Kashif Gulzar Naeemi 81

لعنت کرنا کیسا ہے؟ تحریر: کاشف گلزار نعیمی

57 / 100

لعنت کرنا کیسا ہے؟
تحریر: کاشف گلزار نعیمی
مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج کل لعنت کرنا ایک فیشن بن چکا ہے۔۔۔ میڈیا پر سیاست دانوں پر اپنے مخالف مسلک کے علماء پر۔۔۔۔۔ غرض یہ کہ کہ جو اچھا نہ لگا وہ لعنتی ٹھرا ۔۔۔۔۔کسی نے بہت درست کہا کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کے بہترین جج اور اپنی غلطیوں کے بہترین وکیل ہیں ۔۔۔ دس بستہ عرض کروں گا کہ کم از کم لعنت کرنے سے بچیں ایک دوسرے پر لعنت کرنے اور اللہ کے غضب کی اور دوزخ کی آگ کی بددعا دینے کی ممانعت آئی ہے۔۔
حضرت سمرة بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک دوسرے پر لعنت نہ ڈالو، اور آپس میں یوں نہ کہو کہ تجھ پر اللہ کا غضب ہواور نہ آپس میں ایک دوسرے کے لئے یوں کہو کہ تو جہنم میں جائے (اور روایت میں ہے)کہ نہ آپس میں ایک دوسرے کے لئے یوں کہو کہ آگ میں جلے۔ (مشکوة 413 بحوالہ ترمذی اور ابوداؤد)
تشریح: اس حدیث مبارکہ میں تین نصیحتیں فرمائیں۔
پہلی نصیحت یہ کہ آپس میں ایک دوسرے پر لعنت نہ کرو اللہ تعالی شانہ کی رحمت سے دور ہونے کی بددعا کو لعنت کہا جاتا ہے۔ کسی کو کہنا کہ ملعون ہے یا لعین ہے یا مردود ہے یا اس پر اللہ کی مار ہے یا اللہ کی پھٹکار ہے یہ سب لعنت کے مفہوم میں شامل ہے اور کسی پر بے وجہ لعنت کرنا بہت سخت بات ہے۔
لعنت کس پر کرنا درست ہے؟
عام طور پر یوں کہہ سکتے ہیں کہ کافروں پر اللہ کی لعنت ہو اور جھوٹوں اور ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ لیکن کسی کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ یہ یقین نہ ہو کہ وہ (جس پر لعنت کی جارہی ہے) کفر پر مرگیا۔ آدمی تو آدمی نجار کو، ہوا کو، جانور کو بھی لعنت کرنا جائز نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ہوا پر لعنت کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے ہی حکم دی ہوئی ہے۔ اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو لعنت کے مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ جاتی ہے جس نے لعنت کی (ترمذی)
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ بلاشبہ انسان جب کسی پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف لوٹ جاتی ہے ، وہاں دروازے بند کردئے جاتے ہیں (اوپر کو جانے کا کوئی راستہ نہیں ملتا) پھر زمین کی طرف اتاری جاتی ہے زمین کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں (یعنی کوئی جگہ ایسی نہیں ملتی جہاں وہ نازل ہو) پھر دائیں بائیں کا رخ کرتی ہے جب کسی جگہ کوئی راستہ نہیں پاتی تو پھر اس شخص پر لوٹ آتی ہے جس پر لعنت کی ہے اگر وہ لعنت کا مستحق تھا تو اس پر پڑ جاتی ہے ورنہ اس شخص پر آکر پڑتی ہے جس نے منہ سے لعنت کے الفاظ نکالے تھے۔ (ابوداؤد)
(خدارا خود بھی اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔
اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں