19

قومی سلامتی پالیسی، ہر سال نظرثانی ہوسکے گی، کشمیر اہم حصہ

اسلام آباد(ایجنسیاں)قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آگئے‘پالیسی معاشی، عسکری اور انسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پر مشتمل ‘ سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جاسکے گی۔

ذرائع کے مطابق کشمیر کو پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا ہے۔پالیسی کا پبلک ورژن 14 جنوری (جمعہ) کو جاری کیا جائے گا۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ منظور شدہ نیشنل سکیورٹی پالیسی قومی سلامتی کی ایک جامع تعریف پیش کرتی ہے جو شہریوں کیلئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے جس میں ریاست کے کمزور شہریوں کو بااختیار بنایا گیا ہے۔

یہ پالیسی نیشنل سکیورٹی کے مجموعی پہلوئوں پر مرکوز ہے اور وزیراعظم کی قیادت کے تحت یہ ضابطہ بندی کی گئی ہے اقتصادی تحفظ پالیسی کی بنیاد ہوگی، مضبوط معیشت فوج اور انسانی سکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔

قومی سلامتی ڈویژن نے گزشتہ سات سالوں کے دوران این ایس پی پر بڑے پیمانے پر کام کیا۔ پالیسی سازی صرف ایگزیکٹو کا اختیار ہے اور پارلیمنٹ کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے جبکہ این ایس پی کے معاملے میں قومی سلامتی کونسل پہلے کا فورم ہے۔

این ایس پی کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی حکومت کی یکے بعد دیگرے منتقلی کے بعد بھی اس عمل کو دہرایا جائے گا۔

سیکورٹی آفیشل نے بتایا کہ این ایس پی ایک امبریلا دستاویز ہے جو ملک کے مستقبل کی سمت کے بارے میں آگاہی دے گی چونکہ پالیسی کلاسیفائیڈ ہے اور پوری دستاویز کے صرف 150 صفحات پبلک کئے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خارجی اقدامات کے لئے پالیسی کا مقصد ’’امن‘‘ ہے اور پڑوسی اور دیگر تمام ممالک میں امن کی تلاش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں