صدی کی ڈیل 77

مسئلہ فلسطین کا قابل عمل حل کیا ہے؟ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

مسئلہ فلسطین کا قابل عمل حل کیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پانچ اگست کی شام کو غزہ پر صہیونی ریاست اسرائیل نے بمباری کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فلسطینی مزاحمتی تحریک اسلامک جہاد موونٹ کے تین اہم رہنماؤں سمیت درجن بھر فلسطینیوں کو جن میں ایک پانچ سالہ بچی، پچاس سالہ ضعیف شخص اور دیگر شامل ہیں موت کی نیند سلا دیا۔ ایک رہائشی عمارت کو بھاری گولہ بارود سے نشانہ بنایا گیا جو تقریبا زمین بوس ہو گئی۔ یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو ظلم اور جارحیت کا نشانہ بنایا ہے ماضی میں ایک طویل تاریخ صہیونی جنگی جرائم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔
غزہ پر صہیونی حملوں کے آغاز سے ہی دنیا بھر سے حریت پسند فلسطین کے حق میں اور غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے حملوں کی مذمت میں سوشل میڈیا پر نکل آئے اور پھر دنیا بھر میں صہیونی جارحیت کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستا ن کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بھی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر بربریت اور درندگی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ اسرائیل ہوتا۔پاکستان کے ایک اور مایہ ناز سیاست دان اور سینیٹ میں دفاعی کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں قائد اعظم محمد علی جناح کے فلسطین موقف کو دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان غزہ میں صہیونی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور مسئلہ فلسطین سے متعلق قائد اعظم کے موقف پر قائم ہے۔اسی طرح سابق وزیر اعظم چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بھی سوشل میڈیا پر ٹوئٹ لکھتے ہوئے فلسطین میں صہیونی حملوں کی مذمت کی لیکن حیرت انگیز طور پر صہیونی حملوں کی مذمت کے ساتھ مسئلہ فلسطین کے لئے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ دو ریاستی حل کے فارمولہ کی تائید بھی کر ڈالی اور لکھا کہ دو ریاستی حل قابل عمل حل ہے۔
عمران خان آج کل پاکستان میں امریکہ اور غیر ملکی مداخلت کے مخالف علمبردار کے طور پر واحد سیاست دان ابھر کر سامنے آئے ہیں انہوں نے اپنی اپوزیشن کی قائم ہونے والی حکومت کو بھی امریکی آشیرباد کے تحت قائم ہونے والی حکومت قرار دیا ہے اور امپورٹڈ حکومت کے لقب سے نوازا ہے۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی فارمولا کی حمایت پر چند سوالات ابھر کر سامنے آئے ہیں جن کا بیان کرنا ضروری ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے فلسطین کے عنوان سے دو ریاستی حل کا فارمولہ یکطرفہ پیش کر رکھا ہے جس کو فلسطینی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کی سرزمین پر باہر سے لا کو وجود دیا گیا ہے اور اس ناجائز وجود کو قائم کرنے میں عالمی سازش کے عناصر میں امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک سرفہرست تھے۔ آج بھی امریکہ اسرائیل کے حق میں دو ریاستی حل کی با ت کرتا ہے جیسا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ دنوں مقبوضہ فلسطین کے دورہ کے دوران بھی یہی بات تکرار کی تھی کہ امریکہ فلسطین کے لئے دو ریاستی حل چاہتا ہے اور اسی پر کاربند ہے اب اگر یہی بات پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی زبان سے ادا ہو جائے تو اس کو کیا سمجھا جائے؟
پاکستا ن کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ نے آج تک مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی فارمولہ کی حمایت نہیں کی او ر نہ ہی علی الاعلان فلسطین سے متعقل دو ریاستی حل کے فارمولہ کی بات کی ہے۔ہمیشہ فلسطین سے متعلق فیصلہ فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ہی کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کی جانب سے فلسطین کے لئے غیر منصفانہ دو ریاتی حل کے فارمولہ کو قابل عمل قرار دیا ہے۔
مسئلہ فلسطین کا قابل عمل اور منصفانہ حل صرف اور صرف فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ پہلی بات اسرائیل فلسطین پر غاصبانہ تسلط رکھتا ہے، دوسری بات فلسطین کے مقامی باشندوں کو لاکھوں کی تعداد میں جبری جلا وطن کیا گیا ہے، تیسری بات یہ ہے کہ صہیونیوں کو باہر سے لا کر فلسطین میں آباد کیا گیا ہے اور اسرائیلی شہریت دے کر مقامی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایسے حالات میں فلسطین، فلسطینیوں کا وطن فارمولاہی مسئلہ فلسطین کا قابل عمل اور واحد منصفانہ حل ہے۔فلسطین، فلسطینیوں کا وطن یعنی سن1948ء کا فلسطین کہ جہاں مسلمان، عیسائی، مقامی فلسطینی یہودی اور دیگر مذاہب کی اقوام آباد تھیں یہی اصل فلسطین ہے۔اسرائیل صہیونیوں کی ایک غاصب اور جعلی ریاست کا نام ہے۔فلسطین کے عوام کو حق خود ارادیت کے استعمال کی آزادی دی جائے، فلسطین سے جبری جلا وطن کئے لاکھوں فلسطینیوں کو فلسطین واپس آنے کا حق دیا جائے، تمام فلسطینی جو سنہ1948ء کے فلسطینی حیثیت شمار ہوتے ہیں ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ حق بھی مقامی فلسطینی عوام کا ہے کہ وہ سنہ1948ء کے بعد باہر سے لا کر بسائے گئے صہیونیوں کو فلسطین میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔یعنی ایک ریفرنڈم کے ذریعہ فلسطین کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے اور اگر فلسطینیوں کو بعد میں آنے والوں کے لئے کوئی اعتراض نہ ہو تو بعد میں فلسطین ہجرت کرکے آنے والے صہیونی یا یہودی فلسطین کے پرچم تلے زندگی گزار سکتے ہیں جیسا کہ سنہ1948ء تک تمام فلسطینی عیسائی، فلسطینی یہودی اور فلسطینی مسلمان باہم سرزمین فلسطین کے باسی کہلاتے تھے اور فلسطینی سکہ ہی سب کی شناخت تھی۔حقیقت میں یہی ایک ایسا پر امن، منصفانہ اور قابل عمل حل ہے جس کے باعث نہ تو صہیونیوں کو سمندر برد کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قتل و جدال کرنے کی ضرورت ہے۔ بس فلسطینی اپنے وطن فلسطین آ جائیں اور فلسطین پر قابض ہونے والے صہیونی جو دنیا کے دیگر ممالک سے آ کر آباد ہوئے اور غاصبانہ تسلط قائم کر کے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل قائم کی وہ اپنے اپنے وطن کو چلے جائیں جہاں سے ان کو لا کر یہاں فلسطین آباد کیا گیا تھا۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق قابل عمل واحد حل ہے کہ جس پر تما م فلسطینی متفق ہیں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ آج دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مہاجر فلسطینی کی پہلی خواہش یہی ہے کہ اس کو وطن واپسی کا حق حاصل ہو، حق خود ارادیت ہو تا کہ وہ اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔ امریکہ جس نے پہلے ہی غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز قیام کے لئے زمینہ سازی کی تھی ابھی کس حق کے تحت فلسطین کے لئے دو ریاستی حل کی بات کرتا ہے؟ اسی طرح امریکہ سمیت کسی بھی دنیا کے سیاست دان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ فلسطینی عوام کی امنگوں کے بر عکس دو ریاستی حل کی بات کرے۔اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے یہی قائدا عظم محمد علی جناح نے دستور دیا تھا جو فلسطینی عوام کے حقوق کی فراہمی اور فلسطین کی آزادی تک باقی رہے گا۔اگر دوریاستی حل کو ہی تسلیم کرنا ہو تا تو قائد اعظم محمد علی جناح تمام سیاست دانوں سے زیادہ با بصیرت اور زیرک انسان تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں