Part I Muslims’ Inventions 62

مسلمانوں کی ایجادات پارٹ ۲.Part 2 Muslims’ Inventions

Part 2 Muslims’ Inventions

مسلمانوں کی ایجادات پارٹ ۲

مصنف کا تعارف:
زیرِ نظر کتاب ’’1001 Muslims’ Inventions‘‘کے مصنف سلیم الحسینی کا تعلق عراق سے ہے ۔وہ آج کل مانچسٹر یونیورسٹی میں درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کی اس کتاب میں مسلم دنیاکے ابتدائی دورسے لیکر تاحال تک مسلمانوں کی حیرت انگیز سائنسی ایجادات کو کتابی شکل میں پیش کیا گیاہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
کتاب کا تعارف:
جس دور کو انگریز تاریک زمانہ (Dark age ) کہتے ہیں وہ دور دراصل مسلمانوں کی ترقی کا درخشاں زمانہ تھا۔ کیونکہ جس وقت یورپ تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی کے کئی روشن باب تحریر کررہے تھے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج یورپ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے ہے لیکن جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد مسلمان سائنسدانوں نے کئی صدیاں پہلے رکھی۔
آٹھویں صدی سے لیکر تیرہویں صدی تک پورا یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس دوران مسلمانوں کی حکومت ایک کروڑ مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر محیط تھی (موجودہ روس سے کئی گنابڑی تھی ) جب مسلمانوں کی سلطنت میں امن وامان ،چین وآتشی کا دور دورہ تھا تو کئی سینوں میں علم وہنر کے کونپل پھوٹنے لگے اور ان کی خوشبو چارسوپھیل گئی ۔

علم وادب کے ان عظیم سپوتوں کا کام یورپ اور ایشیا سے ہوتا ہوا امریکہ پہنچا اور پھر امریکہ کے دریائے ایمازون کے آس پاس کے علاقوں سے ہوتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ان کی ایجادات اور دریافتوں سے ہزاروں چیزیں معرض وجود میں آئیں جن کے بطن سے تہذیب انسانی نے ایک نئی انگڑائی لی ۔

دوسری طرف یورپ میں ان ایجادات کو نہ صرف استعمال میں لایاگیابلکہ ان میں نت نئے اضافے کرکے صنعتی سائنسی انقلاب برپا کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ یورپی سائنسدانوں کا کرشمہ تھا ۔لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے پیچھے ہزاروں گمنام مسلمانوں کا ہی ہاتھ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علم وادب اور سائنس وٹیکنالوجی میں مسلمانوں کے کارنامے پس منظر میں چلے گئے اور یورپی سائنسدانوں نے ان ایجادات اور دریافتوں کو اپنے نام سے منسوب کرکے مسلمانوں کا نام ہی مٹا کے رکھ دیا۔
زیر نظر کتاب میں ان عظیم مسلمان سائنسدانوں اور انجینئر وں کی 1001 ایجادات کو حقائق کے ساتھ دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ قارعین کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ کون سی چیز کس نے اورکب بنائی/ایجاد کی۔
1۔ Key۔علم کیمیاء مسلمانوں کی ایجاد ہے۔
آپ کو یہ جان کریقیناًحیرت ہو گی کہ جدید کیمسٹری کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ کیمسٹری بھی عربی زبان کے لفظ کیمیاء سے ماخوذ ہے ۔عربی اور فارسی زبان کے بہت سے ا لفاظ ایک دوسرے سے کافی مشابہت رکھتے ہیں اور قرون وسطیٰ میں ان دونوں زبانوں میں کئی نادر کتابیں لکھی گئیں جن کا ترجمہ بعد میں دوسری زبانوں میں بھی کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس کی دنیا میں کیمسٹری کو سب سے پہلے متعارف کروانے والے تین مسلمان سائنس دان تھے جن کے نام جابر ابن حیان،محمد بن زکریا رازی اور یعقوب الکندی ہیں۔
جابر بن حیان کو مغرب میں’’ جبیر‘‘ کے نام سے جانا پہچاناجاتا ہے۔

جابر بن حیان پیدائشی فلاسفر تھے جن کی شہریت کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے آیا کہ وہ عربی تھے یا کوفہ سے آکر خراسان( ایران) میں آباد ہوئے تھے یا وہ ایرانی تھے اور جوانی میں کوفہ چلے آئے تھے۔ جابر بن حیان کا زیادہ تر کام کیمسٹری کے شعبے میں ہے۔ آپ نے سائنسی تجربات پر بہت زور دیا ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جابر بن حیان وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے’’ تجرباتی کیمسٹری ‘‘کی بنیاد رکھی اور بہت سے سائنسی آلات بھی ایجاد کئے جن کی مدد سے تجربات کئے جاتے تھے ۔

آپ نے بیس سے زائد اقسام کا لیباٹری کا سامان تیار کیا جیسا کہ الیمبیک ،ٹونٹی والا برتن اور بہت سے کیمیائی تعاملا ت کرنے والے بیکر شامل تھے۔ انہوں نے عمل کشید کے کئی نئے طریقے دریافت کئے اور ان کی و ضاحت کی۔ انہوں نے سیٹرک ایسڈ اور سرکہ سے ایسٹک ایسڈ اور الکحل بنایا اور اس سے خام مال میں استعمال ہونے والا ٹار ک ایسڈ تیار کیا ۔ اس کے علاوہ آرسیٹک کا حصول اور مرکری کے خواص دریافت کئے جو آج کی جدید کیمسٹری میں استعمال ہوتے ہیں ۔
جابر بن حیان نے کیمیائی تجربات کو کئی نئی اشیا ء کی تیاری میں بہتری لانے کے لئے استعما ل کیا۔جیسا کی سٹیل اور دوسری دھاتوں کی تیاری ،زنگ سے بچا ؤکے طریقے، سونے پر کشیدہ کاری ،کپڑے کو رنگنا اور واٹر پروف چمڑے کی تیاری میں استعمال ہونے والے رنگوں کا کیمیائی تجزیہ شامل تھا۔

آپ کا سب سے بڑا کارنامہ’’ سیلفورک ایسڈ‘‘ کی تیاری تھا جو آج کی صنعت میں سب سے زیادہ استعما ل ہونے والا کیمیکل ہے ۔اس کے علاوہ آپ نے’’آب سلطانی ‘‘تیار کیا جو سونے کو حل کرنے کی صلا حیت رکھتا ہے۔آپ نے ایسا کاغذ بھی تیار کیا جو کہ آگ کو برداشت کر سکتا تھا ۔ انہوں نے ایسی سیا ہی بنائی جسے رات کے اندھیرے میں پڑ ھاجاسکتا تھا ۔آپ نے ایک ایسا کیمیکل بنایا جو جب لوہے کو لگایا جاتا تو اسے زنگ سے محفوظ اور جب کپڑے کو لگایا جاتا تو پانی کپڑے میں جذب نہیں ہوسکتا تھا۔

دنیا کے تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ کیمسٹری کی بنیاد رکھنے والے جابر بن حیان ہی تھے۔آپ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ عراق کے شہر کوفہ میں گزارا۔وہ دن رات اپنے کام میں مصروف رہتے اور نئے نئے کامیاب تجربات کرتے تھے۔آپ نے ایلمونیئم کے کشید کے عمل سے تیزاب ایجاد کیااورمختلف تجربات کے ذریعے دھاتیں اور معدنیات دریافت کیں جو انسان کے کام آسکتی تھیں۔اسی طرح الرازی کو مغربی دنیا میں’’ راحزز‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔

آپ نے ایک کتاب تحریر کی جس میں انہوں نے کیمیکل سے مختلف مادے بنانے کاطریقہ بتایا ۔سابقہ سائنس دانوں کے طریقوں کو ذہن میں رکھ کر آپ نے کام کیا،اور نئے نئے کامیاب تجربے کئے۔ انہوں نے دنیا کی پہلی کیمیا ئی لیب تعمیر کروائی ۔اس لیب میں بیس مختلف اقسام کے آلات رکھوائے گئے جن میں بعض کو آج بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔آپ نے اپنے مفروضات کی وضاحت اور تجربات کے لئے درکار سامان کومہارت سے قلم بند کیا تا کہ ان کے بعد دوسرے سائنسدان بھی استعمال کر سکیں۔
ان کی کتاب سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرق کشی، راکھ بنانے اور قلم پذیری جیسے کیمیا ئی عوامل پر تجربات کرنے کے لئے مشہور تھے۔ اس کے علاوہ سائنس دان یعقوب الکندی نے بہت سی کتب تحریر کیں ۔آپ کے بہت سے تجربات کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا گیا ہے۔ نہ صرف لاطینی بلکہ دنیا کی دیگر مقامی زبانوں میں بھی ان کی کتابوں کا ترجمہ دستیاب ہے۔
2۔Key۔ لکھائی اورتصاویر کے فن میں مسلمانوں کا حصہ ۔
اگر ہم اسلا می تاریخ کا مطا لعہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دور جدید کی ہر ایجا د کی بنیاد رکھنے والے مسلمان سائنس دان ہی تھے۔ شاہکارنقش ونگار بنانے جیساقابلِ تحسین فن بھی مسلمانوں کی محنت کا ثمر ہے۔یہ فن اگرچہ ایک قدرتی صلا حیت ہے لیکن اس کو سیکھنے کے لئے مسلسل ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے ۔اکثر اوقات ہمارے سامنے ایسے دلکش نمونے آتے ہیں کہ ہم ان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور پلک جھپکنے میں ہمیں ان کے کئی کئی نئے روپ دکھائی دیتے ہیں۔
زمانہ قدیم میں رسم الخط کے مختلف طریقے ہو ا کرتے تھے۔ مثلاً ،قدیم مصری تحریر جو بجائے حروف کے، اشکال کی مدد سے لکھی جاتی تھی لیکن عربوں نے رسم الخط ایجاد کر کے اشکال کو ختم کر دیا جس سے پڑھنے لکھنے میں بہت آسانی ہوئی۔ اگرچہ لکھائی کا طریقہ ساتویں صدی میں اسلام سے پہلے رائج تھا لیکن مسلمانوں نے اس پر بہت کام کیا اور اسے باقاعدہ ایک فن کا درجہ دیا۔وہ اس کام کو فن کے طور پر استعمال کرتے تھے،اور اس کے ساتھ ساتھ وہ قدرتی علم ہندسہ پر بھی کام کرتے رہے ۔

یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے’’ صفر‘‘ کا ہندسہ ایجاد کیا۔آہستہ آہستہ لکھائی کا فن ایک عبادت کی صورت اختیار کر گیا ۔بالکل اس طرح جیسے قرآن پڑھنے والے پر اللہ تعا لیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے اسی طرح مسلمانوں میں قلم کو علم کی علامت سمجھا جانے لگا ۔ مسلمانوں کا ایجاد کیا ہوانسخ رسم الخط ، کوفی رسم الخط سے زیادہ پراناہے جو صدیوں سے رائج ہے ۔یوں لکھائی معاشرے میں جانا پہچانا ہنر بن گئی ۔اس وقت اہل یورپ لکھنے کے فن سے مکمل طور پر ناآشنا تھے۔
نبیﷺ انسان اور حیوان کی تصویریں اور مجسمے بنانے کے فن کو سخت نا پسندیدہ فرماتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زمانہء جاہلیت میں انسان بتوں کی پرستش کرتے تھے ۔کوئی آگ کی پرستش کرتا تھا توکوئی ستاروں اور سورج کی۔اس طرح مختلف مذاہب وجود میں آتے گئے۔آپﷺ یہ ہر گزنہیں چاہتے تھے کہ مسلمان اس فن کی بدولت پھر سے بت پرستی کی طرف متو جہ ہوجائیں کیونکہ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوکر دوسروں کی عبادت میں لگ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں مجسمہ سازی اور پینٹنگ کا علم پروان نہ چڑھ سکا لیکن ان کی جگہ جس نے خوب ترقی کی وہ لکھائی اور خطاطی کا فن تھا۔
دوسری طرف مسلمان علم جیو میٹری کے فن میں بھی مہارت رکھتے تھے۔با صلاحیت فنکاروں نے اپنے خیالات اور تصورات کو تصویر ی شکل دے کر فن کی دنیا میں ایک اانقلاب برپا کر دیا۔یورپ کے فنکار مسلمان فنکاروں کے اس فن سے بے حد متاثر ہوئے۔عرب گل کاری کا کام پھلوں اور پودوں کی مدد سے کیا جاتا تھا ۔اس کو جب اہل یورپ نے دیکھا تو وہ اس کے گرویدہ ہو گئے ۔انہوں نے مسلمانوں کے اس فن کی نقل کی اور اس کو یورپ میں لے گئے۔
مثال کے طور پر لیونارڈو ڈونچی نے اپنا سارا وقت اس فن میں مزید نکھا ر پیدا کرنے میں صرف کر دیا۔اس کی بہترین پینٹگ مونا لیزا ہے۔یہ تصویر پیرس کے مشہور عجائب گھر لودرغ میں رکھی ہوئی ہے۔اس تصویر کی ایک خوبی یہ ہے کہ اسے کسی بھی رخ سے دیکھا جائے تو ایسا ہی لگتاہے کہ جیسے مونا لیزا ،تصویر کانظارہ کرنے والے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔یوں ڈونچی نے مسلمانوں کے علم جیومیٹری کا خوب استعمال کیا۔
اس کے بعد مسلمانوں کے فن جیومیٹری کوبیسویں صدی کے فنکاروں نے مزید بلندیوں تک پہنچا یا۔یورپ کا ماریت کرنیلس ایسچر دنیا کے سب سے مشہور گرافک فن کاروں میں سے ایک ہے۔اس کے فن سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔اس نے اپنی زندگی میں ۸۴۴ لیتھ گرافس ،اور دو ہزار سے زائد تصویریں اور خاکے بنائے۔چودھویں صدی میں یورپ کے فنکاروں کے لئے فن کی دنیا میں بہت بڑی پیش رفت ہوئی۔انہوں نے مسلم ممالک سے بہت بڑی تعداد میں آئل پینٹ درآمد کئے۔اس سے پہلے وہ لکڑی پر روغن کا ایک طریقہ استعمال کیا کرتے تھے،جس کو پانی ،انڈے اور شہد ملا کر کے بنایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کی ایجاد ایلسی کے تیل سے بنائی جانے والی تصوروں نے یورپین پینٹنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا،جس سے تصویریں اور بھی زیادہ دلکش دکھائی دینے لگی۔
اگر ہم دین اسلام کی روشنی میں اس فن کی بات کریں تو نباتات و جمادات کی حد تک اس فن کی اجازت ہے مگر انسان اور حیوان کے مجسمے اور تصویریں بنانے کی اجازت نہیں ۔اسلامی تعلیمات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمانے کے لوگوں نے اپنے بزرگوں کی تصاویر وغیرہ بنا کر آہستہ آہستہ ان کی پوجا کرنا شروع کردی تھی۔اسی لئے آپﷺ نے تصاویر بنانے سے سخت منع فرمایا۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والے کو ہوگا۔
Key-3۔فنِ خطاطی۔
اگرہم اپنے آپ کو تھوڑا پیچھے لے جائیں اور اپنے کمرہ جماعت کے وقت کو یا د کریں ،جہاں ہمیں روزانہ کا سبق روز انہ یاد کرنا پڑتا تھا تو ہمیں لکھائی کی وقعت سمجھ آئے گی۔ لکھنے کے لئے حروف اور الفاط کو خوبصورت شکل میں تحریر کرنا پڑتاتھا ورنہ استاد سے ڈانٹ پڑتی تھی۔آپ کو یاد ہو گا کہ ہم کتنی محنت سے خوش خطی کرتے تھے لیکن پھر بھی اپنی لکھائی سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ دیکھا جائے تو ہر انسان کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ خوبصورت انداز میں الفاظ تحریر کر سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریر کا فن خوبصورت خطاطی کے ساتھ انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے ۔ آج انسان الفاظ کو خوبصورت انداز میں لکھنے میں جو ترقی کررہا ہے اس کی وجہ سے وہ قلم سے کمپیوٹر تک پہنچ گیا ہے ۔
اس زبردست ترقی میں مسلمانوں کی محنت شاقہ کا بڑا ہاتھ ہے ۔ ہر انسان ایک اچھا لکھاری نہیں بن سکتا ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمت اور صلاحیت ہے جو ہر انسان میں نہیں پائی جاتی۔لکھنا ایک مسلسل عمل ہے جو کبھی ختم نہی ہوتا۔خوبصورتی سے لکھنے کے بہت سے طریقے ہیں،جیسا کہ قدیم مصر کی تحریر تھی جو اشکال کی مدد سے لکھی جاتی تھی،لیکن ان سب طریقوں میں عربی رسم الخط سب سے زیاہ مقبول ہوا۔حقیقت میں عربی رسم الخط قدیم شام کی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ اس میں تحریر کے بہت سے طریقے استعمال کئے گئے لیکن دو سب سے زیادہ معروف ہوئے۔ ایک نسخ اور دوسرا کوفی انداز تحریر تھا۔کوفی تحریر کا انداز عراق کے شہر کوفہ کے رہنے والوں نے ایجاد کیا ۔کاتب اور منشی حضرات قرآن پاک کو خوبصورت خط نویسی میں لکھا کرتے تھے۔نسخ تحریری طریقہ کوفی کے طریقے سے زیادہ پرانا ہے اور موجودہ عربی رسم الخط سے بہت زیادہ مشا بہت رکھتا ہے۔
مسلمانوں نے خوشخطی کو رواج دے کر علم کو آگے بڑھایا ۔کیونکہ خوشخطی کا براہ راست اثر انسان کی شخصیت پر پڑتا ہے اس لئے عرب کے ساتھ ساتھ ایران اوربرصغیر پاک و ہند کے خطاطوں نے خطاطی میں کمال فن کے اعلی نمونے تخلیق کئے اور خوب شہرت پائی۔آج بھی دنیا بھر میں برصغیر پاک و ہند کے صدیوں پر محیط اس فن کے شا ہکار جا بجا عوام الناس کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جو پہلی وحی نازل فرمائی وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ :’’اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے ،پڑھ اور آپ کا رب بڑا کریم ہے،وہ ذات جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا،اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا‘‘۔
مسلمان زیادہ تر سیاہ اور بھوری سیاہی استعمال کرتے تھے اورعام طور پر خطاط اپنی سیا ہی خود بناتے تھے۔نیلے رنگ کے چمڑے پر چاندی نما عفرانی سیاہی استعمال کی جاتی تھی اور مضمون کی ہیڈنگ (عنوان )کے لئے بھی اسی کا استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ رنگین سیاہی جیسے سرخ ،سفید اور نیلے رنگ کوعنوان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔اس دیدہ زیب لکھائی نے اتنی شہرت پائی کہ کمپیوٹر کی ایجاد کے باوجود ہاتھ سے لکھنے کا فن آج بھی اتنی اہمیت رکھتا ہے جتنی پہلے رکھتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کو ئی بھی ایجاد ہاتھ کے ہنر کی جگہ نہیں لے سکی۔آجکل شادی کارڈز اور پوسٹ کارڈز وغیرہ کو مزید خوبصورت بنانے کے لئے خوش نویسوں سے ان پر سجاوٹ کروائی جاتی ہے۔
یورپ نے خطاطی کے فن میں مزید ترقی کے لئے عرب سے تجارت کے معاملات کو مزید آگے بڑھایا اور یوں یورپ میں فن خطاطی نے پروش پائی۔دیکھا جائے تو خطاطی اور لکھائی انسان کے نکھار کا باعث بنتی ہیں۔ لکھائی سے انسان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اگر امتحان کی بات کریں تو اچھی اور خوبصورت تحریر کے اضافی نمبر دئیے جاتے ہیں۔ اگر ہم کاغذ کی بات کریں تو چرمی کاغذکے مقابلے میں،عام کاغذ کو کسی بھی سا ئز میں با آسانی کاٹا جاسکتا ہے اور چسپاں کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قلم اور کاغذ دونوں کا بہت زیادہ ادب کریں۔ اللہ تعا لیٰ نے قرآن کریم میں قلم کی قسم کھائی ہے۔
مسلمانوں میں صدیوں تک تختی بنیادی ذریعہ تعلیم رہی ہے۔ مسلمان بچے سرکنڈے کے قلم بناتے تھے لیکن جدید دور میں تختی اور سرکنڈے کا قلم تقریباًمتروک ہوچکے ہیں۔ لکھائی کو بہتر بنانا مشکل کام نہیں ہے۔کسی بھی چیز کوحاصل کرنے کے لئے اس کی قدر ومنزلت اور اہمیت دل میں ضرور ہونی چاہیے ورنہ ہم اس چیز کو کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔اگر کوئی مضمون خوبصورت لکھا گیا ہو تو پڑھنے والے کا دل چاہتا ہے کہ ساری تحریر پڑھ ڈالے۔ اس کے برعکس اگر بری لکھائی میں کوئی اچھی چیز لکھی گئی ہو تو انسان اس کو نظر انداز کر دیتاہے۔
4Key-4 ۔الفاظ کی حقیقت۔
عربی ایک فصیح و بلیغ زبان ہے۔ اس کو باقی زبانوں پر ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی دیگر تمام زبانوں کا منبع عربی سے نکلا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام زبان کی ’’مادرالسان‘‘ ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی کے تمام حروف تہجی عربی سے مستعار لئے گئے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو مندرجہ ذیل حروف کی اصلیت پر ایک نظر ٖڈالیئے آپ کو خوشی ہو گی کہ عربی نے علم کے فروغ میں کتنا کام کیا ہے ۔یہاں ہم آپ کے سامنے انگریزی حروف کے اصل معنی پیش کرتے ہیں تا کہ آپ الفاظ کی حقیقت تک پہنچ سکیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی کے حروف تہجی عربی سے اخذ کئے گئے ہیں۔
مثال کے طور پر لفظ عربی زبان میں حرف ( A ) امیر البحر(،جہازوں کے سپہ سالار )کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔لفظ (B) پل کے لئے جس سے دریا پار کیا جاتا تھا۔لفظ (C) مختلف معنوں میں استعما ل کیا جاتا تھا۔مثلاً،کیویار کے معنی میں اوربیضوی انڈا وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔لفظ (D)’’ ڈراگوامین‘‘ کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھاجس کا مطلب ہے مترجم ۔مختلف ممالک میں عربی،فارسی اور ترکی سکھانے کے لئے مترجم ہواکرتے تھے۔لفظ (E) ہسپانیہ کے ایک باشندے کا نام تھا جو اپنے وقت کا مشہور موسیقار تھا۔اس کی تعریف میں ایک نظم لکھی گئی تھی،اس کی یاد میں یہ لفظ ( E ۔ L،C ،I ،D) استعمال ہوتے تھے۔لفظ (F)فم الحوت یعنی ستاروں کے جھرمٹ میں جو سب سے بڑا ستارہ ہوتا ہے؛ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔لفظ (G) غو یعنی بیابانی اور زرافے کے لئے استعمال کیا جاتاتھا۔لفظ (D) خطرے اور حادثے کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا ۔لفظ (I) ایزر یعنی برقعہ اور حجاب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔لفظ (J)صراحی کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔لفظ (K)سرمہ کے لئے استعمال ہوتا تھا جو ایک خاص قسم کا پاوڈر ہے ۔لفظ (L) کااستعمال لی لیک کے لئے ہوتا تھا جس کا معنی ہے’’ بان‘‘ اس کے علاوہ یہ لیموں کے معنی میں بھی مستعمل تھا،جو فارسی زبان کے لفظ لیمون سے ماخوذ ہے۔لفظ (M)مافیا کے معنی میں استعمال ہوتا تھا،جو عربی زبان کے لفظ مایہا سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے چمک دار چیز۔
لفظ (N) نادر کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔لفظ (O) اورنج کے معنی میں استعمال ہوتا تھاجو فارسی لفظ ’ نارنج ‘سے اخذ کیا گیاہے۔لفظ (P) فرکد کے معنی میں استعمال ہوتا تھاجوعربی زبان کے لفط الفکرکد سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب’’ غار ‘‘ہے۔لفظ (Q) قانون کے معنی میں استعمال ہوتا تھا جس کو دسویں صدی میں الفرابی نے متعارف کروایا تھا۔لفظ (R) شطرنج کے مہرہ کے معنی میں استعما ل ہوتا تھا۔لفظ (S) مختلف معنوں میں استعما ل ہوتاتھاجیسے صوفہ ،بادشاہ کے بیٹھنے کی جگہ،اور شوگر چینی،اور یہ سلام کے معنی میں بھی استعمال ہوتا تھا۔لفظ (T)ٹیبے کے لئے استعمال ہوتاتھا جس کا مطلب سلک کا کپڑا ہوتا تھا ۔لفظ (U)انوکل ہیہ کے لئے استعمال ہوتا تھا،جس کا مطلب ہے سانپ کی گردن۔لفظ (V) وزیر کے معنی میں استعمال ہوتاتھا جس کا مطلب ہے عوام کی خدمت کے لئے مقرر کردہ وزیر۔
لفظ (W)وادی کے لئے استعمال ہوتا تھا جس کا مطب ایسی جگہ جو بارشوں کے موسم کے علاوہ ہر وقت خشک رہتی ہو۔لفظ (X) ریاضی میں الجبرا کے استعمال کے معنی میں استعما ل ہوتاتھا۔لفظ (U)یوگڑٹ کے معنی میں استعمال ہوتا تھاجو ترکی زبان کے لفظ یوگوروت سے اخذ کیا گیاہے۔لفظ (Z) زینتھ کے معنی میں استعمال ہوتا تھاجس کا مطلب ہے کسی چیز کا بلندی تک پہنچنا۔یہ ہسپانوں لفظ زینیٹ سے اخذ کیا گیا ہے،جو عربی زبان کے لفظ سمت سے ماخوذ ہے۔
ہر ملک میں حروف تہجی سے مختلف حروف بنائے جاتے ہیں۔اگر ہم ان حروف سے اسلامی الفاظ کو اپنے نصاب کا حصہ بنا لیں تو یہ ایک بہت کارآمد چیز ہوگی ۔ بچپن سے ہی بچے کے دل میں اسلام اور دین کی محبت پیدا کردی جائے تا کہ اس کے دل میں شروع ہی سے اللہ تعالی کی عظمت بیٹھ جائے اور وہ ایک مخلص اور سچا انسان بن کر ملک اور اپنے دین کی خدمت کرے اور اپنے دین کودنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کی کوشش کرے۔ سچ یہ ہے کہ ایک اچھی سوچ اور خالص نیت کے ساتھ ہی انسان اچھے کام کرسکتا ہے۔
Key-5۔یورپ کی یونیورسٹیوں کی تعمیرمیں مسلمانوں کا کردار ۔
اگرچہ یونیورسٹی کی بنیاد مسلمانوں سے پہلے یونانیوں کے دور میں رکھی گئی تھی لیکن ان کو باقاعدہ علمی درسگاہ کے طور پر استعمال کرنے کاسہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے ۔مسلمانوں کے دور میں سکولوں کی جگہ مسجدیں بچوں اور بڑوں کی تربیت کے لئے استعمال ہونے لگیں۔ نبی ﷺ نے جب ہجرت مدینہ کی تو سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی جس میں باقاعدہ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یورپ میں جامعات کا باقاعدہ آغاز بارھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اس زمانے میں تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی مرکز چرچ ہواکرتے تھے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اسلاف نے ہر دور میں باطل کو بڑی مہارت اور حکمت کے ساتھ شکست دی ہے۔

اس زمانے میں عربی زبان کو بہت اہمیت حاصل تھی ،مسلم مفکرین نے اپنی محنت اور کوششوں سے تعلیم کے میدان میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں ۔مسلم مفکرین نے عربی زبان میں ہر چیز کا ترجمہ کر کے قرون وسطی کے یورپی مفکرین کو بڑی دانشوری سے اپنا گرویدہ بنایا۔مسلمانوں نے معلومات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا،معلومات کے اس ذخیرہ سے پہلے یورپ میں بائبل کی تعلیم دی جاتی تھی،لیکن معقول اور سائنسی سوچ رکھنے والے تمام انسان ان مراکز میں دی جانے والی تعلیم کے نظام سے مطمئن اور متاثر نہ ہوئے۔ اس ضمن میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کامیابی سائنسی تجربات کے نظام کو متعارف کروانا تھا۔جب عربی زبان سے دوسری زبانوں میں ان تعلیمی خدمات کا ترجمہ کیا گیا توماہر سائنس دانوں نے ان پر تجربات کئے۔
مسلمانوں کی انتھک کوششوں کی بدولت یورپ میں بہت سے نئے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔اس زمانے میں عیسائی خانقاہوں میں بنیادی تعلیم دی جاتی تھی۔اس کے بعد تعلیم کا یہ سلسلہ یہاں سے گرجا گھر سکولوں میں منتقل ہوگیالیکن ان خانقاہوں کا ایک بڑانقص یہ تھا کہ ان میں ایک ہی سوچ کے حامل صرف چند محدود لوگوں کو تعلیم دی جاتی تھی ۔اس کے برعکس بڑے گرجا گھرسکولوں میں پورے یورپ سے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔آگے چل کر انہی گرجا سکولوں کو جامعات میں تبدیل کر دیاگیا اور یہ سب کچھ مسلمانوں کو دیکھ کر کیا گیا۔سب سے پہلی مغربی یورپ کی یونیورسٹی اٹلی میں قائم ہوئی۔
دوسری طرف محنتی سکالرز کی بدولت عربی زبان مسلسل اپنا سفر کامیابی سے طے کرتی ہوئی یورپ میں پہنچی۔اس طرح بارھویں صدی کے آغاز میں مغربی ممالک سے علم کا بہت بڑا سرمایہ فرانس کے شہر پیرس منتقل ہوگیا ۔
لفظ’ یونیورسٹی‘ لاطینی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز میں مساوات قائم کر نا۔ بات ہو رہی تھی یونیورسٹیوں کی توکیتھولک گرجا سکول میں برسوں تک یورپ میں اعلیٰ تعلیم دی جاتی رہی۔یورپ کے حکمرانوں نے عوام الناس کی علم کی پیاس اور لگن کو پورا کرنے کے لئے یونیورسٹیوں کو قائم کرنا شروع کردیا اورجس کا آئیڈیا مسلمانوں سے لیا گیا۔یونیورسٹی بنیادی طور پر اعلی تعلیم حاصل کرنے کا ایک ادارہ ہوتا ہے۔موجودہ دور میں بیرونی ممالک میں قائم تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے تمام شعبہ جات میں منفرد تعلیم دی جاتی ہے جہاں دنیا بھر سے طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لیتے ہیں ۔یورپی یونیورسٹیوں میں انتہائی قا بلیت کے حامل اعلیٰ تعلیم یا فتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔طلبہ اپنے متعلقہ تعلیمی پروگرامز میں ان اساتذہ کے تجربات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔موجودہ دور کی چند مشہور یونیورسٹیوں کے نام آکسفورڈ،کیمرج۔ہاورڈ اور ہارلے ہیں۔
قرون وسطیٰ کی یونیورسٹیوں میں قابل اور ماہر استادوں کی فیکلٹی ہواکرتی تھی ،جنہیں یہ اختیار تھا کہ وہ کورس پاس کرنے والے طلبہ میں اسناد تقسیم کریں۔اس زمانے کی یونیورسٹیاں موجودہ دور کی جامعات سے بہت مختلف تھیں ۔
اگر تعلیمی ادارے مضبوط ہونگے تو اسلامی ممالک ترقی کی منزلیں طے کریں گے۔اگر ہرمسلمان محنت اور لگن سے اپنے کام انجام دے تو ہر شعبہ میں بہت ترقی حاصل ہوگی ۔مثلًا اگر پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں ہی اپنی جگہ مخلص ہوں تو اس میں ادارے کے ساتھ ساتھ دونوں کا فائدہ ہوگا۔اس لئے استاد اور طالب علم دونوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے پیشے کے ساتھ مخلص رہیں۔
دیکھا جائے توقرون وسطیٰ کے مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں شاندار خدمات انجام دیں ۔اسی وجہ سے مسلمان بہت عرصہ تک دنیا پر حکومت کرتے رہے۔اللہ تعالی نے انہیں ہر میدان میں بہت کامیابی اور عزت عطا فرمائی ۔یہ سب ان کی محنتوں کا نتیجہ تھا ۔اس کے برعکس جونہی انہوں نے محنت اور دیانت داری کو چھوڑا ہر میدان میں پیچھے ہوتے چلے گئے۔اس لئے ہمیں کبھی بھی لالچ میں آکراپنی ثقافت اور دین کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔قرآن پاک میں ارشاد گرامی ہے اگر تم اپنے دین پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین کا خلیفہ بنادے گا۔
Key-6 ۔دانش کدہ۔
بارہ سو سال پہلے بغداد دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر تھا۔خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دور حکومت میں یہ شہر ہر شعبہ میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن تھا۔ اس وقت کا بغداد اپنے زمانے کا ایک مہنگا ترین شہر بھی تھا۔ یہ دانشوروں کا مرکز کہلاتا تھا۔ان معزز خلفاء کے دور حکومت میں شہر کی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔بغداد کی ترقی کی بنیادی وجہ ان حکمرانوں کاسائنس کے میدان میں ذاتی طور پر خصوصی توجہ دینا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے پوری دنیا سے مسلمان محققین کو جمع کیا اور ایک بہت بڑا ادارہ تعمیر کیا اور اس کا نام ’’بیت الحکمت‘‘ رکھا ۔اس ادارے میں سائنس ا ور فنون لطیفہ کی دنیا میں بہت بڑا کام کیا گیا۔اس کی بدولت بغداد سائنس اور فنون کا مرکز بن گیا۔ اس ’’دانش کدہ ‘‘ کے شروع میں دو نام رکھے گئے تھے۔

شروع میں یہ ادارہ صرف ایک کمرے تک محدود تھا۔ اس وقت اس کا نام بیت الحکمہ تھا۔اس کے بعد خلیفہ الما مون کے دور میں اس میں مزیدبہتری لائی گئی اور اسے ایک کمرے سے بڑھا کر کے بہت بڑے ہال میں تبدیل کر دیا گیااور اس کا نام دارالحکمت رکھا گیا۔اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ ہر آنے والے دور میں اس میں مزید بہتری پیدا ہوتی چلی گئی۔قرون وسطی ٰکے ذہین اور عقلمند لوگ لکھنے پڑھنے کے سلسلے میں روز ملاقات کرتے ،بحث مباحثہ کرتے اور ترقی کے لیے نئی نئی تجاویز پیش کرتے تھے۔اس زمانے میں زیا دہ بولی جانے والی زبانیں یہ تھیں۔۱۔عربی۔۲ ۔عبرانی۔۳۔فارسی۔
اس دور میں ہر طرف ارسطو اور افلاطون کا چرچا تھااور ان کے کارناموں کو ہر جگہ سراہا جاتا تھا۔خلیفہ المامون نے ارسطو کی کتب کا ترجمہ کروانے کے لئے یعقوب ا لکندی کا انتخاب کیا جو کہ خود بھی بہت سی خوبیوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور طبیب،ریاضی دان، اور فلاسفر تھے۔
اس کے علاوہ خلیفہ المامون نے خوبصورت دستکاری کی چیزوں اوربعض قیمتی کتا بوں کو ایران سے برآمد کروانے کے لیے سو اونٹ استعمال کئے۔اس کے علاوہ خلیفہ المامون نے سائنس دانوں اور مفکرین کے ساتھ مل کر کام کیا اور ستاروں کا علم سکھانے کے لیے ایک بہت بڑا مر کز قائم کیا۔خلیفہ المامون گہری بصیرت رکھنے والے سکالر تھےاور بعض تاریخ دان ان کو عرب کی تہذیب کا بانی بھی کہتے ہیں۔
خلیفہ ہارون الرشید بہت نیک دل انسان تھے۔ اپنے وقت کےبادشاہ ہونے کے باوجود دل میں اللہ تعالی کا بہت زیادہ خوف رکھتےتھے۔جب کوئی اسے نصیحت کرتا تو بہت توجہ سے اس کی نصیحت سنتے اور پھر بہت دیر تک روتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ حج کو جارہےتھےتو سعدنامی مجنون سامنے آگیا اور چند شعر پڑھے،جن کا مطلب یہ تھا کہ مان لو تم ساری دنیا کے بادشاہ بن گئے ہو،لیکن آخر کیا موت نہ آئی گی ۔دنیا کو اپنے دشمنوں کے لئے چھوڑ دو۔جو دنیا آج تمہیں خوب ہنسا رہی ہے ۔یہ کل تمہیں خوب رلائے گی۔یہ اشعار سن کر ہارون الرشید نے چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر گئے اور اتنی دیر تک بیہوشی رہی کہ تین نمازیں قضا ہو گئی ۔

ان کی انگو ٹھی شاہی مہر کے طور پر استعمال ہوتی تھی جس پر لکھا تھاہر قسم کی بڑائی اور ہر نوع کی قدرت صرف اللہ تعا لی کے لئے ہے۔یہ مضمون گویا ہر وقت نگاہ کے سامنے رہتا تھا۔اگر ایسے دانشور حکمران ہمیں آج مل جائیں تو مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت و وقار بحال کر سکتے ہیں۔جب تک مسلمان اپنے دین کے مطابق ہر شعبے میں عمل کرتے رہے تو پوری دنیا میں ان کا بول بالا رہا لیکن جونہی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑا تو آہستہ آہستہ وہ زوال کا شکار ہوتے چلے گئے۔
ماننا پڑے گاانسان صرف اپنی عقل کے بل بوتے پر کبھی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔اگر اللہ تعا لی ٰکی رحمت اس کے ساتھ نہ ہو تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔صرف اپنے عمل سے انسان کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔جنت میں بھی انسان اللہ تعا لی ٰکی رحمت سے ہی جائے گا۔ہمیں اپنی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے اور اپنے اسلاف کی قربانیوں سے سبق سیکھنا چا ہیئے۔اور ان کی خدمات کو یاد رکھنا چا ہیئے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنا چاہیئے۔
Key-7۔علم اور تعلیم۔
علم اور تعلیم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ علم اس حکمت کا نام ہے جو آسمان سے فرشتوں کے ذریعے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے نبیوں کو عطا کی گئی اور جس کی تعلیم مدارس اور خانقاہوں اور مساجد میں دی جاتی ہے۔حقیقت میں اس علم کو ہی علم الہی کہتے ہیں۔اللہ تعالی کے تمام وعدے اور بشارتیں صرف اسی کے حصول کے ساتھ مشروط ہیں۔ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ علم حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے۔دوسری جگہ ارشاد مبارک ہے کہ علم نبیوں کی میراث ہے۔ایک اور جگہ فرمایا: جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے،سوائے تین عمال کے، ان کا اجر و ثواب قیامت تک ملتا رہتا ہے،جن میں سے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے دوسرے نفع حاصل کرتے ہیں اور تیسری وہ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہے۔

حقیقت میں جو تعلیم انسان کے اندر نکھار پیدا کرے وہ ہی علم کہلوانے کا حق رکھتی ہے۔لیکن افسوس اس بات پر کہ ہم مسلمانوں کے نزدیک دنیا کی تعلیم کی تو بہت اہمیت ہے مگر علم دین کی کوئی اہمیت نہیں ۔سکول ،کا لج میں دی جانے والی تعلیم ایک ایساعمل ہے جس کے ذریعے ہم ہنر سیکھتے ہیں۔مسلمانوں میں کتابوں اور علم کے فروغ کا سنہری دور آٹھویں صدی سے شروع ہو کر تیرہویں صدی تک جاری رہا۔قدیم تعلیمی مواد کے اندر مزید بہتری لائی گئی اور نئی نئی ایجادات متعارف کروائیں گئیں اور معلومات کو دنیا کے کونے کونے تک پھیلایا گیا۔کسی بھی چیز کا براہ راست مشاہدہ کرنے کے لئے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اس عمل کو سمجھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اسے آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہوتاہے تبھی ہم اس پر کچھ لکھ سکتے ہیں۔

کئی علوم پر مہارت رکھنے والے مسلم سکالرز نے جو ایجادات کیں ،ان کے ذریعے سے جتنا علم پھیلا ،اس کا بہت زیادہ اثر تو نو مسلموں پر بھی ہوا۔علم کی پیاس اور علم حاصل کرنے کی لگن دور دور تک پھیلتی چلی گئی۔بارھویں صدی کے ایک مسلم سکالر عبدالرحمن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ آنے والے وقتوں میں دنیا میں بیک وقت تین مذہب رائج ہونگے ،مسلم،یہودی اور عیسائی ۔مسلمانوں کے ایسے نظریات مشرق و مغرب کے تمام سکالرز کو بہت دلکش لگے۔بارھویں صدی کے کامیاب تاریخ دان لارڈ ہیڈلے ہیں جو اپنے کام کے علاوہ عربی اور لا طینی زبان میں کئے گئے کام کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔

اس طرح ہر دور کے مفکرین نے اپنے اپنے زمانے میں قدیم معلومات کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کے ہر ممکن اقدامات کئے۔اس کے برعکس بالکل اسی طرح علم دین کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کے لئے بھی ہمارے اکابرین اور اسلاف نے خاطر خواہ کوششیں کیں۔اہم بات یہ ہے کہ ہم جو بھی سیکھیں اس پر عمل کریں ۔ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار سوال نہ کر لئے جائیں نمبر ایک عمر کس مشغلہ میں خرچ کی،نمبر دو جوانی کس کام میں صرف کی،نمبر تین مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور آخری سوال یہ کہ اپنے علم پر کتنا عمل کیا۔
مشہور ریاضی دان اور کیمسٹ یعقوب الکندی کا کہنا ہے کہ ہمیں کبھی بھی سچ کی تعریف کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیئے ۔چاہے وہ جہاں سے بھی حاصل ہو،ایک سچے اور مخلص انسان کے نزدیک سچائی سے زیادہ کوئی بھی چیز محبوب نہیں ہوتی،اور جو سچ بولتا ہے اور اسے پھیلاتا ہے اس کو کبھی آنچ نہیں آتی۔سائنس اور اسلام کا اگرموازنہ کیا جائے تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ سائنس کی بہت سی ایجادات اور نظریات کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔اسلا می نقطہ نظر کو سائنسی تھیوری کا نام دیا جاتا ہے۔یہاں سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہر لحاظ سے ایک مکمل مذہب ہے جس سے ہر شعبہ زندگی کو مکمل رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
افسوس اس بات پر کہ آج کا مسلما ن سائنس کی تحقیقا ت پر تو بھروسہ کرتا ہے مگر اپنے دین کی تعلیمات پر اسے پورا اعتماد نہیں ہے۔جس طرح سائنس کی تمام یجادات آج کتابوں کی شکل میں محفوظ ہیں اسی طرح ہماری اسلامی تعلیمات بھی محفوظ ہیں ہمیں ان سے بھرپور رہنمائی حاصل کرنی چاہیئے تاکہ نہ صرف ہمیں دنیا میں کامیابی ملے گی بلکہ آخرت میں بھی یقینی کامیابی کا باعث ہو۔
Key-8۔تجارت۔
دنیا میں اصولوں اور نفع و نقصان پر مشتمل منظم تجارت کا آغاز کرنے والے مسلمان تھے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ تجارت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جونبیوں کی سنت ہے ۔ ہمارے نبیﷺ بھی تجارت کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کام میں بہت فائدہ اور برکت رکھی ہے۔
آپﷺ کے صحابہ کرامؓ کی اکثریت بھی تجارت کرتی تھی۔ان میں سے کئی صحابیاتؓ تجارت کرتی تھیں۔ان کی بڑی مثال حضرت خدیجہؓ ہیں ۔آپؓ اپنے زمانے میں عرب کی سب سے زیادہ مالدار خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ تجارت کرتی تھیں ۔
مختلف چیزوں کا لین دین مناسب رعایت رکھ کر ہوتا ہے پر ناجائز منافع نہیں لینا چاہئے ۔دو افراد ، گروہوں یا ممالک کے درمیان مصنوعات کے تبادلے کو تجارت کہتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے ممالک ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں اور اشیائے خوردنوش سمیت مختلف مصنوعات دوسرے ممالک میں بھجوائی جاتی ہیں ۔زرعی اجناس ،کپڑے ،روزمرہ کی دوسری اشیا سمیت بہت سی دوسری مصنوعات کی تجارت ہوتی ہے۔ تجارت کرنے سے ممالک بہت سا زرمبادلہ کماتے ہیں جو ان کی معیشت کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ باالفاظ دیگر اسے کاروبار بھی کہتے ہیں ۔اپنے کاروبا ر میں انسان کو بہت آسانی ہوتی ہے اور کسی بھی مشکل میں کچھ دنوں کے لئے ہم کام چھوڑ بھی سکتے ہیں۔جبکہ کہیں ملازمت کی صورت میں انسان کام کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
پرانے زمانے میں زیادہ تر سونے ،چاندی کی تجارت ہوا کرتی تھی ۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت حکمت اور دانائی عطا کر رکھی ہے ۔ہمارے مسلم دانشور وں نے اس شعبہ میں بھی بہت محنت سے کام کیا اور جدید طریقے متعارف کروائے۔ محفوظ تجارت کے لئے انہوں نے عام شاہراؤں پر سڑکوں کے کنارے مسافر خانے بنائے۔ان مسافر خانوں کی بنیاد سلطنت عثمانیہ سے پہلے وسطی و مغربی ایشیا کے ترکوں نے رکھی۔ان مسافر خانوں میں پہلے تین دن تک مسافروں کو مفت کھانا پینا اور تفریحی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔اس طرح مسافروں کی رفاہی امداد کی جاتی تھی ۔تاجر اپنا سامان ساری دنیا میں لے کر جاتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ اسلام کی تبلیغ بھی کرتے تھے۔
آٹھویں صدی میں مسلمانوں اوریہودیوں کی تجارت سب سے زیادہ مضبوط تھی۔مسلمان تاجروں کی ایمانت داری اور مخلصانہ تجارت کی بنا پر ہی اسلام چین اور وسطی افریقہ میں تیزی سے پھیلنے لگا۔آہستہ آہستہ مسلمان تاجروں کی رسائی افریقہ تک پہنچ گئی اور وہاں تاجروں نے اسلام کےلئے بہت سی خدمات انجام دیں اور صحراؤں تک اسلام کی تعلیمات کو لے گئے۔اس زمانے میں مسلم معیشت کا زیادہ دارومدار ریشم کے کپڑے کی تجارت پر تھا۔افریقہ اور یورپ میں سمندری تجارت بحیرہ روم کے ساحل سے کی جاتی تھی۔سپین کی بندر گاہ مالاگا تاجروں کے لئے ایک بہترین جگہ تصور کی جاتی تھی کیونکہ وہاں لوگوں کی آمدورفت ہر وقت رہتی تھی۔
ایک ضروری بات یہ ہے کہ تجارت میں ہمیشہ اتنا منافع لینا چاہئے جتنا بنتا ہو۔ ناجائز منافع ہر گز نہیں لینا چاہئے اور اس میں سود سے بھی پوری طرح بچنا چاہئے۔قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالی نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام اور تاجروں کے بارے میں ایک حدیث پاک میں ارشاد مبارک ہے کہ ،جس کا مفہوم ہے کہ ایمانت دار تاجر قیامت والے دن شہدا اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔

اسی طرح ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر جنت میں تجارت کی اجازت ہوتی تو وہاں کپڑے اور عطر کی تجارت ہوتی۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہمارے اکثر اکا برین بھی تجارت ہی کیا کرتے تھے ۔عبداللہ بن مبارک ؒ کے متعلق کہا گیا ہے کہ آپ سال میں چار مہینے حج کے لئے جاتے ،چار مہینے جہاد کے لئے جاتے تھے اور چار مہینے تجارت میں لگاتے تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں اتنی برکت عطا کر رکھی تھی کہ سارے شہر کےلوگ ان کی دکان کھلنے کے مہینوں کا انتظار کرتے اور صرف انہی کی دکان سے مال خریدتے تھے ۔یہ سب ایمانتداری سے کام کرنے کا نتیجہ تھا۔آج بھی اگر ہم محنت اور لگن سے کام کریں تو اللہ تعالی کی مدد ہمارے ساتھ بھی ہوگی۔
Key-9 ۔زراعت۔
آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان فطرت کے بہت قریب تھااور ہر چیز میں خالص چیز کا چناؤکرتا تھا۔یہی حال کھانے کے نظام کا تھاجبکہ آج کا انسان ان سب چیزوں سے بہت دورہو چکا ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار اس کی زراعت و صنعت سےسے وابستہ ہوتا ہے۔زراعت انسانی زندگی کا ایک ایسا شعبہ ہے جس کی بدولت زندگی کا نظام قائم ہے۔قدیم زمانے میں ہر ملک میں زراعت کے پرانے طریقے رائج تھے جس کی وجہ سے قوت اور محنت دونوں کا ضیاع ہوتا تھا اور فصلوں کا معیار اور مقدار بھی تسلی بخش نہیں ہوتاتھا۔ابتدا میں کسان صرف بارش کے پانی کے ذریعے نہری نظام چلاتے تھے یعنی ان کا زیادہ انحصار بارش کے پانی پر ہوتا تھا۔آہستہ آہستہ انسان زراعت کے میدان میں بھی ترقی کرتا چلاگیا ۔زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور سائنسی ترقی کی بدولت زرعی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوگیاجس کی وجہ سے کم وقت اور تھوڑی محنت سے زیادہ پیداوار ہونے لگی ۔پیداواری اجناس میں خاطر خواہ ترقی ہوئی۔نئے نئے آلات ،جدید طریقہ سے،بیج ،کھادوں اور جراثیم کش ادویات کی بدولت ،زراعت کے میدان میں مزید بہتری پیدا ہوتی چلی گئی۔
زراعت کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر زراعت کے شعبے پر ہوتا ہے۔زرعی لحاظ سے خود کفیل ملک نہ صرف اپنے ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے،بلکہ اسے برآمد کر کے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی کرتا ہے۔

موجودہ دور میں جدید ایجادات کی بدولت فی ایکڑ پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے دیہاتوں کے کسان ان ایجادات کے استعمال سے محروم ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ زرعی ایجادات کی چھوٹے کسانوں کو فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ملکی معیشت میں اس کے دور درس فوائد حاصل کیے جاسکیں۔جدید ترقی کی بدولت کھیتوں میں اب کسان ایسے پھل اور سبزیاں اگا سکتے ہیں جن کا موسم گزر چکا ہو۔یہ سب کیمیاوی کھاد،پانی کی فراہمی ،درجہ حرارت کو کنٹرول کر نے اور سا ئنسی آلات کے استعما ل کی بدولت ہوتا ہے۔گنے جیسی اہم فصل کی پیداوار میں ٹرکوں کے ذریعے زرعی فارم سے گنا فیکڑیوں میں لایا جاتا ہے اور پھر اسکو جدید مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو بڑی تیزی اور صفائی سے گنے کا پھوک اور رس الگ الگ کردیتی ہیں۔پھوک کو سوکھنے کے لئے ایک طرف ڈال دیا جاتا ہے جو بعد میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔رس کو جدید ترین پلانٹ کے ذریعے چینی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔اسی طرح گندم کی ایک فصل بھی بہت محنت سے تیار ہوتی ہے ۔

اس لئے ہمیں ہر کھانے کی چیز کی بہت زیادہ قدر کرنی چاہئے۔مگر افسوس کہ جس رزق کے لئے انسان اتنی محنت کرتا ہے اسی رزق کی اتنی ہی ناقدری بھی کرتا ہے۔کہتے ہیں ایک روٹی بہت سے لوگوں کی محنت کے بعد جا کر بنتی ہے۔ہمارے دین میں ہمیں کھانے میں عیب تلاش کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ساری محنت کے باوجود کسانوں کو ہر وقت یہ ڈر لگارہتا ہے کہ بے وقت کی بارشوں سے ان کی سال بھر کی محنت ضائع نہ ہوجائے۔اللہ تعالی کے بھروسے پر وہ محنت کرتے ہیں۔اس سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز بغیر محنت کے نہیں حاصل ہو سکتی ۔قران پاک میں بھی اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ انسان کے لئے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے گا۔
انیسوی صدی کے ایک مورخ کا کہنا ہے کہ سپین میں مسلمانوں کا زراعت کا نظام ہر لحاظ سے مکمل اور جدید سائنسی آلات سے لبریز اور سب سے زیادہ نفع بخش تھا۔انگریز مورخ تھامس کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں سب سے بہتر خدمت وہاں کے لوگوں کو دی جانے والی جو ہوسکتی ہے وہ کوئی نفع بخش پودا یا درخت ہوتا ہے جس سے ساری مخلوق نفع حاصل کرتی ہے۔درخت لگانا صدقہ جاریہ ہیں ۔اس سے ماحول بھی صاف ستھرا رہتا ہے۔درخت سے جو آکسیجن نکلتی ہے وہ انسان کے سانس لینے میں بہت مدد فراہم کرتی ہے۔
Key-10۔نہر ی نظام۔
پانی کو ذخیرہ کرنا بہت ضروری ہوتاہے تا کہ انسانوں اور جانوروں کی ضرورت کو پورا کیاجاسکے جیسے آج کی دنیا میں ڈیم کی صورت میں کیا جاتا ہے ۔
پانی اللہ تعالی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔اللہ تعا لی کی ذات نہایت مہربان اور بہت رحیم ہے،اور اس کا اندازہ ہم یہاں سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جو چیز بنی نوع انسان کے لئے جتنی ضروری ہے اسے اس اتنا ہی عام کردیا ہے کہ سب اس سے نفع حاصل کرسکیں مثلاً پانی،ہوا وغیرہ۔پانی ہر مخلوق جیسا کہ جن وانس ،چرند و پرند،اور مادی غیر مادی ہر چیز کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کھا نے کے بغیر تو انسان شائد زندہ رہ سکے مگر پانی کے بغیر اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔زمین کا کو ئی بھی حصہ ہو مشرق ہو یا مغرب ،شمال ہو یا جنوب ،پانی نہ صرف زراعت کے استعمال کے لئے ضروری ہے بلکہ انسان کی ایک بنیادی ضرورت بھی ہے۔ایک صحت مند انسان کو ہمیشہ صحت مند رہنے کے لئے روزانہ دو لیٹر پانی پینا چا ہیئے۔ایک مشہور قول ہے کہ پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔
مسلمانوں نے آنے والی نسلوں کے لئے ہر شعبہ میں جہاں بہت سی دیگر خدمات سر انجام دیں وہاں انہوں نے آبپاشی کے آسان اور جدید طر یقے متعارف کروائے۔فارس اور افغانستان میں ہزاورں کنویں اور ٹیوب ویل ہونے کے باوجود آج بھی وہاں لوگ زیر زمین نہروں کے ذریعے پانی حاصل کرتے ہیں۔بالکل اسی طرح ایران میں ہا ئیڈرو الیکڑک اور جدید آبپاشی کے نظام کے باوجود ٹیوب ویل سے ہی پانی حاصل کیا جاتا ہے۔موجودہ صورتحال میں پانی کی قلت کے خدشے کے باعث ہمیں اس کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کی انسانی دماغ کا ساٹھ فیصد حصہ پانی سے بنا ہوا ہے۔اس لئے پانی کا زیادہ استعمال ذہن کو توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔زیادہ پانی پینے سے جسم میں نمکیات کی کمی نہیں ہوتی ۔

جیسا کہ پانی بہت بڑی نعمت ہے ویسے ہی بارش بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کے علاوہ بارش کی ہماری زندگی اور اناج پیدا کرنے میں بہت اہمیت ہے۔پانی کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں ۔یہ نہ صرف پینے کے کام آتا ہے بلکہ ہمیں نہانے دھونے اور فصلوں کے لئے ہی پانی کی ضرورت رہتی ہے۔پانی جسمانی درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے۔گھریلو استعمال کی تمام چیزوں میں مثلاً،کھانے پینے،کھانے کی تیاری میں ،غسل کرنے ،اور برتن اور کپڑے دھونے ان سب کے لئے بھی ہمیں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔انسانی جسم کو اپنے تما م خلیات ،اعضا کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی کی کمی سے بچنے کے لئے ہم سب کو مل کر اپنی اپنی جگہ پورا کردار ادا کرنا ہوگاکیونکہ ہم لا پرواہی میں بہت سا پانی ضائع کر دیتے ہیں۔مثلاً دانت برش کرتے وقت نل کو کھولا رکھتے ہیں ، اسی طرح خواتین کپڑے دھوتے وقت بھی بے تحاشا پانی ضائع کردیتی ہیں۔
زمین کا ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔پودوں کی نشونما کے لئے مناسب پانی لگانا بہت ضروری ہے۔زمین کے تمام قدرتی وسائل میں سے سب سے اہم پانی ہے۔پانی کا بیرونی استعمال جیسے پودوں کی نشوونما کے لئے،کھیتی باڑی کے لئے ،فصلوں کو تروتازہ رکھنے کے لئے ان تمام کے لئے بھی پانی ایک انتہائی ضروری چیز ہے۔پانی کو بچانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں پانی کے مسئلے پر عالمی جنگ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔اس لئے ہمیں اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔بروقت بارشوں کے نہ ہونے سے بھی پانی کی کمی کے مسائل شروع ہوجاتے ہیں ۔بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے ہمیں ڈیم بنانے ہونگے اور ان سب کی صحیح طور پر نگرانی کرنا ہوگی۔یہ اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔پانی کے مقابلے میں اور جتنے بھی مشروب ہیں ان کا ذائقہ اپنی جگہ پر جو بات پانی کی ہے وہ اور کسی مشروب میں نہیں ہوتی اور انسان کی اصل پیاس بھی صرف پانی ہی سے بجھ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں