51

ماضی کی کوتاہیوں کے ازالے کا وقت آگیا

ماضی کی کوتاہیوں کے ازالے کا وقت آگیا
اسلام آباد(خبرایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قوم گزشتہ چار سال کےدوران عوام کے فلاحی منصوبوں میں تاخیر کا جواب مانگتی ہے ، ناقص منصوبہ بندی اور ٹنڈرنگ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ، ماضی کی کوتاہیوں کے ازالے کا وقت آگیا،اب کوتاہی برداشت نہیں کرینگے، مہنگائی سے جلد نجات ملے گی، شمسی توانائی کا جال بچھائیں گے،وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کو ایک ماہ میں شمسی توانائی پر منتقل کردینگے،دیگر صوبے بھی عوامی فلاح و بہبود کے لئے اچھے فیصلے کریں ، سالانہ 20ارب ڈالرز کا تیل و گیس مجبوراًدرآمد کرتے ہیں،دعا کریں عالمی قیمتوں میں مزیدکمی آئے ،ایک ماہ تک مفت گرین و بلیو لائن بس سروس چلائی جائے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کے جدید نظام کے تحت میٹروبس سروس کی گرین لائن اور بلیو لائن بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا کہ دنیا میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، اللہ کا شکر ہے کہ حالیہ دنوں میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے ،تیل و گیس کی قیمتوں سے دنیا کے کروڑوں اربوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اوراس مہنگائی کے دور میں جس کا سلسلہ چار سال سے جاری ہے عام آدمی کے لئے گزر اوقات بہت مشکل ہو چکی ہے اوروہ بمشکل اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے ، ایسے میں عوامی سفری سہولت کا یہ منصوبہ ایک بہترین قدم ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایک ماہ کیلئے گرین اور بلیو لائن بس سروس کے ذریعے مفت سفری سہولت فراہم کی جائے تاکہ مہنگائی میں پسے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف ملے ۔ انہوں نے ای کارڈ کا اجراء فوری طور پر شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ مختلف روٹس کے لئے مسافروں کو الگ الگ کارڈز نہ لینے پڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بس سروس میں جب امیر اور غریب اکھٹے سفر کریں گے تو اس سے طبقاتی تفریق بھی ختم ہو گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ اس وقت ہم بہت مہنگی بجلی بنانے پر مجبور ہیں ،تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اس میں مزیدکمی آئے تاکہ عوام کو بجلی اور گیس سستی مہیا کی جاسکے۔ وزیراعظم نے کہاکہ عوام مہنگائی سے تباہ حال ہیں ، اللّٰہ ہماری مدد کرے گا اور ان کے لئے حالات میں بہتری آئے گی ۔ آج اس حوالے سے جامع منصوبہ تشکیل دیا جارہاہے ، زرعی مقاصد اور سرکاری دفاتر بشمول اسکول ، اسپتال کی عمارتوں کے لئے شمسی توانائی کا جال بچھا دیں گے تاکہ مہنگی بجلی سے گلوخلاصی ہو ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مجبوراً سالانہ 20ارب ڈالر کا تیل و گیس درآمد کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ 75سال میں اگرچہ بعض حکومتوں نے اچھا کام کیا لیکن بحیثیت مجموعی ہم قرب و جوار کے ممالک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور دائرے میں گھوم رہے ہیں ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ باقی صوبے بھی عوامی فلاح و بہبود کیلئے اچھے فیصلے کریں گے ۔وزیراعظم نے اسلام آباد پولیس کے لئے وزیرداخلہ کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پنجاب میں امن و امان کے لئے کام کرنے کا دس سال کا تجربہ ہے وہ اسلام آباد میں بھی بہترین کام کر رہے ہیں اور اسلام آباد پولیس کے لئے جن اقدامات اور پیکیجز کا انہوں نے اعلان کیا ہے ان کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں