81

مارچ میں اسلحہ لانے کا اعتراف

مارچ میں اسلحہ لانے کا اعتراف کابینہ کمیٹی قائم
اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ میں اسلحہ لانے کے اعتراف اور وزیراعلیٰ محمود خان کے صوبائی فورسز لانے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کیخلاف مقدمے کافیصلہ کرلیا، وزیرداخلہ نےکہا PTIلانگ مارچ سیاسی سرگرمی نہیں ریاست پر حملےکی کوشش تھی، خیبر پختونخوا ہائوس میں سرکاری وسائل سے مسلح جتھے جمع کیے گئے، کسی بھی سرکاری اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں تھا جبکہ تحریک انصاف کےکارکن مسلح تھے، عدالت عظمیٰ سے دھوکہ دہی کے ذریعے حکم نامہ جاری کراویاگیا، وزیراعظم نے پی ٹی آئی قیادت کی اشتعال انگیزی اور اسلحہ کی موجودگی کے اعتراف کیلئے تحقیقاتی کمیٹی بنادی، کمیٹی میں وزیر داخلہ، قمر زمان، ایاز صادق، اسعد محمود، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شامل، عمران خان، محمودخان کے بیانات کا جائزہ لیکر لائحہ عمل تجویز کریگی، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کو اپنے فرائض بخوبی انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ، وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود اور مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں25 مئی کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ نے عمران خان کے 25 مئی کے لانگ مارچ کو مسترد کرنے پر عوام کو مبارکباد دی۔ کابینہ نے کہا کہ میڈیا اور وزارتِ اطلاعات کی عوام کیلئے مسلح جتھوں اور اِنکے اصل چہرے کے حقائق پر مبنی رپورٹنگ قابلِ ستائش ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی تھی کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کابینہ کو بتایا کہ کسی بھی اہل کار کے پاس اسلحہ نہیں تھا، وفاقی کابینہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اہلکاروں کو اپنے فرائض بخوبی انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیر داخلہ رانا ثناء نے اجلاس کو باور کرایا کہ ریاست مخالف کوئی لانگ مارچ ہوا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اجلاس کے دوران جے یو آئی کے وزیر مذہبی امور مولانا اسعد محمود نے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔وفاقی کابینہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے 25 مئی کے خونی مارچ کے اعلان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے اسلحہ اسلام آباد لانے کے بیان کا سختی کے ساتھ نوٹس لیا۔ وزیراعظم نے عمران خان کی جانب سے کارکنوں کے اسلحہ لانے کے اعتراف کی تحقیقات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی میں وزیر داخلہ، قمر زمان، ایاز صادق، اسعد محمود، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں۔ کمیٹی عمران خان اور چیف منسٹر کے پی کے بیانات کا جائزہ لے کر لائحہ عمل تجویز کریگی۔ رانا ثناء اللہ نے کابینہ کو بتایا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ریاست مخالف سوچی سمجھی سازش تھی، خیبر پختونخوا حکومت کےوسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پی ٹی آئی نے ایک دن پہلے کے پی ہاؤس میں مسلح جتھوں کو جمع کیا، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے بھی پولیس پر حملہ کیا۔وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا بھی نوٹس لیا اور شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہم پوری قوت کے ساتھ ریاست اور وفاقی دارالحکومت پر حملہ کریں گے۔ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے بیانات پر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب عمران خان ایک اور احتجاجی مارچ کی کال دینگے تو وہ صوبے کی ’فورس‘ استعمال کرینگے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی 92 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں خدشہ تھا کہ ’خونریزی‘ ہونے والی ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے کچھ کارکن بھی مسلح تھے اور حکام کی جانب سے کئی گھنٹوں سے جاری گولہ باری کیخلاف جوابی کارروائی کر سکتے تھے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کے مجرمانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اسکی تکمیل کیلئے تمام سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا گیا اور پولیس کے مسلح جوانوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی حکم کے تحت کرمنل گینگ لشکر میں شامل کیا گیا۔عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پولیس کے علاوہ دیگر محکموں کے وسائل کو بھی بروئے کار لایا گیا جو اس مجرمانہ سیاسی ایجنڈے کو جو قوم کو تقسیم کرنے پر مشتمل ہے اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے پر مشتمل ہے اس کو آگے بڑھانے کیلئے وفاق پر حملہ آور ہوئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ لانگ مارچ میں مسلح لوگ جن کی تعداد چند ہزار تھی وہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف بڑھے اور جب ان کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور مسلح انداز سے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کرمنل گینگ کو روکنے کیلئے جو رکاوٹیں قائم کی گئی تھیں ان کو بھی لانگ مارچ کے شرکا نے ہٹایا اور عدالت عظمیٰ میں دھوکہ دہی اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کروایا جس میں ان کو اسلام آباد میں داخل ہونے کیلئے راستہ دینے کا حکم دیا گیا اور اسلام آباد کے ایچ 9 میں جلسہ کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا جس پر بھی ہم نے عمل کیا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ہم نے تحریک انصاف کو مقررہ وقت فراہم کیا مگر انکا مقصد جلسہ کرنا تھا ہی نہیں، ان کا مقصد اسلام آباد میں داخل ہو کر افراتفری اور انارکی پھیلانا اور دارالحکومت پر قبضہ کرنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں