mazhar-barlas 57

لاہور پولیس، فیصل چوہدری اور کرتار پور. مظہربرلاس

پنجاب اور وفاق میں ہونے والے واقعات میرے علم میں زیادہ آ جاتے ہیں ۔شاید اس کی بڑی وجہ وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ ہے ۔ یقیناً باقی علاقوں میں بھی واقعات رونما ہوتے ہوں گے کہیں میڈیا کی آنکھ سے اوجھل رہ جاتے ہوں گے تو کہیں طاقتور لوگ اپنی کاری گری دکھاتے ہوں گے ۔واقعات کے پس منظر میں شہروں اور علاقوں کے مزاج کا بڑا دخل ہے۔ پنجاب کے دو تین اضلاع غنڈہ گردی کے حوالے سے مشہور ہیں، اتنے ہی اضلاع چوری چکاری میں مشہور ہیں ۔کہیں غربت کی کارستانی جاگتی ہے تو کہیں طاقت کا نشہ بولتا ہے ۔پنجاب کے بڑے شہروں میں قبضہ مافیا سرگرم ہے، اب ان شہروں میں اسٹریٹ کرائمز بھی عام ہو چکے ہیں، یہ وبا کراچی سے آئی ہے مگر اس سب کے باوجود کچھ بڑے شہر ایسے ہیں جہاں سکون ہے۔ مثلاً ملتان میں وہ کچھ نہیں ہوتا جو دوسرے شہروں میں ہو رہا ہے۔ملتان آج بھی راحت کا دوسرا نام ہے، ملتان کی خاص روایات اور اخلاقی اقدار ہیں، ملتان میں لوگ آج بھی چین کی نیند سوتے ہیں، اس شہر میں عجیب ٹھہرائو اور سکون رکھ دیا گیا ہے، یہاں کی سادگی میں حسن ہے اور ملتان کا حسن بولتا ہے، یہاں کا فرحت بخش ماحول دیر تک اثرات قائم رکھتا ہے۔لاہور کالجوں کے شہر کے طور پر مشہور تھااور اُسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے مگر اس سال اگست میں دل رنجیدہ ہوا، یہاں کچھ ایسے واقعات ہوئے جو لوگوں کو اداس کر گئے ۔یہ افسردگی لاہور کے سی سی پی او پر بھی طاری ہوئی۔غلام محمود ڈوگر دو چار منٹ تک سر پکڑ کر بیٹھ گئے پھر سر اٹھایا اور خودکلامی کی ’’ہار نہیں مانوں گا‘‘ بس پھر خواتین کو ہراساں کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں، ہر طرف چھاپے پڑنے لگے، کئی شریف زادوں کے چہرے بے نقاب ہوئے ۔

پولیس کی کوشش ہے کہ ان شریف زادوں کو دس بیس سال نذرِ زنداں کر دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو۔ڈوگر بنیادی طور پر ترکمانستان کے ہیں، ترک خون نے گردش کی تو غلام محمود ڈوگر نے اگلی حکمت عملی ترتیب دی۔خواتین پر تشدد اور جنسی ہراسانی کے خلاف بھرپور آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا، لوگوں کو معاشرے کی اعلیٰ اقدار یاد کروانے کے لئے مہم چلائی۔ہمارے لوگ چونکہ شاندار روایات کو فراموش کرتے جا رہے ہیں، انہیں یاد کروایا گیا کہ تاجدارِ دو جہاں حضرت محمدؐ نے خطبۂ حجتہ الوداع میں فرمایا تھا ’’ اے لوگو ! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرو‘‘معاشرے میں عورت کے احترام کا شعور بیدار کرنے کے علاوہ خواتین کے لئے ایک ہیلپ لائن 1242قائم کی گئی ہے ۔ سوشل میڈیا کے تقاضوں کے تحت ’’ویمن سیفٹی ایپ ‘‘ بھی بنائی گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ’’اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل‘‘ قائم ہو چکا ہے۔ اس نیک مقصد کے لئے لاہور میں بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے، اللّٰہ کرے پولیس کی نئی حکمت عملی کامیاب ہو اور آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں جن کے سبب سر شرم سے جھک جائیں۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کے علاوہ سیاسی لوگ کہا کرتے تھے کہ نیب کی پراسیکیوشن بڑی کمزور ہے ۔ نیب نے اس کمزوری پر قابو پانے کے لئے نامور وکیل فیصل چوہدری کوا سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا ہے۔ فیصل چوہدری اس سے پہلے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رہ چکے ہیں ، ان کا شمار ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے قابل اور ذہین ترین وکلاء میں ہوتا ہے۔فیصل چوہدری پر اپوزیشن رہنمائوں نے تنقید شروع کر دی ہے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’فیصل چوہدری کو چیئرمین نیب بنا کر سارا معاملہ ہی ختم کر دیں‘‘ تنقید اپنی جگہ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فیصل چوہدری نے کئی تاریخی سیاسی مقدمات لڑے ہیں ۔ ان کے حصے میں آنے والے مقدموں میں پرویز مشرف کیس، گیلانی خاندان کے مقدمات اور مشہورِ زمانہ پانامہ کیس بھی شامل ہے ۔فیصل چوہدری کا ایک ہی قصور ہے کہ وہ اطلاعات کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی ہیں ۔شاہد خاقان عباسی کو تنقید کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کہ ان کی پارٹی کے بعض اراکین قومی اسمبلی کے بھائی، چچا، کزن یا دوسرے رشتے دار ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز رہے ہیں۔کسی کا بھائی ہونا جرم نہیں، ہاں البتہ نالائق ہونا جرم ہے مگر یہاں تو ذہین لوگوں کا راستہ بھی روک دیا جاتا ہے۔ایک پرانا واقعہ یاد آگیا، یہ واقعہ بھی چوہدری فیصل فرید کے خاندان ہی کا ہے ۔ ساٹھ کی دہائی میں ان کا خاندان آمر ایوب خان کے مقابلے میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو سپورٹ کر رہا تھا، پنجاب کےسابق گورنر چوہدری الطاف حسین مادرِ ملت کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ اس کا خمیازہ ان کے بھائی چودھری افتخار حسین کو بھگتنا پڑا ۔انہیں مقابلے کے امتحان میں ناکام کر دیا گیا، وہ بہت دکھی ہوئے اور کہنے لگے ’’آپ لوگوں کی سیاست کی وجہ سے میں سول سروس میں نہیں جا سکا ‘‘۔ مدتوں بعد جب وہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے تو کہنے لگے ’’خدا جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے ‘‘۔ شاہد خاقان عباسی کو فیصل چوہدری پر تنقید سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کہ ان کی پارٹی کے کتنے ہی لوگ ہیں جن کے اجداد نے محترمہ فاطمہ جناح کی مخالفت کی تھی ویسے فیصل چوہدری نہ تو نیب بلڈنگ میں بیٹھیں گے، نہ ہی نیب آفس استعمال کریں گے بلکہ اپنی پرائیویٹ پریکٹس بھی جاری رکھیں گے ۔

سید عارف نوناری اور نسیم درمانوی نے ضلع نارووال کی تاریخ، سیاست، شخصیات اور تاریخ مقامات پر ایک شاندار کتاب ’’گورداس پور سے کرتار پور تک ‘‘ مرتب کی ہے ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی اعلیٰ کتاب نارووال پر نہیں لکھی گئی ۔یہ کتاب اس مردم خیز خطے کی گواہی دے رہی ہے۔ اسی خطے کی ایک شاعرہ ثوبیہ خان نیازی کے بقول

اسے کہو کبھی آئے دل کی دھرتی پہ

اسے کہو کہ یہی اس کا آستانہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں