Mufti gulzar Ahmed Naeemi 95

لبرل ازم اور اساتذہ کی ذمہ داری.مفتی گلزار احمد نعیمی۔ پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد ممبر قومی اقلیتی کمیشن پاکستان۔

لبرل ازم اور اساتذہ کی ذمہ داری
مفتی گلزار احمد نعیمی۔
پرنسپل:جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

ممبر قومی اقلیتی کمیشن پاکستان۔


آج کی دنیا میں لبرل ازم اور اس کے حامیوں کے اثر و نفوذ میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔لبرل ازم بہت ہی تیزی سے بلا رکاوٹ ہمارے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ لبرل ازم کو پھیلانے کے لیے اس کے ذمہ داروں نے ہماری نوجوان نسل کا بطور خاص انتخاب کیا ہے۔ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے انہوں نے عقل کو حصول علم و آگہی کا بنیادی ماخذ قرار دیا ہے۔ عقل جسے حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ نے عیار قرار دیا ہے اس کو نوجوان نسل کی گمراہی کے لیے نہایت خوش آیند طریقہ سے پیش کرنا استعمار کا بنیادی مقصد اور اہم ایجنڈا ہے۔ آج کے نوجوان کو بہت بھر پور اور مئو ثر طریقے سے مذہب سے دور کرنے کے لیے ہر چیز عقل کے معیار پر پرکھنے کی اسے تشویش دلائی جا رہی ہے ۔ لبرلز نے اپنے ایجنڈے کے مئوثر نفاذ کے لیے سوشل میڈیا اور تمام ذرائع ابلاغ سے بھر پور سوئے استفادہ کیا ہے۔ لبرلزم کی نشر و اشاعت آج کے استعمار کا اصل اور مرکزی ہدف ہے ۔ اس کو وہ تمام ذرائع سےاسلامی دنیاپر نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ایک نہایت ہی مضبوط حکمت عملی کے تحت استعمار نے مسلمانوں کی نظریاتی اساس کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً
1۔ اسلام نے ایک مسلمان کے لیے مادی اور روحانی دنیا کا تصور دیا ہے۔ جبکہ لبرلز نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلمان بچوں کو یوں گمراہ کرنے کی کوشش ہے کہ مادی دنیا ہی اصلِ کائنات ہے اور اسی پر ایک نوجوان کو توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اسلام نے مادی دنیا کے حصول کے لیے جو پابندیاںعائد کی ہیں وہ عبث اور انسانی ترقی اور عروج کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس لیے ایک نوجوان کی زندگی کسی دین یا کسی اخلاقی قدر کی پابند نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ کسی دینی یا اخلاقی قدر کی پابندی کرے گا تو اسکی ترقی رک جائے گی۔ اس دنیاوی اور مادی ترقی کے لیے اسے اپنی دینی اقدار سے دستبردار ہونا ہو گا۔
لبرلز کے اس فلسفہ کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چونکہ دینی اقدار بہت پرانی ہیں اور اب یہ فرسودہ ہو چکی ہیں ، آج کی جدید دنیا سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے اس لیے جب تک ایک نوجوان ان کو چھوڑ نہیں دیتا اس وقت تک وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
2۔ جب میں طالب علمی کے زمانہ میں تھاتو ہمارے اساتذہ اکثر یہ عربی جملہ بولتے تھے ” کل جدید لذیذ ” کہ ہر جدید چیز لذیذ ہوتی ہے۔ اسکی طالب علمی زمانہ میں تو اتنی گہری تفہیم نہیں ہو سکی تھی لیکن آج کی دنیا میں لبرلز کے ایجنڈے میں اسے دیکھ کر اندازہ ہوا ہے کہ ہر جدید چیز میں کتنی کشش ہوتی ہے۔ لبرلز نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اس تصور سے بھی بہت سوئے استفادہ کیا ہے کہ ” ہر جدید چیز میں خیر ہی خیر ہے اور ہر پرانی چیز میں شر ہی شر ہے ” آج کے عالمی استعمار نے اسلامی دنیا کو روحانیت سے بیگانہ کرنے کے لیے اس زہر میں بجھے تیر کو تہذیب اسلامی کے سینے میں پیوست کرنے کی بہت ہی کامیات شعوری کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ اس تصور نے اسلامی دنیا کے ان روحانی مراکز کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہے جنہوں نے مادی دنیا کی یلغار کا مقابلہ کرنا تھا ۔ اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمار نے پوری اسلامی دنیا میں حدیدیت کے فلسفہ کو پھیلانے کے لیے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پاکستان میں جنرل مشرف کے آمرانہ دور میں مدارس ، مساجد ، خانقاہوں اور علم و آگہی کے ہر ادارے میں روشن خیالی(Enlightened Moderation)کے تصور کو اجاگر کرنے کی لیے بہت بڑی سرمایہ کاری ہوئی ۔ مدارس کے پانچوں بورڈرز کو اربوں روپے اس کے مقصد کے حصول کے لیے دیے گئے ۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ استعمار کا یہ حملہ صرف یکجہتی نہیں ہے بلکہ یہ ہمہ جہتی ہے اس نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ تمہارے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف مادی جدو جہد میں ہے اور اس جدو جہد کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے تمہارے راستے کی بڑی روکاوٹیں تمہارا دین اور اسکی اقدار، تمہاری زبان ، تمہاری روایات اور تمہاری تاریخ ہے ۔ تم اس وقت تک کامیاب زندگی حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم اپنی زبان کو چھوڑ کر انگریزی کو نہیں اپناتے اور جب تک تم مذہبی روایات سے جان نہیں چھڑالیتے۔ جب تک تمہاری زندگی کے طور طریقے مشرقی اور اسلامی رہیں گے اور تمہاری زبان اردو رہے گی تم منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکو گے۔ استعمار اسی فلسفہ کو دنیا کے ہر کونے میں لیکر گیا اور اس نے اس کے ذریعہ سے مقامی تہذیبوںکو شکست دی۔ اگر اسلامی تہذیب کی بنیادیں گہری نہ ہوتیں اور صدیوں سے انسان نے اس سے کامل استفادہ نہ کیا ہوتا تو شاید خاکم بدہن اسلامی تہذیب بھی استعمار کے اس حملہ میں بری طرح شکست کھا چکی ہوتی۔چونکہ اسلامی تہذیب کا ہر شعبہ اصل حقائق اور انسانی فلاح کے عظیم مشن پر استوار ہے اس لیے اس نے استعمار کے اس حملہ کا اپنی مضبوط بنیادوں کی وجہ سے مقابلہ کیا ہے۔
میں کل گزشتہ (6اکتوبر2021)پشاور یونیورسٹی میں “یوم حسین”کے عنوان سے بحیثیت مہمان خصوصی مدعو تھا ۔ میں نے اپنی گفتگو میں اساتذہ اور طلباء کی توجہ اس اہم نقطہ کی طرف دلائی کہ جس طرح یزید نے اپنی بادشاہت اور نظم مملکت کو حلال و حرام، جائز اور ناجائزکے تصورات اور پابندیوں سے ماوراء ہو کر چلانے کی کوشش کی بالکل اسی طرح آج کا یزید جو استعمار کی شکل میں ہے وہ بھی ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں ان تصورات کی پابندی کے بغیر گزاریں۔ میں نے اساتذہ سے گزارش کی ہے کہ آپ تعلیمی اداروں میں استعمار کے پھیلائے ہوئے اس جال کو تار تار کرنے میں ہر آول دستے کا کردار ادا کریں۔ خود اسلامی فکر کو اپنائیں اور اپنے طلبہ میں بھی اس فکر کو پروان چڑھائیں۔ علمی اور عظیم اخلاقی روایات کا احیاء کریں ۔ طلبہ کے اذہان کو بے خدا اور لادین زندگی کی طرف موڑا جا رہا ہے آپ اس سوچ کو روکنے کے لیے اس کے آگے پل باندھیں۔ آپ اپنے طلباء کی اس نہج پر تربیت کریں کہ وہ عقل کو ہی سب کچھ نہ سمجھیں بلکہ عقل کو وحی کے تابع سمجھ کر اسے حصول علم و آگہی کا محض ایک ذریعہ سمجھیں ۔ آپ استعماری تہذیب کا جرآت اور دانش مندی کے ساتھ مقابلہ کرنے کا عزم پیدا کریں اور اسی فکر کو اپنے طلباء میں منتقل کریں۔ پاکستان کو اپنے قیام کے مقاصد کے نزدیک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒاسلامی قوانین کے نفاذ کی پاکستان کو جیسی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے اسی فکر کی جانب عملی قدم بڑھائیں۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ یہ ملک اسلام کا ہے اور اسے ہم واقعی اسلام کا ناقابل شکست قلعہ بنائیں گے۔ انشاء اللہ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں