78

متنازع مصنف سلمان رشدی حملے کے بعد وینٹی لیٹر پرمنتقل

متنازع مصنف سلمان رشدی حملے کے بعد وینٹی لیٹر پرمنتقل
برطانوی مصنف سلمان رشدی کے ایجنٹ کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کے متعلق خبریں اچھی نہیں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور بول نہیں پا رہے ہیں۔
ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مصنف سلمان رشدی پر سٹیج پر تقریب کے دوران حملہ کیا گیا، اور اب وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور بولنے سے قاصر ہیں۔ ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو جانے کا امکان ہے۔‘
ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا کہ ’سلمان رشدی ممکنہ طور پر ایک آنکھ سے محروم ہو جائیں گے، ان کے بازو کے اعصاب کٹے ہوئے تھے، اور ان کے جگر میں چھرا گھونپ کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔‘
سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا اور ان کی گردن اور پیٹ پر وار کیے گئے۔
پولیس نے سلمان رشدی پر حملے کے بعد نیو جرسی کے علاقے فیئر ویؤ سے تعلق رکھنے والے ہادی متار نامی ایک 24 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
برطانوی مصنف سلمان رشدی پر امریکہ کی ریاست نیو یارک میں سٹیج پر حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس کی طرف سے ابھی تک اس حملے کے بارے میں کسی مقصد یا الزامات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور وہ جائے وقوع سے ملنے ایک بیگ اور الیکٹرانک آلات کی جانچ کے لیے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سلمان رشدی کو گذشتہ کئی برسوں کے دوران دھمکیاں ملتی رہی ہیں جبکہ 1989 میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں سلمان رشدی کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق جب ان پر حملہ ہوا اس وقت سلمان رشدی شیتوقوا انسٹیٹیوٹ میں ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔
عینی شاہدین نے دیکھا کہ اسی اثنا میں ایک شخص سٹیج کی جانب دوڑا اور اس نے سلمان رشدی کو مکا رسید کیا یا چاقو سے حملہ کیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد تقریب میں موجود افراد سٹیج کی طرف دوڑے۔
ان کے مطابق وہاں موجود افراد نے حملہ آور پر قابو پا لیا اور پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
نیو یارک پولیس کے مطابق اس حملے میں سلمان رشدی کی گردن اور پیٹ میں کم از کم ایک ایک بار چھرا گھونپا گیا، جس کے بعد ان کو پیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہینری ریس کو بھی سر پر معمولی چوٹ آئی ہے۔ ان کے ادارے نے ہی اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
اس تقریب میں موجود ایک آرٹسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح سے تقریب کی ریہرسل معمول کے انداز میں چل رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ حملے کے بعد سے تقریب کے مقام کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
متنازع کتاب ’مذہب: شیطانی آیات، کے مصنف
سنہ 1988 میں مصنف سلمان رشدی کی کتاب میں اسلام پر تنقید کی گئی تھی اور اِس کی وجہ سے اِن کے سر پر لاکھوں کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔
اُن کے ناول دی سیتانک ورسز ’شیطانی آیات‘ کی وجہ سے مسلم دنیا میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
اُس وقت ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے فتویٰ دیا تھا، جس کے تحت سلمان رشدی کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اِس سے قبل کسی بھی ناول یا کتاب کی وجہ سے عالمی سفارتی بحران پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کسی حکومت کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے شہری کے قتل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اب بھی پاکستان اور دیگر بہت سے ممالک میں سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی ہے اور تقریباً دس برسوں تک اُنھیں روپوشی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔
تجزیہ علیم مقبول
گرچہ ہم اس وقت نہیں جانتے کہ حالیہ حملہ کیوں کیا گیا، سلمان رشدی کو 30 سال قبل ’دی سیٹینک ورسز‘ کی اشاعت کے بعد سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے اس ناول کا بنیادی مقصد ایک پناہ گزین کے تجربات کو بیان کرنا تھا لیکن کئی مسلمانوں کو اس ناول پر اعتراضات تھے۔
اس ناول پر سب سے پہلے انڈیا میں پابندی لگائی گئی، جہاں سلمان رشدی پیدا ہوئے تھے، اور اس کے بعد متعدد ممالک نے بھی ایران کے آیت اللہ خمینی کی جانب سے فتوی سامنے آنے سے قبل ایسا ہی کیا۔
ایرانی رہنما کے فتوے میں اس کتاب کی اشاعت میں ملوث ہر شخص کو قتل کرنے کا کہا گیا اور انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔ اب تک اس فتوی کو باضابطہ طور پر واپس نہیں لیا گیا۔
اس ناول پر شروع ہونے والے ہنگاموں کے بعد سلمان رشدی نے مسلمانوں سے معافی مانگی لیکن اگلے 10 سال تک کے لیے وہ منظر عام سے غائب ہو گئے۔
اگرچہ اب تک خود سلمان رشدی کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا تھا، اس ناول کی اشاعت سے جڑے دیگر لوگوں میں سے نارویجیئن پبلشر کو 90 کی دہائی میں گولی مار کر زخمی کیا گیا جبکہ جاپانی ترجمہ کرنے والے کو بھی قتل کیا گیا۔
یہ ابتدائی خبر ہے جسے اپڈیٹ کیا جا رہا ہے، مزید تفصیلات کے لیے اس صفحے کو ری فریش کرتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں