0

ماہِ صیام. ڈاکٹر عبد القدیرخان

7 / 100

رمضان کا مُبارک مہینہ آگیا ہے۔ مُبارک اس لئے ہے کہ اس میں کلام مجید کا نزول شروع ہوا تھا اور اس وجہ سے بھی کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادتیں اور دعائیں قبول فرماتا ہے۔ دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں کلام مجید کی تلاوت ہوتی ہے، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ﷲ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے زکوٰۃ دی جاتی ہے جو ہم مسلمانوں پر فرض ہے۔ کلام مجید میں روزوں کے بارے میں ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

(1)سورۃ البقرہ، آیت 183: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

(2)سورۃ البقرہ، آیت 184:’’گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوںمیں گنتی کو پورا کرلے اور اس کی طاقت رکھنے والے، فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لئے بہتر ہے، لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔‘‘

(3)سورۃ البقرہ، آیت 185:’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق کی بات ہے‘‘

(4)سورۃ البقرہ، آیت 186 :’’ جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں، اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘

(5)سورۃ البقرہ، آیت 187میں ﷲ رب العزت فرماتے ہیں:’’روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے قریب جانا تمہارے لئے حلال کیا گیا، وہ تمہارے لباس ہیں اور تم انکے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا ﷲ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرمالیا، اب تمہیں ان سے قربت اختیار کرنے کی اور ﷲ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔ یہ ﷲ تعالیٰ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جائو۔ اسی طرح ﷲ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کیلئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ بچیں۔‘‘

مدّت بیتی کسی روایت میں پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھ سکتا ہو مگر کام اور فرض کی نوعیت کی وجہ سے نہ رکھ سکے تو اس کو چاہئے کہ دو مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔ دیکھئے ماہ رمضان میں عبادت پر بہت زور ہے اور اس میں نماز اور تلاوت کی تو بہت اہمیت ہے۔ لوگ عموماً اس مبارک ماہ میں کلام مجید کی مکمل تلاوت کرتے ہیں اور مساجد میں بھی ختم قرآن تلاوت کی جاتی ہے۔تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے ، حفاظ و قاری ان میں پورا قرآن مجید سناتے ہیں۔ اس کی اہمیت ویسے بھی بہت ہے۔ مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ:قرآن مجید پڑھنے سے گھر اپنے رہنے والوں کے لئے کشادہ ہوجاتا ہے اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، شیطان اس گھر کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کی خیرو برکت بڑھ جاتی ہے اور قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے گھر اپنے رہنے والوں کے لئے تنگ ہوجاتا ہے اس میں فرشتے اس کو چھوڑکر چلے جاتے ہیں۔ (سنن الدارمی)

دکانداروں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ خوف خدا کریں اور اس بابرکت مہینہ میں قیمتوں کوبڑھانے کے بجائے کم کریں جس طرح یورپین ممالک میں رواج ہے کہ وہ اپنے مذہبی تہواروں اوردیگر مواقع پر قیمتیں کم کردیتے ہیں۔ ﷲ تعالیٰ بہت برکت دے گا۔ اگر آپ نے غیراخلاقی اور غیراسلامی کام کئے اور ﷲ کی مخلوق کو تکلیف پہنچائی تو یاد رکھیں کہ ﷲ کی گرفت بہت ہی سخت اور تکلیف دینے والی ہے۔ اس نے آپ سے بہت زیادہ طاقتور قوموں فرعون، عاد، ثمود کا جو حشر کیا ہے، ان کے واقعات کلام مجید میں تفصیل سے درج ہیں۔ مہنگائی بہت ہے، حکمرانوں نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، آپ ان کی مدد کیجئے اور ثواب دارین حاصل کیجئے۔ جزاک ﷲ۔

(نوٹ) چند سبق آموز ضرب المثل کہاوتیں:

(1)دنیا کی 128عدالتوں کی درجہ بندی میں بلجیم کے کافر جج پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کے 121ویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان کے غریب عوام کو عدالت سے انصاف حاصل کرنے کے لئے حضرت نوحؑ کی عمر، حضرت ایوبؑ کا صبر اور قارون جتنی دولت کی ضرورت ہے۔

(2)ایک ہزار قابل انسان مرجانے سے ملک کو اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا کہ ایک احمق، نااہل شخص کے صاحب اختیار (حکمران) بننے سے ہوتا ہے۔ (مولانا رومیؒ)

(3)دوست کے ساتھ اس نمک کی طرح رہو جو کھانے میں دکھائی نہیں دیتا اگر نہ ہو تو اس کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔ (حضرت علی کرم اللہ وجہہ)

(4)حضرت یوسف ؑ جانتے تھے کہ کمرے کے سارے دروازے زلیخا نے بند کردیئے ہیں پھر بھی وہ بند دروازے کی جانب دوڑے اور اللہ نے ایک ایک کرکے تمام دروازے کھول دیئے۔ تمہیں اگر کبھی لگے کہ تمہارے دروازے بند ہیں تو مان لو کہ تمھارا اور یوسف ؑ کا خدا ایک ہی ہے۔

(5)تین خوبیاں انسان کو فرشتہ بنا دیتی ہیں:(1) ٹھنڈا دماغ (2) میٹھی زبان اور (3) نرم دل۔

(6)کسی بھی پروجیکٹ میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں سے دوستوں کی طرح پیش آئو ، ان کی ضروریات کا خیال رکھو ، ان کا تکلیف میں ساتھ دو، وہ تمہاری خاطر جان دےدیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں