضگی کا اظہار بھی نہ کیا بلکہ برکت کی دعا فرمائی۔ گویا اسلام نے شادی کواتنا سادہ اور آسان بنادیا ہے ‘جتناکہ روٹی وپانی کا حصول آسان ہے۔
تاہم کثرت مہر سے منع فرماتے ہوئے فرمایا کہ ’’مہر میں مبالغے سے کام نہ لو۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں