Do Palestinians exist? 73

لہو لہو سرزمین مقدس. امتیاز رفیع بٹ

51 / 100

شہری فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی فوج کی طرف سے بہیمانہ بمباری، فضائی اور زمینی حملوں کے 11 دن بعد جنگ بندی ہوچکی ہے۔ 230 کے قریب فلسطینی شہید اور 10 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں ، فلسطینی ہلاکتوں میں زیادہ تر عام شہری، خواتین اور بچے شامل ہیں۔صورتحال تاحال غیر مستحکم اور انصاف طلب ہے لیکن اب اس موقف میں عالمی سطح پر تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جو نئی عالمی صف بندیوں کی طرف اشارہ کناں ہے۔

تنازعہ کے بنیادی پس منظر پر نظر ڈالیں تواس کی ابتدا سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے سے ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد فلسطین کا علاقہ بیت المقدس برطانوی سلطنت کے زیر کنٹرول آگیا۔ 1920کی دہائی سے لے کر 1940 ء تک یہودی تارکین وطن مغربی کنارے اور اس کے آس پاس منظم طریقے سے آباد کیے گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ سے ہولوکاسٹ کے متاثرین کو بھی اس خطے میں بسانے کے لئے مغربی اقوام نے گرمجوشی دکھائی ۔ مئی 1948 میں یہودی آبادی کے ساتھ ملی بھگت سے امریکی اور برطانوی آقاؤں نے اسرائیل نامی خود ساختہ یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا۔ عرب قوموں نے نو تشکیل شدہ ریاست کو تسلیم نہیں کیا اور جنگ شروع ہوگئی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے دو ریاستی حل کو مسترد کردیا گیا، اس کے بعد جنگ میں اسرائیلی فوج کو مستحکم کرنے کے لئے کافی جنگی سامان اور اسلحہ فراہم کیا گیا۔ عرب قومیں فوجی جدوجہد کرتی رہیں جس سے اسرائیل کو اپنے دفاع کا جواز میسر آگیا ۔ یہ جمود 1960 تک جاری رہا۔ اقوام متحدہ کا بطور عالمی ادارہ کردار مایوس کن رہاجو بنیادی طور پر مغربی اور یورپی اقوام اور مخصوص ممالک کے مفادات کی نگہبانی کرتا رہا، 1967 میں ’’چھ روزہ جنگ ‘‘کے نام سے لڑائی کا آغاز ہوا۔ ایک بار پھر اسرائیلی فوج نے جارحیت کی اور اردن اور مصر کے بھی کچھ اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ سیز فائر ہوا لیکن ایک بار پھر عرب ممالک کے لئے نقصان کا باعث بنا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ معاملہ پوری دنیا کے رضاکار آزادی پسندوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اورپی ایل او (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) کا جنم ہوا ۔ کافی ناکام مذاکرات کے بعدحماس وجود میں آئی تاکہ کچھ فیصلہ کن نتائج سامنے آئیں اور اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑجواب دیا جائے۔ حماس کی جدوجہد کی تحریک کو ہمسایہ اور دور دراز کی بہت سی مسلم اقوام کی بالواسطہ حمایت حاصل ہے ان ممالک میں ایران بھی شامل ہے۔عالمی سفارت کاری میں اسرائیل ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور اسے ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لئے سرگرم ہے۔ حماس اور حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔

1920 کی دہائی کے اوائل سے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ 100 سال کاہو چکا ہے جو تاحال حل طلب ہے۔ یروشلم کے مضافات سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ کی پٹی میں زبردستی یہودیوں کی آباد کاری فلسطینی سرزمین پر تسلط قائم کرنے کے مترادف ہے۔ اقوامِ متحدہ سیکورٹی کونسل اور اوسلو معاہدوں نے سفارتی حل کی امید بندھائی لیکن نتیجہ کچھ برآمد نہ ہوا۔ ادھر اسرائیل مزید فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرتا رہا۔ سفارتی طور پروہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا بیک ڈور چینلز کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے امریکی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوگیا جس سے اسرائیلی مظالم کو قانونی حیثیت ملتی ہے۔ خاص طور پر شاہی خاندان اورمتحدہ عرب امارات نے مشرق وسطیٰ میں غالب فوجی ومعاشی طاقت بننے کے عزائم میں فلسطینی مسلمانوں کی حالت زار کو نظر انداز کیا، یہ اقدامات فلسطینی عوام اور تاریخ فراموش نہیں کرے گی۔

پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے بارے میں موقف میں اٹل رہا ہے۔ پاکستان اور اسرائیل دونوں مذہبی نظریات پر قائم ہوئے۔ پاکستان نے فلسطین کی جدوجہد میں ہر موقع پر اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کی۔شدید معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے اسرائیلی حامی ممالک کے مطالبات کو کبھی قبول نہیں کیا۔ دنیا بھر میں پاکستانی فلسطینی عوام کے ساتھ نا انصافی کے خلاف جدوجہد میںہم آواز رہے۔کچھ دن پہلے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر سی این این کی صحافی بیانا گولودریگا (جو خود ایک یہودی ہے) نے انٹرویو کے دوران کئی زبانی حملے کیے لیکن وزیر خارجہ نے لطیف اور متوازن جوابات دیئے۔ حقیقت میں انہوں نے سچ کہا کہ اسرائیل میڈیا کنٹرول کے ذریعے حقیقت کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔

2021 کچھ دہائیوں قبل کی دنیا کے برعکس ہے۔ دنیا کی نظروں سے اب کچھ پوشیدہ نہیں ۔ اے پی اور الجزیرہ جیسے میڈیا گروپس، جو اسرائیلیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی اموات کی خبریں دے رہے تھے، پر بمباری کی گئی، لیکن اب صحافت بھی بدل رہی ہے۔ اسمارٹ فون رکھنے والے فلسطینیوں نے 11 دن کی جنگ کے ہر ایک واقعے کی فوٹیج بنائی جسے پوری دنیا نے دیکھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے الفاظ میں ’’اسرائیل ہار رہا ہے‘‘۔ اب لاشوں کو چھپانا ممکن نہیں ہے دنیا جاگ رہی ہے۔ اس میں تعجب کی بات نہیں کہ نیویارک، لندن، میڈرڈ اور دیگر ان گنت شہروں میں فلسطین کے حامی جلسے اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ انقلاب اب زیادہ دور نہیں۔اسرائیل جنگی جرائم اور عام شہریوں پر بمباری کا مرتکب ہو رہا ہے۔امریکہ جو اقوام متحدہ میں اس کے خلاف ہر اقدام کو ویٹو کرتا ہے خود چین، روس، پاکستان اور ایران جیسے نئے بلاکس کے مقابلے میں اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ ہم تاریخ سے سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ماضی مستقبل کا پیش خیمہ ہوتاہے، اس لحاظ سے، مستقبل کا تعین ہو رہاہے، فلسطینیوں کی قربانیاں ایک دن آزاد اور پرامن فلسطین کا نتیجہ اخذ کرکے رہیں گی۔ ان شاء ﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں