mujrimana tanqeed Mufti gulzar ahmed naeemi 44

مجرمانہ تنقید۔مفتی گلزار احمد نعیمی

49 / 100

مجرمانہ تنقید۔

مفتی گلزار احمد نعیمی

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں تین دفعہ وزارت عظمی کا منفرد عزاز حاصل کرنے والے میاں محمد نوازشریف نےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر مجرمانہ تنقید کرکے ایک دوسرامنفرد اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی سیاستدان نے عوامی جلسے میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر برملا تنقید کی ہو۔اس تنقید کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہونگے یہ ایک الگ موضوع ہے۔سب سے پہلے ہم اس تنقید کے حوالے سے میاں صاحب کی گفتگو کے چیدہ چیدہ نکات اپنے دوستوں کی خدمت میں پیش کریں گے۔سابق وزیر اعظم نے جنرل باجوہ کو مخاطب کر کے کہا کہ موجودہ حکومت کی سوغات آپکی دی ہوئی ہے۔آپ نے مصیبت زدہ قوم کی مشکلات میں اور اضافہ کیا ہے۔آپ نے ہماری چلتی حکومت کو رخصت کیا ہے۔آپ نے ججوں سے زبردستی فیصلے لکھ وائے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اقدامات آپکے اشارے پر ہوئے ہیں۔عوام کی طرف سے الیکشن میں منتخب کردہ لوگوں کو رد کر کے اس نااہل ٹولے کو آپ نے مسلط کیا ہے۔آپ اس سب کے ذمہ دار ہیں اور جواب بھی آپکو ہی دینا ہوگا۔بجلی کے بلوں اور مہنگی دوائی کا حساب بھی آپکو دینا ہوگا۔غریبوں کے آنسؤوں اور انکی اداسی کے ذمہ دار بھی آپ ہی ہیں ۔ پھر جنرل فیض حمید کو مخاطب کر کے اسی طرح کی تقریر کی اور کہا کہ یہ سب کچھ آپکی وجہ سے ہوا ہے۔جنرل عاصم باجوہ پر بھی سابق وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کے قیام اور سینٹ کے الیکشنز پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

نواز شریف ہماری ملکی سیاست کے وہ کھلاڑی ہیں جوملٹری ایسٹبلشمنٹ کے ضیاء الحق کے مارشل لاء کی پیداوار تصور کیے جاتے ہیں۔نواز شریف میں ملک کا اتنا بڑا عہدہ لینے کی قطعا کوئی صلاحیت نہیں تھی۔وہ اپنےمضبوط معاشی پس منظر اور ایسٹیبلشمنٹ کے بھرپور تعاون کی وجہ سے تین دفعہ ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں۔سابق وزیراعظم کے بارے بہت کچھ مشہور ہےمگر انکی جو بہت ہی قابل افسوس عادت رہی ہے وہ یہ کہ وہ اپنے دوستوں کے کاندھے استعمال کرتے ہیں اور جب مقصد تک پہنچ جاتے ہیں تو انہی کاندھوں کو کاٹ دینے مین ذرا برابر بھی دیر نہیں کرتے۔حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارا سید مردان علی شاہ ثانی (مرحوم)نواز شریف کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ “نواز شریف جب پھنسا ہوا ہو تو پاؤں پکڑتاہے اور جب نکل جائے تو گلہ پکڑتا ہے۔” میرے خیال میں نواز شریف نے گوجرانوالہ جلسے میں آرمی چیف اور ڈی جسی آئی ایس آئی پر کڑی تنقید کر کے پاکستان کی جگ ہنسائی اور بے آبرو کرنے کی کوشش کی ہے۔ہمارے ازلی دشمن بھارت کو خوش کرنے کے لیے افواج پاکستان پر طعن کیا ہے۔مودی حکومت اور اسکی ایجنسی را کی پاکستان مخالف ہائبیرڈ وار کے عزائم و مقاصد کی تکمیل کی ہے۔انڈیا اور را پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے فوج اور پاکستانی عوام کو آپس میں الجھانا چاہتی ہے نواز شریف نے الزام تراشی کر کے بھارتی بیانیے کو تقویت پہنچائی ہے۔آپ بخوبی جان سکتے ہیں کہ انڈیا کے مین سٹریم چینلز نے اس تقریر کو براہ راست نشر کیا ہے۔یہ زہر آلود اور مجرمانہ تنقید صرف اس وجہ سے کی کہ ریاستی اداروں نے ان ضمیر فروش سیاست دانوں کے راستوں کو بند کر دیا ہے جن کے ذریعہ سے وہ ملک سے دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرتے دیتے تھے۔منی لانڈرننگ کرنے والوں کا جب یوم حساب قریب آیا تو انہوں نے اسی ادارے پر تنقید کے تیر برسانا شروع کر دیے جو پاکستان کی سالمیت اور ترقی کی ضمانت ہے۔

نواز شریف نے جتنا اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی شاید ہی کسی سولین حکمران نے اتنا نقصان پہنچایا ہو۔اپنی مرضی کےلوگوں کو اداروں پہ مسلط کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے ۔جو لوگ انکی لوٹ کھسوٹ کے سامنے رکاوٹ بنے یہ ان کے خلاف ہوگئے چاہے وہ اپنا ہی مقرر کردہ آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان یا نیب چیرمین ہو۔آج پاک آرمی انکا حدف تنقید ہے جبکہ جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے دھندے میں ملوٹ مسٹر ٹین پرسنٹ انکا رفیق اعلی ہے۔پاکستان کا کرپٹ مافیا پی ڈی ایم کی چھتری تانے کھڑا ہے اور ریاستی اداروں کو گالم گلوچ کررہے ہیں۔کچھ کرپٹ مذہبی مافیا بھی ان لوگوں کی سہولت کاری کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔نواز شریف ہمیشہ ضمیروں کا سوداگر رہا ہے۔اپنی دولت کی طاقت سے سیاسی اور مذہبی پردھان منتری ہمیشہ اسکی جیب میں رہے ہیں۔آج پی ڈی ایم میں جو لوگ قیادت کررہے ہیں اور لنگوٹ کسے ہوئے ہیں وہ “اتفاقی دولت” کے اسیر ہیں۔
جناب میاں صاحب آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے بے نظیر کے مقابلے میں چھانگا مانگا کے جنگلوں میں سیاسی گھوڑوں کی خرید وفروخت کا بازار لگایا۔اس ملک میں سٹیٹس کو کے آپ ہی تو موجد ہیں۔ہر ایماندار اور قابل سیاستدان کے پارلیمنٹ میں جانے کے راستے آپ نے ہی مسدود کیے ہیں۔آپکا ماضی اس حوالہ سے بہت ہی خوفناک ہے۔آپ اور آپکی دختر نیک اختر آخری دم تک خاموش رہے کہ شاید کوئی ڈیل یا ڈھیل مل جائے۔لیکن جب آپکو یقین ہوگیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا تو پھر آپ نے اور آپکی بیٹی نے توپوں کےرخ افواج پاکستان کی طرف کردیے۔
ایک بات یاد رکھیں۔! اب ملکی سیاست میں بین الاقوامی ایسٹبلشمنٹ کے پاکستانی مہروں کا کوئی کردار نہ ہوگا۔ یہ لوگ اقتدار کی حسرتوں کو اپنے سینوں میں دفن کر کے خود بھی دفن ہوجائیں گے۔اگر اس واضح ملک دشمنی کے بعد بھی مقتدر قوتوں نے ان کے ساتھ ڈیل کی یا انہیں ڈھیل دی تو پھر ملک کو تباہی سے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا خدا نخواستہ۔اقتدار پاکستان کے ساتھ محبت کرنے والوں کا حق ہے اور بحق دار رسید والی پالیسی پر عمل ہونا چاہیے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں