163

مسئلہ افغانستان اور ہماری پھرتیاں. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

56 / 100

مسئلہ افغانستان اور ہماری پھرتیاں

تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

آج (5ستمبر2021)جبکہ میں اپنی معروضات اپنے دوستوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں،افغانستان میں وہی لوگ برسر اقتدار آچکے  ہیں جو آج سے بیس سال پہلے تھے۔ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ یہ وہ نہیں ہیں۔اگر یہ وہی ہیں تو ان میں اب بہت تبدیلی آچکی ہے۔اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ہمارے اہل سنت کے بہت سے علماء نے ان کے حق میں بہت جذباتی بیانات دیئے ہیں۔کچھ نے کہا ہے کہ حکومت پر قبضہ کے بعد انہوں نے کچھ اچھے اقدامات کیے ہیں۔اہل سنت کی ایک تنظیم نے 27 اگست 2021 کو لاہور میں اہل سنت کی بعض اہم شخصیات کو بلا کر ان کے حق میں کانفرنس کی۔جس میں قائدین نے کہا کہ ان لوگوں نے حکومت سنبھالنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔اسی طرح انہوں نے پاکستانی طلاب کو وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی کاروائیاں بند کردیں۔
کراچی سے بھی ہمارے مفتی صاحب کا ایک ویڈیو کلپ سننے کو ملا۔انہوں نے بھی ان “فرشتوں”کی حمایت پر بہت زور دیا ہے۔انہوں نے ان سے رابطہ رکھنے کو بہت ضروری کہا ہے۔اپنے دلائل میں انہوں نے فرمایا کہ دیوبندیت اور بریلویت برصغیر کا مسئلہ ہے۔یہ دیگر اسلامی ممالک میں نہیں ہے۔انہوں نے عراق اور شام وغیرہ کی بھی مثالیں دیں۔انہوں نے فرمایا کہ افغانستان میں حنفی فقہ کو فالو کرنے والوں کی حکومت  ہے اس لیے ہمیں حنفیت کی بنیاد پر ان سے تعلقات استوار کرنے چاہیں۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے اور ہمارے درمیان بہت سے  مشترکات ہیں،ان مشترکات کی بنیاد پر ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہمارے بہت سے علمی اور روحانی مراکز ہیں اس وجہ سے بھی اہل سنت کی موجودہ افغانی حکومت سے راہ ورسم رکھنا بہت ضروری ہے۔یہ انکا دس سے بارہ منٹ کا کلپ ہے میں نے اسکا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔
آجکل اہل سنت افغان حکومت کی حمایت میں بہت ہی پھرتی دکھا رہے ہیں۔ہمارے کچھ دوست بے تاب بیٹھے ہیں۔ہر شخص کو قومی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔یہ کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ہے بلکہ قابل تعریف ہے۔اہل سنت میں سیاسی شعور کے فقدان نے انہیں قومی سیاست سے بے دخل کردیا ہے۔اگر ہمارے اندر سیاسی میدان کی بالغ نظری ہوتی تو ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے۔
جہاں تک اس معاملہ میں میرا نقطہ نظر ہے میں آج بھی قائد اہل سنت علامہ الشاہ احمد نورانی رح کے نقطئہ  نظر کا حمایتی ہوں۔میرے خیال میں ہمیں اس مسئلہ سے بالکل الگ رہنا چاہیے۔ہم خود ملکی سطح پر مسائل کے جال می پھنسے ہوئے ہیں۔ہمیں اپنے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔دوسری بات یہ کہ یہ حکومت اور ریاست کا مسئلہ ہے کہ افغانستان سے  تعلقات کیسے رکھنے ہیں۔یہ کوئی عوامی مسئلہ نہیں ہے۔یہ دو ریاستوں کےدرمیان کا مسئلہ ہے۔ہمیں انہیں حل کرنے دینا چاہیے۔جہاں تک انکا عام معافی کا اعلان ہے یا اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے دینے کا عندیہ  ہے یاپاکستانی طلاب کو وارننگ دینے کی بات ہے یہ سب اچھی چیزیں ہیں۔لیکن اہل سنت کو ان میں سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
جہاں تک اس دلیل کی بات ہے کہ دیوبندیت  اور بریلویت برصغیر کے مسائل ہیں،میں اس سے متفق نہیں ہوں۔میرے نزدیک یہ صرف دو عناوین نہیں ہیں بلکہ یہ دو مختلف سوچوں کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ دو سوچیں برصغیر میں دیوبندی اور بریلوی کے نام سے ہیں تو دنیائے اسلام کے دیگر سنی ممالک میں یہ صوفی اور سلفی اسلام کے نام سے موجود ہیں۔اسی طرح یہ دو نظریات افغانستان میں بھی موجود ہیں۔جہاں تک مشترکات ،علمی اور روحانی مراکز کی بات ہے اس مجھے سو فیصد اتفاق ہے۔مشترکات اور علمی و روحانی مراکز کے اشتراک کی بنیاد پر ہمارے تعلقات ہونے چاہییں۔لیکن میرے خیال میں یہ اصول صرف افغانستان کے لیے ہی ہمیں نہیں اپنانا چاہیے بلکہ افغانستان کے ساتھ جڑا ایک اور بھی ہمارا پڑوسی برادر اسلامی ملک ہے جسے ایران کہتے ہیں۔اس کے ساتھ بھی انہی مشترکات،علمی اور روحانی مراکز کی بنیاد پر اہل سنت کے اچھے تعلقات ہونے چاہیں۔اگر افغانستان کے راستے ماوراء النہر سے علوم وفنون برصغیر میں آئے ہیں تو کیا ایران سے کوئی کم آئے ہیں؟۔آپ اپنے پورے علمی ذخیرہ کو دیکھیں تو فارسی میں عربی سے کہیں زیادہ آپکو ملے گا۔افغانستان سے زیادہ ایران میں ہمارے علمی و روحانی مراکز ہیں۔
جہاں تک حنفیت کی بات ہے تو ہمیں بین الاقوامی اسلامی برادری میں تعلقات کی بنیاد حنفیت کو نہیں بلکہ قرآن و سنت کو بنانا ہوگا۔دنیائے اسلام میں پانچوں فقہوں کے علاوہ وہ بھی لوگ ہیں جو کسی فقہی کی تقلید نہیں کرتے۔اس لیے ہماری دعوت اتحاد کا منبع قرآن وسنت ہو۔بہر حال یہ سوچ بہت خوش آئند ہے مگر اسکو وسیع تناظر میں دیکھا جائے بڑے کینوس پر پھیلا جائے۔
میرے لیے یہ بات بہت اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان اور ایران افغانستان کے مسئلہ میں بہت بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں۔سعودی عرب اپنی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ گیم سے باہر ہوگیا ہے۔بیس سالوں میں سعودی عرب کے ذریعہ امریکہ نے افغانیوں پر خون آشام راتوں کا اندھیرا پھیلایا تھا۔مگر پاکستان اور ایران نے افغانستان کے اندھروں سے اجالوں کی طرف سفر میں بہت مدد کی جسکا اعتراف خود افغان کررہے ہیں۔کون سوچ سکتا تھا کہ یہ لوگ پاکستانی طلاب کو پاکستان میں کاروائیوں پر وارننگ دیں گے اور عاشورہ محرم پر کابل میں حسینی پرچم اتارنے پر وہ امام بارگاہ میں جاکر معذرت کریں گے۔
فطرت کا اصول ہے کہ ہمیشہ مثبت رویے فتح یاب ہوتے ہیں۔منفی رویوں سے شرمندگی اور خجالت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔فطرت اپنے مقاصد کی نگہ بانی کے لیے لالے کی خود حنابندی کرتی ہے۔مجھے اور آپ کو شاید اسکی ضرورت نہیں پڑتی۔
علامہ اقبال نے کہا تھا۔
میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنوی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی  ہے لالے کی حنا بندی
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “مسئلہ افغانستان اور ہماری پھرتیاں. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

  1. بہت حوب قابل تعریف سونا سے لکھنے کے قابل الفاظ ہے…
    اللہ کریم آپ کو حیات خضری سے نوازے…..

اپنا تبصرہ بھیجیں