Mufti Gulzar Ahmed Naeemi 71

مسلمان رجحان کے تخلیق کار. مفتی گلزار احمد نعیمی

مسلمان رجحان کے تخلیق کار

مفتی گلزار احمد نعیمی

یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی، آدمی سے ملتا ہے تو وہ دوسرے پر کچھ اثرات ڈالتا ہے خصوصا جب ایک قوم دوسری قوم پر حکومت کرتی ہے تو حاکم قوم محکوم قوم پر ایسے اثرات مرتب کرتی ہے کہ جسکا اثر بعد میں آنے والی کئی دہایوں بلکہ صدیوں تک رہتا ہے۔ حاکم محکوم کی معاشرت ،معیشت اور سیاست سب کچھ بدل دیتا ہے.مسلمانوں نے سپین پر آٹھ سوسال تک حکومت کی ۔سسلی ْپر دوسوتریسٹھ سال اورجنوبی اٹلی پرایک سو پچاس سال تک حکمران رہے.ان تمام مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کا طرز حیات دیگر اقوام کے لیے قابل تقلید نمونہ تھا.جو چیزیں مسلمان اپنے خوردو نوش میں اپناتے تھے وہی عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے قابل تقلید مثال ہوتا تھا.جو مسلمان پہناوے پہنتے یہودی اور عیسائی بھی وہ پہننے میں فخر محسوس کرتے تھے.عربوں کا ریشم اور اون سے بنا ہوا کپڑا,بغداد کا حریرو دیباج,موصل کی ململ اور غازہ کی جالی,ایرانی قالین اور غالیچے اہل یورپ کے لیے سامان فاریفتگی تھا.کون سوچ سکتا تھا کہ یورپ کی نیم برہنہ خواتین مسلم خواتین کی نقالی میں عبائیں اور حجاب پہننا شروع ہوجائیں گی.کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ گرجے میں عبادت کرنے والاعیسائی ایسی عبا زیب تن کیے ہوگا جس پر بغداد کے بافندوں نے خوبصورتی کے ساتھ اعلی نقش ونگاری کر کے قرآنی آیات کو کاڑھا ہوگا. سسلی میں ہزاروں کی تعداد جامہ باف تھے جنکی عبائیں، قبائیں اور چادریں عیسائی پادری اور بادشاہ پہننے میں فخر محسوس کرتے تھے.الغرض مسلمان ہر رجحان کے تخلیق کار (trend setters)تھے.دنیا کی قیادت، دنیا کی سیادت کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی.دنیا ہماری تہذیب وتمدن کی دلدادہ تھی.ہمارے علوم وفنون کی عاشق تھی.
لیکن آج جب اپنے نوجوانوں کے جسموں پر مغربی لباس دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے.کہاں گئی ہماری مسلمہ حیثیت ؟کہاں گئے ہمارے ناقابل تسخیر علوم وفنون ؟ہائے ہائے.!!.
تلک ایام نداولھا بین الناس.
رونا ہے اور بس رونا ہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں