21

مسجد نبویﷺ کی بیحرمتی، کارروائی شروع، سعودی حکومت نے 5 پاکستانیوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کردی

سعودی عرب کے شہر مدینہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مسجدِ نبوی میں جمعرات کو پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں پانچ پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی نے مدینہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی حکام نے پاکستانی شہریت کے حامل پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور اس کے ساتھیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مسجد نبوی کے صحن میں موجود تھے‘۔
ترجمان کے مطابق ان افراد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی مکمل کی گئی اور معاملے کو مجاز حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعرات کی شام پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان کے وفد میں وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرِ نارکوٹکس شاہ زین بگٹی کو مسجد نبوی کے صحن میں موجود پاکستانیوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ان افراد نے پاکستانی وزرا اور ان کے ساتھیوں کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی کی تھی اور جہاں مریم اورنگزیب کے لیے نازیبا زبان استعمال کی تھی وہیں شاہ زین بگٹی کے بال بھی کھینچے گئے تھے اور انھیں دھکے دیے گئے تھے۔
جمعرات کی شب سے ہی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم پاکستان میں موجود سعودی سفارتحانے نے جمعے کی شام ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی کہ مدینہ منورہ میں نعرے بازی کرنے والے چند پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تاہماس بارے میں سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے حکام سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔ جو بھی ہو گا وہ پہلے سعودی پریس ایجنسی پر آ جائے گا تب ہی اس کی تصدیق ہو سکے گی۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان سعودی وزارت خارجہ سے درخواست کرے گا کہ وہ مدینہ منورہ میں ہونے والے واقعے پر کارروائی کرے۔ شناخت کر کے ان کو ملک بدر کیا جائے، سعودی حکام سے درخواست کریں گے کہ ملوث افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہمیں بھجوائی جائیں تا کہ ان کی شناخت کی جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔’
سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ چند روز قبل بھی جدہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں کی ایک احتجاجی نشست کے بعد بھی سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 13 رکنی وفد کے ہمراہ تین روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو مدینہ پہنچے تھے۔
وزیراعظم کے دورے سے قبل سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’مکہ مدینہ والے لوگ دیکھیں ان (پی ایم اور اتحادیوں ) کے ساتھ کل کیا کریں گے۔‘ پھر سب نے دیکھا کہ مدینہ میں مسجد نبوی میں کیا ہوا۔
اس وقت ٹوئٹر پر ٹرینڈ چل رہا ہے کہ مسجد نبوی کی توہین نامنظور۔ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ نو لاکھ سے زیادہ ٹویٹس کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں کسی بھی قسم کے مظاہرے کرنا ممنوع ہے۔ مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں آنے والے زائرین کو بھی وہاں کے تقدس کا خیال رکھنے کو کہا جاتا ہے اور لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثے سے روکا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں حرم کے اندر یا باہر سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہے۔
وہاں کے مقامی صحافی بتاتے ہیں کہ بدانتظامی کرنے والوں کو عمرہ سکیورٹی پر مامور اہلکار گرفتار کرتے ہیں لیکن انھیں تشدد کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور قاضی انھیں کس نوعیت کی سزا دیتے ہیں یہ کبھی سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں