mazhar-barlas 61

لاہور پولیس اور مجلس ترقی ادب. مظہر برلاس

54 / 100

لاہوریوں کو تین بیماریاں لاحق ہیں۔ جب آپ لاہور آئیں تو ان کی پہلی بیماری کا اندازہ فوری طور پر ہو جائے گا، آپ کو ایسے لگے گا جیسے آپ لکھنؤ میں آگئے ہوں۔ پنجاب کے دارالحکومت میں آپ کو پنجابی زبان نہیں ملے گی، لاہوریوں کو گلابی اردو بولنے کا شوق ہے، وہ پنجابی بولنے والوں کو جاہل اور گنوار سمجھتے ہیں۔ خود پنجابی نہیں بولتے اور اردو بولنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ میں نے متعدد مرتبہ لاہوریوں کو تلخ لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آپ لوگ پنجاب کے دارالحکومت کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں، لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے اُتر پردیش کا نہیں۔ پنجابی زبان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم لاہور کے پنجابیوں نے کیا، اس میں مردوں سے زیادہ خواتین قصور وار ہیں جو بچوں کو سب زبانیں سکھاتی ہیں مگر اپنی زبان پنجابی نہیں سکھاتیں۔

لاہوریوں کی دوسری بیماری یہ ہے کہ وہ پنجاب کے دیہات، چھوٹے قصبوں یا پسماندہ علاقوں سے آنے والے سادہ لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں سادہ نہیں بےوقوف سمجھتے ہیں، یہی لاہوریوں کی بڑی حماقت ہے وہ خود کو بڑا چالاک سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی نالائقیاں ان کے لہجوں سے بول رہی ہوتی ہیں۔ اسی لئے لاہو ایک اسٹیج بن کے رہ گیا ہے، لاہوریے کسی شعبے میں آگے نہیں بڑھ رہے، پنجاب کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد اپنے اپنے شعبے میں نام کماتے ہیں، ناموری حاصل کرتے ہیں۔ نہ علامہ اقبال لاہور کا تھا نہ فیض احمد فیضؔ، نہ پطرس بخاری کا تعلق لاہور سے تھا اور نہ ہی احمد ندیم قاسمی کا، زندگی کے ہر شعبے میں ایسی بےشمار مثالیں آپ کو ملیں گی کہ نامور شخصیات صرف لاہور منتقل ہوئیں، ان کا بنیادی تعلق کسی اور قصبے، دیہات یا چھوٹے شہر سے تھا۔

تیسری بیماری اور بھی خطرناک ہے، وہ پہلے پہل تو باہر سے آنے والوں کو برداشت نہیں کرتے، اگر کوئی آ ہی جائے تو پھر اس بات کو ہضم کرنا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے، ہاضمے کی اس خراب صورتحال میں ان کا کام سازشیں کرنا رہ جاتا ہے۔ بس پھر وہ سازشیں کرتے ہیں، یہ لوگ پنجاب کی ثقافت کے بھی دشمن ہیں انہیں کوئی بندہ دھوتی کرتا، تہبند یا لاچا پہنا ہوا نظر آ جائے تو یہ اسے عجیب و غریب نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، اگر اس کے پائوں میں کھسّہ ہو یا اس کے سر پر پگڑی ہو تو یہ اسے کسی پسماندہ دیہات کا رہنے والا تصور کر کے اسے پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ پنجابی زبان اور پنجابی ثقافت سے نفرت کا یہ عالم ہے تو سرائیکی زبان و ثقافت کے ساتھ نفرت کے علاوہ دشمنی اور توہین آمیزی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب سے انہیں خاص دشمنی ہے، وہ اس پس ماندہ علاقے کے کسی فرد کو برداشت نہیں کرتے، اس کا رستہ روکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

مجھے یہ باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ دو روز پہلے کوئٹہ سے عائشہ نامی ایک خاتون نے جب وزیراعظم عمران خان سے بات کی، اپنے حالات بتائے تو قوم کی اکثریت کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس خاتون نے اپنے مکان پر قبضے، پھر خالی کروانے اور ماں کے کینسر کا تذکرہ کر دیا۔ لوگ رو رہے تھے کہ ہمارے حالات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ اس خاتون نے سابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا ذکر بھی کیا، جنہوں نے اس خاتون کا مکان خالی کروا کے دیا تھا۔ عمر شیخ چند مہینے لاہور رہا، اس نے بہت سے لوگوں کو قبضہ مافیا سے نجات دلائی، اس نے جرائم پیشہ پولیس والوں کو بھی ہتھکڑیاں لگوائیں، اہل لاہور بہت خوش تھے پھر قبضہ مافیا متحرک ہوا، وزیراعلیٰ ہائوس سے ایک خاص افسر کی خدمات حاصل کی گئیں، فرمائش پوری ہونے پر انہوں نے عمر شیخ کو ہٹا دیا۔ عمر شیخ ہٹ گیا مگر اس نے لاہور پولیس کو بدل دیا تھا، اس نے چند مہینوں میں سینکڑوں گھر قبضہ مافیا سے لے کر اصل مالکان کے حوالے کئے۔ اس نے اپنا فرض نبھایا، اس لئے دعا کرنے والے ہاتھوں میں اضافہ کیا۔ عمر شیخ کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ خان پور ضلع رحیم یار خان کا رہنے والا تھا، اس کی خطا یہی تھی کہ وہ جنوبی پنجاب سے تھا، اس نے قبضہ مافیا کی نیندیں حرام کر دی تھیں، وہ حکمت کار بھی تھا، اس نے اپوزیشن کے جلسے ناکام بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا، یہ کیسا افسر تھا کہ جس دن اسے ہٹایا گیا لاہور کی پولیس نے مٹھائیاں بانٹیں۔

دوسرے سرائیکی کا حال بھی سن لیجئے۔ کچھ عرصہ پہلے حکومتِ پنجاب نے نامور شاعر اور کالم نگار محمد منصور آفاق کو مجلس ترقی ٔ ادب کا سربراہ بنایا۔ چونکہ منصور آفاق لاہوری نہیں ہے لہٰذا تمام تلواریں نکل آئیں۔ پہلے اس کے خلاف مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی گئی۔ صفِ دشمناں کو خبر ہوئی کہ پورے برصغیر میں عشقِ نبیؐ کے حوالے سے جو نعرہ سب سے زیادہ مقبول ہے وہ تو منصور آفاق کے بھائی اشفاق چغتائی کا ہے۔ اس مذہبی کارڈ کی ناکامی کے بعد لکھنے والوں اور بولنے والوں کو چپ نہ لگی، انہوں نے منصور آفاق کے خلاف محاذ گرم رکھا، مولوی صاحب کی حمایت میں منصور آفاق کے کئی نام نہاد دوست بھی سامنے آ گئے، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ نامی گرامی شعراء سے منصور آفاق کہیں اعلیٰ شاعر ہے مگر کینہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ مولوی صاحب کی ’’دیانتداری‘‘ پر پانچ مقدمے قائم ہو رہے ہیں۔ منصور آفاق کو ڈٹ جانا چاہئے۔ اصغر ندیم سید، محسن نقوی، ڈاکٹر طاہر تونسوی، اسلم انصاری، شاکر شجاع آبادی اور ڈاکٹر خالد سنجرانی سمیت کئی نامور شاعر اور ادیب اس لئے بڑی سرکاری حیثیت حاصل نہ کر سکے کہ وہ سب جنوبی پنجاب سے تھے۔ جنوبی پنجاب کا تو وزیراعلیٰ بھی قبول نہیں۔ بقول منصور آفاق ؎

کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا

نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں