33

قومی سلامتی کمیٹی کے عسکری ارکان عمران خان کے بیان کی وضاحت اور اپنی پوزیشن واضح کریں، متحدہ اپوزیشن

اسلام آباد(نمائندہ نیوز ) متحدہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے عسکری ارکان عمران خان کے بیان کی وضاحت اور اپنی پوزیشن واضح کریں،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہےکہ معاملہ تحریک عدم اعتماد تک نہیں رہا اب ملکی سلامتی کا ہے، تاخیرنقصان دہ ہوگی،پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اداروں کوسوچنا ہوگا پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کے الزام میں دھکیلنے کے کیا نتائج ہونگے ،پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہاکہ ترجمان پاک فوج وضاحت کریں کیا کمیٹی نے 197ارکان کو بیرونی سازش کاحصہ قراردیا ؟ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے کہاکہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی و آئین شکنی کی۔گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نےایک بیان میں کہا ہےکہ عمران خان ایک خط کے پیچھے چھپنے کی ‎کوشش کررہا ہے،اس خط کے بارے میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے تاہم عمران خان ہر دن سکیورٹی کونسل کے عسکری ارکان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ میری طرف سے مطمئن ہوگئے تھے ‎لہٰذا جو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سکیورٹی کے عسکری ارکان تھے وہ اس کی وضاحت کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں، اب یہ معاملہ عمران خان یا متحدہ اپوزیشن تک نہیں رہا اب یہ معاملہ پاکستان کا ہے لہٰذا اس طرح کے حساس نوعیت کے معاملات میں تاخیر ملک کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہاکہ سیکورٹی اداروں کو اپنی پوزیشن فوری طور پرواضح کرنےکی ضرورت ہے،سیکورٹی اداروں کوسوچنا ہوگا کہ پاکستان کی وفادار قیادت پر اس قسم کے الزامات اور انہیں غداری میں دھکیلنے کے نتائج کیا ہونگے اور ملک کس طرف جائےگا،ہم چاہتےہیں سیکورٹی ادارےعوامی بحث سےباہر نکلیں، اگر وہ خود بحث میں اترتےہیں تو اپنےگریبان میں جھانک کردیکھیں وہ ہم سے کیا گلہ کریں گے،فضل الرحمان نے کہاکہ خط غلط انداز سے پیش کیا گیا، سیکورٹی کمیٹی کے راز کو افشا کرنا حلف سے غداری ہے،عمران خان اس ملک کے قانونی وزیراعظم نہیں رہے، آئین کا تقاضہ ہےکہ سیکورٹی ادارے عمران خان کو وزیراعظم کے طور پر ڈیل نہ کریں،سپریم کورٹ ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا کر بریفنگ لے ، حقیقت کیا ہے، عدالت سے التجا ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد قرار دیا جائے، ارکان قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حق دیا جائے،یہ کھیل ناقابل برداشت ہے اس کھیل کو نہیں چلنے دیں گے،شفاف الیکشن کی ضمانت کیلئے اصلاحات کروائی جائیں،اس ڈرامےکاڈراپ سین فوراًہوجانا چاہیے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغامات میں ترجمان پاک فوج سے سلامتی کمیٹی کےاجلاس پروضاحت طلب کرتے ہوئے کہاکہ ترجمان پاک فوج وضاحت کریں کہ کیا کمیٹی نے 197ممبرز کو بیرونی سازش کا حصہ قرار دیا ؟عمران خان بغاوت کوجواز دینے کیلئےبیرونی سازش کا واویلا کررہے ہیں ، کیا 7 سے 27مارچ بیرونی سازش پر سرکاری مراسلات کو سامنے لاسکتے ہیں، یقیناًایسی سازش سفارتی مراسلے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کےذریعے بے نقاب ہونے چاہئیں، عمران خان کی انا پاکستان سے زیادہ اہم نہیں ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ ضیاء اور مشرف کا مارشل لاء نہیں روک سکی، عدلیہ سے امید اور درخواست ہے کہ عمران خان کے مارشل لا کو روکے۔صدر ن لیگ شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کل کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب عمران نیازی نے سویلین مارشل لا نافذ کیا، عمران خان اور اس کے حواریوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی کی ہے، 3 نومبر 2007 کو جنرل مشرف نے بھی یہ ہی حرکت کی تھی، ہم تو آئین پر عمل کررہے ہیں اور آئین کے تحفظ کی جنگ لڑرہے ہیں، عدالت کا فیصلہ آنے دیں پھر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، ہم عمران خان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔خالد مقبول صدیقی نےکہاکہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی شکست سے بچنے کیلئے سیاسی خودکشی کرلی،پہلے ثابت تو کریں کہ سازش ہوئی ہے۔اختر مینگل نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں یہ پہلادن نہیں تھا مگر بدقسمتی سے آج تک آئین شکنوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ مغرب مخالف اور امریکا مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم قطعاًپاکستان پر بیرونی دبائو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہاکہ عمران اپنے لئے جو بیانیہ بنانے کی کوشش کررہا ہے اس کی بنیاد ایک خط ہے،وہ کہتا ہے کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے،اس خط اور دھمکی کی سچائی سامنے آنی چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں