177

مسئلہ رؤیتِ ہلال اور مستقل کیلنڈر تشکیل.ڈاکٹر رحيق احمد عباسی

مسئلہ رؤیتِ ہلال اور مستقل کیلنڈر تشکیل
ڈاکٹر رحيق احمد عباسی
اس سال برطانیہ اور پورپ کے مسلمانوں کے مختلف طبقات نے شب برات تین مختلف دنوں میں منائی -رؤیتِ ہلال اور قمری مہینوں کے آغاز کے حوالے سے بالخصوص رمضان اور شوال کےمواقع پر ایک تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ علم فلکیات کی بنیاد پر ایک دائمی تقویم (مستقل کیلنڈر) کی تشکیل کر کے رویتِ ہلال کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا جائے۔لیکن ان کے کسی ایسے اقدام کی قبولیت تمام مکاتبِ فکر کے نامور، سنجیدہ اور محقق علماء کی تائید وتوثیق کے بغیر ممکن نہیں، جو رویت کا انطباق صرف ’رویتِ بصری‘ (آنکھ سے دیکھنے) پر کرنے کا اصرار کرتے ہیں ۔
اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی مستند عالم یا مفتی موجودہ دور میں علمِ فلکیات کا انکار نہیں کرتا اور نہ ہی چاند کی مختلف منازل کے حوالے سے سائنس کے ذریعے علمِ قطعی کا انکار کرتا ہے۔ مثلا پاکستان کی رؤیتِ ہلال کمیٹی پوپلزئی اور ان جیسے دیگر افراد کی رؤیتِ ہلال کی شہادتوں کا رد، علم فلکیات کے ذریعے امکانِ رؤیت کے نہ ہونے کی بنا پر کرتی رہی ہے۔اب ہمارا یہاں پہلا سوال یہ ہے کہ جب چاند کی عدمِ پیدائش کو بنیاد بنا کر یعنی عدمِ اِمکانِ رویت کی بنیاد پر رویت کی شہادت کا ردّ کرنا جائز ہے یعنی علم فلکیات کی بنا پر رؤیتِ ہلال کا عدم امکان تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر جس 29ویں شب علم فلکیا ت کی روشنی میں امکانِ رویت نا ممکن ہو تو اُس شام رؤیت ہلال کمیٹی کا اجلاس کر کے دوربینوں کے ذریعے چاند ڈھونڈنے کے فوٹو سیشن کی کیا ضرورت ہے؟ جب آپ علم فلکیات کے ذریعے عدمِ اِمکانِ رؤیت کو تسلیم کرتے ہیں تو نفسِ مسئلہ حل خود ہی نکل آتا ہے کہ جب رؤیت کا امکان بالکل نہ ہو تو اِس بنا پر رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس کے لیے 29ویں شب کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ پہلے سے ہی اعلان کر دیا جائے کہ یہ مہینہ 30 کا ہوگا اور اگلے مہینے کا آغاز فلاں دن سے ہوگا۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو رؤیتِ بصری پر ضد محض علماء کی دل کی تسلی ہے، ورنہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ علماء کرام عملی طور پر رویتِ بصری سے سفر شروع کر کے، رویتِ آلی اور رصد گاہی آلات کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ان کے جواز کی طرف گئے ہیں۔ اور اب ایک درجہ مزید ترقی کر کے تیسرے درجے پر یعنی اِمکانِ رویت پر آ چکے ہیں۔ آج نہیں تو کل وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب علماء کا یہ قافلہ اِمکانِ رویت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر علم الحساب پر، جو کہ قطعیت کے درجے پر ہے، اپنا پڑاو ڈالے گا ۔
پاکستان کے مفتیان کرام کا اصرار ہے کہ رمضان کا آغاز رؤیتِ بصری سے ہی کیا جا سکتا ہے اور یہ نصِ حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان اقدس ہے- صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِه– اور چونکہ رویت میں حقیقت بصر ہے، اس لیے علم الفلکیات اور علم الحساب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ رویتِ بصری ہی مراد لی جائے گی۔ عصر حاضر کے علماء میں سے پاکستان میں اگرچہ ڈاکٹر طاہر القادری نے براہِ راست آیاتِ قرآنیہ سے یہ بات ثابت کی ہے کہ رؤیت سے مراد صرف بصری نہیں بلکہ اس سے مراد علم بھی ہے ۔ [ملاحظہ ہو: ’’ماہ نامہ منہاج القرآن‘‘ کا اکتوبر 2007ء کا شمارہ۔] ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے متعدد عقلی و نقلی دلائل پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ رویت میں اصل اور حقیقت بصر و غیرِ بصر نہیں، بلکہ علم وخبر اور گمان کا حاصل ہونا ہے۔ اور لفظ رویت میں علم کا معنی اجتہادی و استنباطی نہیں بلکہ حقیقتاً اس لفظ میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل آیاتِ قرآنیہ ملاحظہ ہوں:
﴿أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنٗا﴾
’’بھلا جس شخص کے لیے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اسے (حقیقتاً) اچھا سمجھنے لگے (کیا وہ مومنِ صالح جیسا ہو سکتا ہے)؟‘‘ [فاطر، 35/8]
﴿قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغۡتَةً أَوۡ جَهۡرَةً﴾
’’آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجیے کہ تم مجھے بتاؤ اگر تم پر اﷲ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آن پڑے تو کیا ظالم قوم کے سوا (کوئی اور) ہلاک کیا جائے گاo‘‘ [الانعام، 6/47]
﴿قَالَ أَفَرَءَيۡتُم مَّا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ﴾
’’(ابراہیم e نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہوo‘‘[الشعراء، 26/75]
﴿فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰ﴾
’’سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔‘‘ [الصافات، 37/102]
سورۃ الملک کی آیت نمبر 3 میں ارشاد ہوتا ہے
﴿ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ﴾
“تم پھر نگاہِ (تحقیق) کو بار بار (مختلف زاویوں اور سائنسی طریقوں سے) پھیر کر دیکھو، (ہر بار) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہوگی”
[الملک، 67/3]
اب یہاں اللہ تعالیٰ دکھانا چاہ رہا ہے کہ تم آسمانوں کے اندر ساری کائنات کو دیکھو کوئی عدم توازن نظر نہیں آئے گا۔ اب بتائیے کہ کون سی آنکھ ہے جو آسمانوں کے توازن اور عدم توازن کو دیکھ سکتی ہے؟ کون بندہ ہے جو یہ دیکھ کر بتاسکتا ہے؟ ایک چیز جب ننگی آنکھ سے نظر آنے والی ہی نہیں ہے تو کیا اللہ تعالیٰ اس چیز کو دیکھنے کی دعوت دے رہے ہیں جسے مکمل طور پر آنکھ دیکھ ہی نہیں سکتی؟ معاذاللہ اگر ننگی آنکھ سے دیکھنے کے ساتھ یہ معنی محصور کرلیں تو یہ انسانوں کے ساتھ مذاق بن جائے اور اللہ تعالیٰ تو مذاق سے پاک ہے۔ اس نے مَا تَرَی کہہ کر اشارہ دیا کہ تم غور کرو، عقل سے دیکھو، علم الہیئت، سائنس، علم الحساب اور تحقیق، تدبر اور فکر سے دیکھو؛ تمہیں ساری کائنات میں میری تخلیق میں کوئی تفاوت نظر نہ آئے گا۔ پس یہاں ننگی آنکھ کی بحث ہی نہیں، ننگی آنکھ تو ایک میل تک نہیں دیکھ سکتی، تو یہ اربوں، کھربوں میلوں سے بھی زیادہ پھیلی ہوئی کائنات کے تفاوت اور عدم تفاوت کو کون دیکھے گا، پس اس سے مراد جاننا ہے۔
قرآن مجید کی کئيں اور آیات میں بھی رؤیت کا لفظ مختلف مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔ رویت میں اصل شے علم، خبر، گمان کا جاننا ہے، اور یہ کہ رویت بصر کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ جہاں کہیں بھی مطلق رویت آئے گا اسے ہر حال میں لازمی طور پر بصر پر محصور کرنا درست نہیں۔ رویتِ علمی کے حوالے سے احادیث مبارکہ بھی شاہد ہیں، مثال کے طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلَّا الحَجَّ
’’ہم سفر پر نکلے اور ہمارا ارادہ حج کرنے کا تھا۔‘‘ [صحيح بخاری، کتاب الحیض، 1/113، رقم/290]
یہاں لفظ رویت ایسا پختہ ارادہ کرنے کے معنی میں آیا ہے جو انسان کو تردد سے نکال کر یقین کے درجے میں لے جائے اور بصری قید سے آزاد اپنے حقیقی معنی ’علم، خبر‘ وغیرہ میں استعمال ہوا ہے۔
قرآن وحدیث سے لفظ رویت کو بصری قید سے آزاد کرانے والے دلائل پیش کرنے کے بعد اب ہم علماے لغت کی رائے کا بھی مختصر جائزہ لے لیتے ہیں، تاکہ عقلاً و نقلاً یہ بات نصف النہار کی طرح روشن ہو جائے کہ رویت میں اصل علم وادراک اور خبر کا حصول ہے، نہ کہ بصر۔ بصر محض ایک ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی فرماتے ہیں
والرؤية: إدراك المرئي.
’’رویت کا معنی کسی مرئی چیز کے ادراک کر لینے کے ہیں۔‘‘
امام راغب نے تو قضیہ ہی حل فرما دیا کہ مرئی شے کے ادراک کا نام رویت ہے۔ گویا ’بصر‘ کی قید سرے سے تعریف سے نکال ہی دی۔ اب سوال پیدا ہوا کہ وہ ادراک کیسے ہوگا؟ فرمایا:قوائے نفس (حواسِ انسانی)کے اعتبار سے رویت کی چند قسمیں ہیں
پہلی صورت: حاسہ بصر، یا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہو۔
دوسری صورت: وہم وخیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا۔
تیسری صورت: کسی چیز سے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا۔
چوتھی صورت: عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادراک کرنا۔
امام راغب اصفہانی نے اس پر مفصل تحقیق مع نصوص پیش کی ہے۔ تفصیلات کے لیے ’’المفردات‘‘ ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
رویت کے بمعنی علم استعمال کے رد کچھ علماءکا کہنا ہے کہ لفظ کے حقیقی معنی ممکن ہونے کی صورت مجازی معنی کا اطلاق نہیں کیا جائے گا، اور چونکہ رویت میں حقیقت بصری رویت ہے، لہذا اس سے علمی رویت کی طرف انتقال درست نہیں ہوگا۔ يہاں علماء کرام اخناف کے ايک فقہی قاعدے کا سہارا لیتے ہیں کہ جب کسی لفظ کے اصل معنی ممکن ہوں تو مجازی معنی کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔ میری رائے اور ناقص مطالعے کے مطابق یہ مفروضہ بھی امر واقع کے خلاف ہے۔ اور وہ اس سبب سے کہ لفظ رویت اپنے اندر علم، خبر، گمان کے حصول کو بطور حقیقت سموئے ہوئے ہے نہ کہ مجاز۔ بصر اس علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اور ضابطہ یہ ہے کہ ذرائع مرور زمانہ کے ساتھ ہمیشہ تغیر پذیر رہتے ہیں۔ اصل مقصود (جو یہاں حصولِ علم و خبر ہے) باقی رہتا ہے۔ فقہاء نے اسی حقیقت کے تحت ضابطہ مقرر کیا، فرمایا: ’للوسائل حکم المقاصد‘ وسائل وذرائع پر مقاصد کے اعتبار سے حکم لگایا جاتا ہے۔ اب اگر ہم غور کریں تو رویت میں بصر، آلات، رصد گاہیں، علم الفلکیات، علم الہیئت، علم الحساب وغیرہ سب ذرائع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اصل مقصود اُس علمِ ضروری کا حصول ہے جس کے ہونے کی صورت میں روزہ فرض ہو جائے۔
یہاں جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر مفتی صاحبان فقہ حنفی پر ہی بضد ہیں تو احناف کے ہاں تو ایک مطلع کی رؤیت دیگر مطالع کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا اگر کسی مسلمان ملک میں شہادت میسر آ جائے اور وہاں شہادت کے مطابق اعلان ہلال ہو جائے تو فقہ حنفی کے مطابق تو دنيا بھر میں اِسی اعلان کو کافی سمجھا جانا چاہیے۔ لہٰذا فقہ حنفی کی مجرد تقلید کر لی جائے تو ہم دیگر ممالک کے آفیشل اعلانِ رؤیت کو رد نہیں کر سکتے اور اِس کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہیں۔
قربان جائیں تاجدار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر! نگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی کہ میری امت میں ذرائع علم بدلتے رہیں گے، میری امت بصری رویت سے آلاتی اور رصدگاہی رویت اور پھر اِمکانِ رویت سے ہوتے ہوئے علم الفلکیات، علم الہیئت اور علم الحساب جیسے قطعی ذرائع علم تک ترقی کرے گی۔ لہٰذا اس لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث مبارک میں ’’رأی العین‘‘ یعنی رویتِ بصری کی قید ہی نہیں لگائی بلکہ مطلقاً فرمایا: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ۔ یعنی چاند کی رویت حاصل ہو جائے خواہ کسی ذریعے سے بھی ہو، تو روزہ رکھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث مبارک میں کوئی قید نہیں لگائی۔ یہ قید اضافی ہمارا اپنا اصرار ہے، ورنہ اصولی طور پر جب کسی امر سے متعلق کوئی حتمی حد شریعت نے مقرر نہ کی ہو، تو امت کو اختیار ہوتا ہے کہ اس کی تعریف بدلتے زمانے، ضروریات، اور جدید تقاضوں کے پیش نظر خود متعین کر لے۔
جب زمانہ قدیم میں سہولیات نہ تھیں تو رویت اپنے عملی اطلاق میں رویت بصری پر ہی محصور تھی، جیسے نماز میں اوقات کا تعین، روزے میں اوقات کا تعین وغیرہ۔ پھر جوں جوں ارتقاء ہوتا گیا، رویتِ آلاتی اور رصدگاہی بنی۔ مرور زمانہ کے ساتھ جیسے جیسے شرح صدر ہوتا گیا، ہر خاص وعام نے اس کو درست تسلیم کر لیا۔ آج امکانِ رویت میں ہم علم الفلکیات کے ماہریں سے معاونت لیتے ہیں ۔ لہٰذا اگر رؤیتِ بصری پر اِصرار نہ کیا جائے اور رؤیتِ علمی کا معنی مراد لے لیا جائے تو رؤیت ہلال کا معاملہ تقریباً 70 فیصد حل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جو بحث ہے وہ اصولی نہیں بلکہ فروعی ہے کہ رؤیتِ علمی کی بنیاد کیا ہونی چاہیے،نئے چاند کی پیدائش ہو یا علم فلکیات کی روشنی میں امکانِ رؤیت ہو۔
رؤیتِ بصری کے لئے اس حدیث مبارک کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے
لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ.
’’چاند دیکھے بغیر روزہ مت رکھو اور نہ چاند دیکھے بغیر افطار کرو۔ لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو تو (روزہ کی) مدت (یعنی تیس دن کی گنتی) پوری کرو۔‘‘ [صحيح بخاری، كتاب الصوم، باب قول النبی: اذا رايتم الہلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا وقال صلۃ عن عمار من صام يوم الشك فقد عصى ابا القاسم، 2/674، رقم/1807.]
مراد یہ ہے کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ افطار نہ کرو اور اگر چاند چھپ جائے تو اندازہ کر لو۔ انہی معانی و الفاظ کے ساتھ یہ حدیث دیگر کتب میں بھی منقول ہے۔
حديث رسول ميں رؤیت فی نفسہٖ شرط نہیں بلکہ رؤیت ہلال کی موجودگی کے علم کی دلیل ہے۔ اسی لیے اگر چند لوگوں کی گواہی میسر آ جائے تو اِس پر اعتبار کیا جاتا ہے۔ جس دور میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم فرمایا اس دور میں آنکھ سے دیکھے جانے کے علاوہ ہلال کی موجودگی کے علم کا کوئی اور ذریعہ ہی نہیں تھا۔ لہٰذا اِس کا معنی ہی آنکھ سے دیکھا جانا اور مفہوماً آنکھ سے دیکھے جانے کی گواہی لیا جاتا رہا۔ اس حدیث پر کتب حدیث میں جہاں بھی بحث آئی ہے وہاں ساتھ ہی رؤیت کی شہادت اور اِس کی شرائط تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ لہٰذا جن لوگوں نے نہیں دیکھا اِن کے لیے دیکھنے والوں کی شہادت کافی ہے۔ حاکم اور قاضی کے لیے بھی اعلان ہلال کرتے وقت خود آنکھ سے دیکھنے کی شرط فقہ حنفی سمیت کسی مسلک و مذہب میں موجود نہیں بلکہ حاکم و قاضی کے سامنے اگر مستند شہادت پیش ہو تو وہ اِس کی بنا پر اعلان کر سکتا ہے۔ اب حاکم اور قاضی کے لیے چند افراد کی شہادت اس کی اپنی رؤیت ہلال تو نہیں بن سکتی، لیکن اِس کو اِن شہادتوں سے ہلال کی موجودگی کا علم میسر آتا ہے، لہٰذا وہ اعلان کر سکتا ہے۔ اب مفتیان کرام کی خدمت میں سوال یہ ہے کہ
اگر سائنس اور علم فلکیات کے ذریعے قطعی علم مستند ہے جو ہر اصول و قاعدے کے مطابق شہادتِ رؤیت سے بالا درجے کا ہے تو پھر علم فلکیات کی بنا پر اعلان کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اور اِس علم کی بنیاد پر ایک مستقل کیلنڈر کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟
کیا علم فلکیات کو ہم دیگر عبادتوں کے اوقات کے تعین کے لیے استعمال نہیں کرتے؟ اب اوقات سحر و افطار کی طرف ہی آ جائیں۔ قرآن مجید نے تو یہ حکم دیا ہے”اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔” [البقرة، 2/187]۔ اب کیا پوری دنیا کے مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ہے جو صبح کے وقت سفید ڈورے اور سیاہ ڈورے کی تفریق یا افطار کے لیے اُفق پر رات کے آغاز کو دیکھتا ہے؟ اگر روزہ کے آغاز و اختتام کے لیے ہم علم فلکیات کی روشنی میں ہر شہر کے لیے بنائے گئے اوقات پر یقین کر لیتے ہیں تو آغازِ ماہ کے لیے ہم اسی قاعدے کا کس بنا پر انکار کرتے ہیں؟
یہی سوال اوقاتِ نماز کے سلسلے میں اٹھتا ہے۔ ظہر و عصر کے تعین کے لیے سایہ کی مقدار کو بنیاد بنایا گیا ہے مگر آج کل کون اِس فقہی اصول کا اطلاق روزانہ سایہ کو ماپنے کی صورت میں کرتا ہے۔ آج صبح صادق، طلوع آفتاب، زوال، مثل اول ثانی وغیرہ کے تعین میں ہم رویت بصری کو کلیتا ترک کر کے علم الفلکیات، علم ہیئت اور علم الحساب پر اکتفاء کر چکے ہیں۔ علم سائنس کی روشنی میں ہر علاقے کے لیے الگ ٹائم ٹیبل بنا دیا گیا ہے اور پوری دنیا اس کو بلا چون و چرا استعمال کررہی ہے۔ اسی طرح کا نظام قمری سال کے لیے بنانے کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا؟
یہاں حدیث مبارکہ کے الفاظ ’’فَاقْدُرُوا لَهُ‘‘ بھی اہم ہیں، جس میں بادل وغیرہ کی صورت میں اندازہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا معنی عموماً یہ لیا جاتا ہے کہ تیس دن پورے کر لو جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ لیکن ’’فَاقْدُرُوا لَهُ‘‘ سے تیس دن پورے کرنے کا معنی تو مجازی مفہوم میں نکلتا ہے۔ اصل معنی تو اندازہ کرنے یا حساب کتاب لگانے کا ہے۔ لہٰذا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنی حدیث مبارک میں ہی علم فلکیات کی روشنی میں اندازہ و حساب و کتاب کے ذریعے ہلال کے تعین کا راستہ کھلا چھوڑا ہے۔ ہمارے اہلِ علم اس دروازے کو بند رکھنے پر کیوں مصر ہیں؟
حساب و کتاب کے حوالے سے رؤیتِ ہلال کے ضمن میں امام بخاری ایک اور حدیث لائے ہیں، جس کے الفاظ یہ ہیں
إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ يعنی “ہم ایک غیر خواندہ جماعت ہیں۔ ہم لکھنے، حساب و کتاب کرنے والے نہیں ہیں۔ کبھی مہینہ اُس طرح اور کبھی اِس طرح ہوتا ہے، یعنی کبھی اُنتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے” [صحيح بخاری، كتاب الصوم، باب قول النبی: لا نكتب ولا نحسب، 2/675، رقم/1814]-
اگرچہ یہ حدیث بظاہر رؤیت ہلال کے باب میں حساب و کتاب کے رد میں نقل کی جاتی ہے لیکن اِس پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اِس حدیث کا معنی اصولاً حساب و کتاب کو ردّ کرنے کا نہیں ہے بلکہ اُس زمانے میں لوگوں کے پاس اِس کی استعداد نہ ہونے کا بیان ہے۔ اِس حدیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ ہم یعنی اہلِ حجاز ایک غیر خواندہ قوم ہیں جن کے پاس حساب و کتاب کی استعداد نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں رؤیت ہلال ہی آغاز و اختتامِ ماہ کے تعین کا ذریعہ ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ‘‘ کا لفظ امت مسلمہ کے معنی میں استعمال نہیں فرمایا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو پڑھانے لکھانے کا وہ اہتمام نہ کرتے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور جو سینکڑوں احادیث حصولِ علم کے باب میں علماء و مفتیان بیان کرتے ہیں وہ ایک حدیث بھی مذکور نہ ہوتی۔لہٰذا ’’أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ‘‘ سے مراد اُس وقت کے اہلِ حجاز ہیں۔ اور اُن کی یہ حالت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے باعثِ فخر نہیں بلکہ باعثِ تشویش تھی اور اِسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فروغِ علم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ لہٰذا اِس حدیث مبارک سے بھی یہی مطلب واضح ہوتا ہے کہ رؤیت کا اہتمام کرنا اِس لیے ناگزیر تھا کہ اُس زمانے کے لوگوں میں حساب و کتاب کی استعداد نہ تھی۔ لہٰذا اِس حدیث کا معکوس معنی یہ نکلتا ہے کہ حساب و کتاب کی استعداد کی دست یابی کے ساتھ ہی رؤیت بصری کی احتیاج بھی ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ جب امت ایک مرتبہ رویت علمی پر اتفاق کر لے گی تو اِمکانِ رویت کی بحث ایسے ہی ختم ہو جائے گی کہ اِمکانِ رویت کا تعلق بصری رویت کے ساتھ خاص ہے۔ جب وہ مراد ہی نہ رہی تو یہ بحث ہی بے اصل ہو جائے گی۔ ہماری اس تحریر میں اٹھائے گئے نکات سےیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ دور میں قمری ماہ کے آغاز کے لیے رؤیت بصری کی احتیاج باقی ہے نہ یہ شرعی تقاضہ ہے۔ لہٰذا امت کو اِس تنازع سے نکالنے کے لیے ہر کوئی اپنا کردار ادا کرے اور امت مسلمہ کی سطح پر ایک مشترکہ قمری کیلنڈر پر اتفاق کی طرف اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں