Mufti gulzar Ahmed Naeemi 246

مسجد ہے دوکان نہیں. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

مسجد ہے دوکان نہیں
غالبا 16 اپریل 2020 کو ایک مؤقر جریدے میں ہمارے دوست جناب خورشیدندیم کا ایک کالم شائع ہواجسکا عنوان تھا” مسجد یا دوکان”اس کالم میں جناب خورشید ندیم نے مسجدوں کو مکمل بند کرنے کے حق میں بہت سے دلائل دیے ہیں۔محترم خورشید ندیم ایک صاحب علم شخصیت ہیں۔عمومی طور پر اہل علم انکے بارے میں رائے رکھتے ہیں کہ آپ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریات سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔میرے دل میں انکا بڑا احترام ہے اور وہ بھی مجھے بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس کالم میں انہوں نے بعض ایسی چیزیں لکھی ہیں جن سے میں متفق نہیں ہوں۔اس لیے ان باتوں کا جواب عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔انہوں نے فرمایا”بصد احترام عرض ہے مسجد خدا کا گھر ہے،کوئی دوکان نہیں”جناب!اس میں ذرا برابر بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں ہوسکتی کہ مسجد اللہ کا گھر نہیں ہے۔مسجد اللہ ہی کا گھر ہے اور اس حقیقت کو مسلمانوں کا تین چار سالہ بچہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ مسجد اللہ کا گھر۔اسی لیے وہ ٹافیاں یا چاکلیٹ لینے مارکیٹ کی کسی دوکان پر جاتا ہے مذکورہ چیزیں لینے وہ کبھی مسجد نہیں آیا۔وہ جب بھی مسجد آتا ہے تو نماز ادا کرنے ہی آتا ہے۔آپکے خیال کے مطابق مسجد کو علماء نے دوکان بنایا ہوا ہے۔محترم ایسی بات نہیں ہے۔مسجد کو مولوی نے نہیں سماج نے یا ریاست نے دوکان بنایا ہے۔مسجد عوام کی تعلیم وتربیت کا ایک عظیم ادارہ ہے جس نے اپنی علمی وروحانی تربیت کے ساتھ سماج کو بے شمار نابغئہ روزگار عطا کیے ہیں۔جب تک مسجد کی مالی ضروریات اسلامی نظم مملکت نے اپنے خزانہ سے پوری کیں تب تک امامت وخطابت بطور پیشہ اختیار نہیں کیا گیا۔آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بدترین ملوکیت کے دور میں بھی حکام نماز کی امامت خود کراتے تھے۔جب تربیت کے اس عظیم ادارے کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا اور مساجد کو حکام نے قابل توجہ نہ سمجھا تو پھر کچھ معاملات ضرور خراب ہوئے۔
کسی سماج میں تعلیم اور تربیت کا مرکزی کردار ہوتا۔اسلام میں بھی تعلیم ام الکتاب اور تزکیئہ نفس کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے اور دونوں کامرکز مسجد ہی رہی ہے۔مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کا چبوترہ تعلیم وتربیت کے لیے یکساں متحرک رہے ہیں۔پوری تاریخ اسلام میں آپ کو مسجد،مدرسہ اور خانقاہ کی تکون بندگان خدا کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنا کردار ادا کرتی نظر آئے گی۔آج اگر آپکو یا کسی کو مسجد ایک دوکان نظر آتی ہےتواسکی وجہ ریاست کی عدم توجہی،سماج ہٹدھرمی اور اب ایک نئی چیز شامل فرمالیں اور وہ دینی تعلیم کے وفاق و تنظیمات ہیں ۔لمحہ موجود میں ان بورڈ پر مذہبی ایلیٹ طبقہ قابض ہے جو ان شاہین بچوں کے بال وپر نکلتے ہی کاٹ دیتا ہے۔ان کے اپنے بچے اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور بعض کے بیرون ممالک میں بھی۔ جبکہ ان بورڈ کے تحت مدارس میں پڑھنے والے بچے بنوامیہ اور بنو عباس کے دور کی کتب پڑھ رہے ہیں۔آج مدارس میں وہ چیزیں پڑھائی جارہی ہیں جنکا دور حاضر سے ذرا بھی کوئی علاقہ نہیں ہے۔اگر مدارس کے نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کردیا جاتا تو مذہبی تعلیم حاصل کرنے والےطالب علم کے پاس حصول روزگار کے بہت سےمیدان ہوسکتےہیں۔وہ مسجد کو ذریعہ روزگار نہیں بنائیں گے۔اس لیے قصور مسجد یا مولوی کا نہیں۔ قصور ریاست،سماج یا مذہبی ایلیٹ کا ہے۔مولوی بے چارہ تو دگرگوں حالات میں بھی دل وجان سے مسجد میں اپنی منصبی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے۔
آپ نے فرمایا” نماز دین کا انفرادی حکم ہے۔اس کا تعلق حقوق اللہ سےہے یہ ایک انفرادی عبادت ہےیہ گھر میں بھی ادا کی جاستی ہے اس کے لیے مسجدآنا ضروری نہیں”
میں آ پ کی اس بات کو تجاہل عارفانہ کہوں یاحقیقت سے اغماض؟؟؟ کچھ سمجھ نہیں آرہی۔کیا آپ کے سامنے یہ حقیقت واضح نہیں کہ جب ابھی تک اسلام کے دامن رحمت کے ساتھ صرف ایک آزاد مرد، ایک غلام،ایک بچہ اور ایک خاتون وابستہ ہوئی تھی تو سرکار انہیں حرم کعبہ لے گئے اور رئیسان مکہ کے سامنے حرم کعبہ میں نماز باجماعت ادا فرمائی۔؟
آپ نے حضرت ابوھریرہ کی روایت کردہ وہ حدیث ضرور پڑھی ہوگی جس میں ایک نابینا صحابی جناب ابن ام مکتوم کا ذکر ہے۔وہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوکر اپناعذر پیش کرتے ہیں کہ میرا گھر مسجد سے دور ہے اور لانے لے جانے والا کوئی مدد گار میسر نہیں حضور مجھے نماز گھر پر ہی ادا کرنے کی اجازت عنایت ہو۔فرمایا: ھل تسمع النداء بالصلوۃ؟کیا آذان کی آواز سنتے ہو؟ قال نعم عرض کی جی سنتا ہوں۔فرمایا کہ ہھر اسکا جواب دے۔یعنی جب حی علی الصلوہ کہا جائے تو پھر مسجد حاضر ہوکر اسکا عملی طور پر جواب دے۔
امام احمد بن حنبل نے ابوھریرہ سے روایت کی کہ رحمت للعالمین رسول نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں عشاء کی نماز کھڑی کرتا اوراپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ جوگھروں میں ہیں انہیں جلا کر راکھ کردو۔(مسند احمد)
امام بخاری اور امام مسلم نے بھی حضرت ابو ھریرہ سے روایت کیا ہے کہ میں نےکئی دفعہ ارادہ کیا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں اور کسی کو کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے،پھر لوگوں کو ساتھ لوں اور ان کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں۔ایسے لوگوں کی طرف نکلوں جو مسجد نماز پڑھنے نہیں آئے،ان کے گھر جلا دوں۔
اگر نماز انفرادی عمل ہوتا جیسا کہ آپ نے فرمایا تو نابینا ابن ام مکتوم کو سرکار نے گھر پر ادا کرنے کی اجازت کیوں نہ دی۔اگر جماعت اہم نہ ہوتی تو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آنے والا آقاء گھروں کو جلانے کی سخت وعید کیوں سناتا؟.
قرآن مجید میں سینکڑوں دفعہ اقیموا الصلوۃ کاحکم جمع کے صیغہ کے ساتھ انفرادی نماز کے لیے آیا ہے۔؟
” ارکعوا مع الراکعین” سے کم بیش تمام مفسرین نے نماز باجماعت کے حکم کا استنباط کیا ہے۔کیا وہ سب کے سب اس استنباط میں مخطی ہیں؟ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کی نشانی بیان فرمائی “الذین ان مکنّٰھم فی الارض اقاموا الصلوۃ” کہ وہ لوگ جنہیں ہم زمین کا اقتدار عطا کرتے ہیں وہ نماز قائم کرتے ہیں۔کیا یہ انفرادی نماز کا حکم ہے؟؟۔نبوت کے زمانے سے لیکر آج تک کسی نے بھی فتوی نہیں دیا کہ نماز ایک انفرادی عمل ہے اس لیے اسکی ادائیگی کے لیے مسجد میں آنا ضروری نہیں ہے۔اگر مسجد سے باجماعت نماز کو نکال دیں تو پھر ان مساجد کا آخر کوئی اور مصرف کیا رہ جاتا ہےجنہیں آپ بنات کعبہ کہہ رہے ہیں۔۔۔ اگر اس پر بھی کچھ لکھ دیں تو ہماری رہنمائ ہو جائے گی۔
آپ بے شک دین بیزار طبقہ کو خوش رکھیں مگر ابدی حقیقتوں سے انحراف کسی صاحب علم کا شیوہ نہیں ہے۔مسجد کا سب سے بڑا مقصد نماز کی صورت میں اجتماعی طور اپنے رب کے سامنے جھکنا ہے۔مسجد میں اجتماعی قیام وسجود کے ذریعےاپنے رب کو یاد کیا جاتا ہے۔ہاں البتہ اگر کوئی غیر معمولی صورت حال پیدا ہوجائے کہ مسجد میں اجتماعی عبادت مفاد عامہ کے خلاف ہو جیسا کہ آجکل کرونا وائرس کی وبا ہے تو وقتی طور پر جماعت کے حکم کو حکمران معطل کرسکتے ہیں۔عام معمول کی صورت حال میں نماز باجماعت مسجد میں ہی ادا کی جائے گی اور یہ حکام پر فرض ہے کہ وہ اجتماعی طور پر مسجد میں قیام صلوۃکا انتظام کریں۔
اہل علم کو دیانتدار ہوناچاہیے اور دین کی تعبیرات میں دنیوی منفعت کاحصول مدنظر نہیں ہونا چاہیے اللہ کی رضا اس کائنات کی سب سے بڑی منفعت ہے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں