63

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟
اہور ہائیکورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے الیکشن کے حوالے سے دوبارہ گنتی کروانے کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ دوبارہ گنتی میں منحرف ارکان کے ووٹوں کو شمار نہ کیا جائے۔
عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ گورنر پنجاب ووٹوں کی گنتی کے لیے یکم جولائی کو چار بجے سے پہلے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلائیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا عمل مکمل ہونے تک اجلاس ملتوی نہ کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ نے اکثریتی فیصلہ سنایا جبکہ بینچ کے ایک رکن جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اپنے ساتھی ججز سے اختلاف کرتے ہوئے سابق چیف منسٹر عثمان بزدار کو بحال کرنے کا حکم دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نئے انتخاب کا حکم نہیں دیا جا سکتا. ایسا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پریزائیڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے اور عدالت پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے کچھ پہلوؤں پر ’وضاحت‘ کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کیے جانے کے صورت میں دوبارہ گنتی میں حمزہ شہباز اور ان کے مدِمقابل پرویز الٰہی دونوں کے لیے 186 ووٹوں کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ تاہم ری پولنگ میں 186 ووٹ حاصل کرنے کی شرط ختم ہو جائے گی اور ایوان میں عددی تعداد جس کے پاس زیادہ ہو گی وہی وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکے گا.
اس تناظر میں فل بینچ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جیسے ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہو تو مطلوبہ تعداد نہ ملنے کی صورت میں وزیراعلیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے اور وزیراعلیٰ کے ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو جس میں زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار ہی وزارت اعلیٰ کا حقدار ہو گا.
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی تک حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ رہیں گے اور اگر وہ اکثریت نہ حاصل کر سکے تو وہ وزیر اعلی نہیں رہیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ گورنر پنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سے دو جولائی 2022 کو گیارہ بجے تک حلف لیں گے.
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے کنڈکٹ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیں گے۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 5 کا حوالہ دیا اور باور کرایا کہ گورنر آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اپنے فرائض ادا کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں بدنظمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اگر جمعے کو اجلاس میں ہنگامہ آرائی یا بدنظمی ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
’انتخاب ’غیر آئینی‘ تھا تو حمزہ وزیرِ اعلیٰ کیسے ہیں؟‘
بعد ازاں سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس انتخاب کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب کو پتا تھا کہ حمزہ شہباز شریف کا انتخاب ’غیر آئینی‘ تھا، آج جو فیصلہ ہوا ہے اس سے ثابت ہوا ہے کہ یہ انتخاب ’غیر آئینی‘ تھا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں اس فیصلے میں موجود کئی چیزوں پر وضاحت کی ضرورت ہے اور اگر یہ وضاحتیں نہ آئیں تو پاکستان میں موجود سیاسی بحران بڑھتا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ اگر انتخاب ’غیر آئینی‘ تھا تو پھر حمزہ شہباز شریف آج بھی وزیرِ اعلیٰ کیسے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی وضاحت کے لیے جمعے کو سپریم کورٹ جائیں گے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے وزیرِ اعلیٰ ہوتے ہوئے پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کا دوبارہ انتخاب شفاف کیسے ہو سکتا ہے؟
عدالت نے انتخاب کو کالعدم قرار نہیں دیا: عطا تارڑ
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے کہا کہ عدالت نے نہ انتخاب کو کالعدم قرار دیا اور نہ ہی تازہ انتخاب کروانے کی ہدایت کی ہے، بلکہ صرف 25 ووٹوں کو منہا کر کے دوبارہ گنتی کروانے کا کہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ آئین کے تحت وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب میں پہلی گنتی میں اگر 186 ووٹ حاصل نہ ہوں تو اگلا انتخاب فی الفور ہو گا، جس میں ہاؤس کے اندر موجود ارکان کی اکثریت پر فیصلہ ہو گا۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ نئی گنتی پچھلے انتخاب کا تسلسل ہے اور تب تک حمزہ شہباز ہی وزیرِ اعلیٰ پنجاب رہیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ رن آف انتخاب ہے، اس لیے حمزہ شہباز شریف نہ صرف وزیرِ اعلیٰ رہیں گے بلکہ اُن کے اب تک بطور وزیرِ اعلیٰ کیے گئے تمام اقدامات کو تحفظ حاصل ہے۔
پنجاب اسمبلی میں کس کے پاس کتنے ارکان ہیں؟
پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 ارکان پر مشتمل ہے جس میں مسلم لیگ نون کے ارکان کی تعداد 166، تحریک انصاف 157، مسلم لیگ قاف 10، پیپلز پارٹی کے سات اور چار آزاد امیدوار ہیں.
اس کے علاوہ پنجاب میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور چودھری نثار علی خان کی اب تک کسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں ہے.
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 173 بنتی ہے اور اگر آّزاد ارکان ان کا ساتھ دیتے ہیں تو یہ تعداد 177 ہو گی.
دوسری جانب تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کے اکٹھے ہونے سے ان کی تعداد 167 ہے. اگر چار آزاد ارکان اور چودھری نثار علی خان کے ساتھ دینے کی صورت میں یہ تعداد 172 پر پہنچ جائے گی۔
پنجاب اسمبلی میں 25 نشستیں تحریک انصاف کے منحرف ارکانِ اسمبلی کے ڈی سیٹ ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں جبکہ اس وقت سابق حکمران اتحاد کے کچھ ارکان حج کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں ابہام ہے۔
تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر عددی اعتبار سے دیکھا جائے تو حمزہ شہباز کو اپنے مخالف پر سبقت حاصل ہے اور سابق حکمران اتحاد کے ارکان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے دوبارہ منتخب ہونے کے امکان زیادہ روشن ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں