49

لانگ مارچ کی تاریخ چند دن بعد دوں گا: عمران خان

لانگ مارچ کی تاریخ چند دن بعد دوں گا: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں چند روز بعد لانگ مارچ کی تاریخ دے رہا ہوں، سپریم کورٹ سے جیسے ہی فیصلہ آئے گا میں لانگ مارچ کی تاریخ دوں گا۔‘
بدھ کو پی ٹی آئی ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا یہ اس ملک کاسب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا۔
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہےہیں، موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’امریکہ کی اجازت کے بغیر یہ کوئی کام نہیں کریں گے۔ ان کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں، یہ ان کے خلاف کبھی سٹینڈ نہیں لیں گے۔‘
عمران خان کہا کہ ان کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ کرپشن کیسز ختم کرنا تھا، ان کو اپنے عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔
ان کے مطابق موجودہ حمکران اب وہ کریں گے جو آئی ایم ایف کہے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن میں عمران خان بلامقابلہ پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین اور اسد عمر مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ہے۔
ان کے مطابق موجودہ حکومت نیب میں اپنا آدمی رکھ کر اس سے اپنے کیسز ختم کرائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ادارے موجودہ حکمران خاندانوں سے پہلے ہی ڈرتے تھے اور اب یہ آکر اپنے کیسز ختم کرا رہے ہیں۔
عمران خان کے مطابق موجودہ حکومت کرپٹ سسٹم کو آگے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے دو بڑے مسئلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ سب کے لیے دو بہت بڑے مسئلے بنے ہوئے ہیں، بجلی اور پانی۔ کسانوں کے لیے پانی نہیں ہے کہ وہ کاشتکاری کر سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پانی کی اسی قلت کو دیکھتے ہوئے ہم نے 10 ڈیمز کے منصوبے شروع کیے تھے۔‘
مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ساڑھے تین سال میں 55 روپے پیٹرول مہنگا کیا اور ڈیزل 50 روپے مہنگا کیا جبکہ موجودہ حکومت نے 10 دنوں میں 60 روپے پیٹرول مہگا کیا، 45 فیصد گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا اور بجلی 10 روپے فی یونٹ مہنگی کر دی۔ یہ مہنگائی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اصل مقصد مہنگائی نہیں تھا جیسا کہ اس وقت کی اپوزیشن نے شور مچایا ہوا تھا۔
’ان کا مقصد کرپشن کے کیسز ختم کرانا تھا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں