317

مائنڈ سیٹ . ارشاد بھٹی

یکم جولائی 2019کو گرفتاری، الزام 15کلو ہیروئن، 15پیشیاں، 4ججز کا کیس سننا، 5ماہ 23دن اور رانا ثناء اللہ کی ضمانت، ’جان اللہ کو دینی‘ والے محترم شہریار آفریدی یاد آرہے،

فرمایا ’’ایک عرصے سے رانا ثناء اللہ کا پیچھا کررہے تھے، دومرتبہ پکڑنے لگے، گھر کی خواتین ساتھ، ارادہ ترک کر دیا، اس بار 3ہفتے کی منصوبہ بندی، محنت کے بعد رنگے ہاتھوں پکڑا‘‘،

آفریدی صاحب کلمہ پڑھ کر یہ بھی فرما چکے ’’رانا ثناء اللہ ہیروئن فروش نیٹ ورک سے منسلک، ان کا کام ہیروئن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا، ہمارے پاس رانا ثناء کی ہیروئن اسمگلنگ اور اس دھندے سے بنائی جائیدادوں بھری موٹی فائل بھی موجود‘‘،

آفریدی صاحب اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بھی فرما چکے ’’ہمارے پاس پکڑے جاتے وقت کی وڈیو فوٹیج بھی موجود‘‘ شہریار آفریدی قسم کھا کر قومی اسمبلی میں یہ بھی فرما چکے ’’الزام ثابت نہ کرسکا تو مجھے الٹا لٹکا دیں، پھانسی دیدیں‘‘۔ اس کیس کے دوران 12مرتبہ ’جان اللہ کو دینی‘ ہے کہنے والے شہریار آفریدی 14اکتوبر، 16اکتوبر 2019کو یہ بھی فرما چکے ’’ٹرائل شروع ہوگا تو ثبوت عدالت کو دیدیں گے، ٹرائل شروع ہوا نہیں، ہم سے ثبوت مانگے جارہے، کیا ثبوت میڈیا کو دیدوں‘‘۔

اب یہ الگ بحث، 5ماہ 23دن گزر گئے کیوں ٹرائل ہی شروع نہ ہوسکا، یہ بھی الگ بحث، لاہور ہائیکورٹ سے ملے اس انوکھے ریلیف کی وجہ کیا، یہ بھی الگ بحث۔ رانا ثناء اللہ خوش نصیب، 5ماہ 23دنوں میں ضمانت ہوگئی ورنہ کیس سچا ہو یا جھوٹا،

15چھوڑیں الزام 5کلو ہیروئن کا بھی ہو، سالہا سال ضمانت نہ ہو پائے، یہ سب چھوڑیں، شہریار آفریدی سے پوچھنا یہ کہ آپ تو کئی بار فرما چکے، آپ کے پاس رانا ثناء گرفتاری کی وڈیو فوٹیج موجود، بقول آپکے،

آپ وہ وڈیو اعلیٰ حکام کو دکھا چکے اور وقت آنے پر عدالت میں بھی پیش کر دیں گے مگر آفریدی صاحب اے این ایف کہہ رہی ’’ہمارے پاس تو کوئی وڈیو فوٹیج ہی نہیں،

شہریار آفریدی کا وڈیو فوٹیج دعویٰ slip of tongue‘‘ مطلب بقول اینٹی نارکوٹکس فورس ’’شہریار آفریدی کے منہ سے غلطی سے وڈیو فوٹیج کا نکل گیا ورنہ ہمارے پاس کوئی وڈیو فوٹیج نہیں‘‘۔ چلو آفریدی صاحب اسے چھوڑیں، یہی بتادیں،

آپ کی وفاق، پنجاب میں حکومت، آپ کیوں 5ماہ 23دن رانا ثناء کا ٹرائل ہی شروع نہ کروا سکے، یہ بھی چھوڑیں، آفریدی صاحب بتایئے، کہاں ہے وہ رانا ثناء کا منشیات فروش نیٹ ورک، کہاں ہے وہ ثبوتوں بھری فائل، آفریدی صاحب اگر یہ سب سچ تو ابھی بھی وقت،

رانا ثناء کی ضمانت ہوئی، وہ بری نہیں ہوئے، سپریم کورٹ جائیں، سب ثبوت پیش کریں لیکن آفریدی صاحب اگر یہ سب جھوٹ تو پھر خودہی سوچ لیں کہ آپکو کیا کرنا۔

اب بات کر لیتے ہیں بلاول بھٹو کی، انہیں نیب نے بلایا ’اوپل جوائنٹ ونچر 225کیس میں، انہیں بحیثیت شیئر ہولڈرز زرداری گروپ آف کمپنیز طلب کیا گیا، 15اکتوبر 2011کو یہ کیس شروع ہوا،

نیب کے مطابق 2009میں بلاول بھٹو اور زرداری صاحب اوپل 225کمپنی کے 25پچیس فیصد کے شیئر ہولڈر بنے، اس کمپنی میں جعلی اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے آئے گئے، اربوں کے قرضے لئے گئے، بلاول یہ تو سب کو بتائیں، میں تو ایک سال کا تھا جب کمپنی ڈائریکٹر بنا دیا گیا،

مجھے اب نیب بلارہا لیکن بلاول یہ نہ بتائیں کہ جب میں بالغ ہوا تب کمپنی شیئر ہولڈر بنا، جب میری عمر 20اکیس سال تھی تب بھی زرداری گروپ آف کمپنیز کی بیلنس شیٹس، فنانس شیٹس پر میرے دستخط موجود، ویسے بلاول تو ابھی تک یہ بھی نہ بتا پائے کہ مبینہ طور پر سوا کروڑ ماہانہ بلاول ہاؤس کا خرچہ اومنی گروپ کیوں اُٹھا رہا تھا،

مبینہ طور پر بلاول ہاؤسز کے کھانوں، یوٹیلٹی بلوں، ڈرائی کلین، بلاول کے کتوں کی خوراکیں، حتیٰ کہ صدقے کے 28بکروں کے اخراجات جعلی اکاؤنٹس سے کیوں، بلاول تو ابھی تک یہ بھی نہ بتا پائے کہ انکی اور ایان علی کی ایئر ٹکٹیں ایک بینک اکاؤنٹ سے کیوں خریدی جاتی رہیں۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، ذکر ہو رہا تھا بلاول کو نیب کے بلانے کا، نیب نے کیا بلالیا، سائیں بلاول تو غصے میں آگئے، کہا ’’میں نیب میں پیش نہیں ہوں گا، ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرلو‘‘،

ماشاء اللہ یہ ہیں جمہوریت کے چیمپئن، یہ ہے آئین، قانون کے بھاشن دینے والوں کا حال، نیب میں پیش نہیں ہوں گا، ہمت ہے تو گرفتار کر لیں، بلاول بھول گئے، زرداری صاحب نے بھی کہا تھا ’’چیئرمین نیب کی کیا مجال، کیاجرأت‘‘ پھر یہی زرداری صاحب نیب کے ڈائریکٹروں، ڈپٹی ڈائریکٹروں کے حضور پیش ہوتے رہے،

نیب پیشیاں بھگتتے رہے، ویسے ہماری اشرافیہ کا یہی مائنڈ سیٹ، مریم فخریہ کہہ چکیں ’’ہمارے احتساب کی بات کرتے ہو، ہم تو حکمران خاندان‘‘ نواز شریف کہہ چکے ’’میرے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ تو تمہیں کیا‘‘ شاہد خاقان عباسی کیخلاف الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آیا تو بولے ’’یہ جج مینٹلی ڈسٹرب، میں پبلکی اس پر حملہ کروں گا‘‘،

مولانا فضل الرحمٰن سے کہا گیا سنا جارہا آپ کو نیب نوٹس ملنے والا، بولے ’’نوٹس ملا، پھاڑ کر پھینک دوں گا‘‘ نیب نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف ہیلی کاپٹر کیس چلایا تو ایک وفاقی وزیر بولے ’’نیب عمران خان سے معافی مانگے‘‘ یہ ہے اقتدار، اختیار مل جانے کے بعد والا مائنڈ سیٹ، آگے سنیے، بلاول بولے ’’مجھے تو ثاقب نثار معصوم کہہ چکے، میں نیب میں کیوں پیش ہوں، ماشاء اللہ کیا منطق ہے،

ثاقب نثار تو زرداری صاحب، سندھ کرپشن، بیڈ پرفارمنس، جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ، 25والیمز کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہہ چکے، کیا اس سب کو بھی سچ مان لیا جائے،

استادِ گرامی حسن نثار کا تازہ ترین کالا قول یاد آگیا، فرمایا ’’آئین میں آرٹیکل 6کے علاوہ بھی کچھ ہے یا نہیں‘‘، سچ کہا، سوچنے کی بات تو یہ کہ ’’کیا قوم کو بُھک ننگ دینا آئین شکنی نہیں، کیا تعلیم، صحت جیسی بنیادی سہولتیں نہ دینا آئین شکنی نہیں،

کیا بدنیتی بھری بیڈ گورننس، بیڈ پرفارمنس آئین شکنی نہیں، کیا سرے محل، ایون فیلڈ، ٹی ٹیاں آئین شکنی نہیں، کیا عدالتوں، نیب، ایف آئی اے پر چڑھائیاں، حکم عدولیاں آئین شکنی نہیں، کیا صرف آرٹیکل 6کی خلاف ورزی ہی آئین شکنی، کیا باقی سب آئین شکنیاں آئین کے مطابق؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں