Mufti gulzar Ahmed Naeemi 104

قومی املاک اور ہمارا رویہ. تحریرمفتی گلزاراحمد نعیمی

قومی املاک اور ہمارا رویہ
آج جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس میں حلال اور حرام کا تصور مٹتا جارہا ہے۔ہم کوئی بھی چیز استعمال کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ آیا یہ چیز میرے لیے جائز ہے کہ ناجائز۔ہم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی املاک کو ہتھیانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جبکہ قومی خزانہ اور قومی املاک کی لوٹ مار تو ہم مال غنیمت سمجھتے ہیں۔ہم دعویدار بنتے ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم،آپکی عترت اور آپ کے اصحاب کی محبت کےجبکہ کام چوروں اور ڈاکوؤں والےکرتے ہیں۔محبت کے دعوے تو پاکباز اور پاک طینت لوگوں کے ساتھ ہیں اور کھڑے ہم ڈاکوں اور لوٹیروں کے ساتھ ہیں۔
کیا ہم اس بات کا بخوبی علم نہیں رکھتے کہ اللہ کے رسول نے ہمیشہ لقمہ حلال ہی کھایا!!۔سیدہ فاطمہ علیھا السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کی زندگی فقر میں گزری ،خلیفہ ہونے کے باوجود کبھی اس مال کی طرف معمولی توجہ بھی نہیں فرمائی جو ان کا نہیں ہوتا تھا۔اسی طرح دیگر خلفائے راشدین نے بھی ہمیشہ رزق حلال کا ہی اہتمام فرمایا۔
رسول اللہ کے جلیل القدر صحابی سیدنا حضرت ابوذر غفاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب آپکا آخری وقت قریب آیا تو آپ زار و قطار رو رہے تھے۔کسی نے پوچھا یاحضرت۔۔۔!آپ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی معیت میں بہت سے غزوات میں حصہ لیا مگر آپکو یوں پریشان اور روتا ہوا کبھی نہ دیکھا گیا۔آپ نے فرمایا کہ میں موت کے خوف سے نہیں رو رہا بلکہ میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ قیامت کے دن اگر اللہ نے مجھے یہ پوچھ لیا کہ ابوذر یہ وضو کے لیے مٹی کا لوٹا اور نماز کے لیے جائے نماز کہاں سے لی تھی تو میرے لیے تو اسکا جواب دینا بھی مشکل ہوجائے گا۔میں اس باز پرس کے غم اور خوف کی وجہ سے رو رہا ہوں نہ کہ موت کے ڈر کی وجہ سے۔کیا لوگ تھے یہ!!!!
آج ہماری اور ہمارے سیاسی قائدین کی یہ حالت ہے کہ ہم صرف پیسہ چاہتے ہیں۔حلال کا ہو یا حرام کا ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔اگر ہمارے قائدین کو ذرا بھی خوف خدا ہوتا اور بروز حشر اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دینے کا خیال ہوتا تو وہ کبھی یوں لوٹ مار نہ کرتے۔جس طرح انہوں نے قومی خزانہ پر بہت ہی ٹیکنیکل طریقے سے نقب لگائی۔کوئی صاحب ایمان ایسا نہیں کر سکتا۔اگر ان کے اندر جواب دہی کا احساس ہوتا تو یہ ابوذر غفاری کی طرح پانی کے لوٹے اور جائے نماز کے بارے میں بھی فکر کر کے آنسو بہاتے۔لیکن انہوں نے لوٹ مار کی ہے اور اس پر بہت ہی ڈٹھائی سے آڑے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو بہت ایماندار دار اور بے قصور وبے خطا سمجھتے ہیں۔یہ لوگ موجود حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ اس کے دور میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں ایسا ہی ہے۔اس قضیہ میں جہاں موجودہ حکومت کی بے کار منصوبہ بندی شامل ہے وہاں اس سے کہیں بڑھ کر سابق حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار بھی ایک بڑی اور اہم وجہ ہے۔اگر سابق حکمران اپنے اثاثہ جات اور سرمایہ بیرون ملک شفٹ نہ کرتے تو اتنی مہنگائی کبھی نہ ہوتی۔
موجودہ حکومت میں بھی کچھ وزراء ہیں جن کے اثاثہ جات ملک سے باہر ہیں۔انہیں بھی واپس لانا چاہیے۔حکمران یاد رکھیں کہ کسی بھی لیڈر کی سب سے بڑی دولت اسکا عوامی اعتماد ہوتا ہے۔اگر وہ اٹھ جائے تو پھر اکاونٹ میں پڑے اربوں ڈالرز بھی کام کے نہیں رہتے۔اس عوام کی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے قائد اعظم محمد علی جناب اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو اس سے اور ملک سے وفادار ہوتا۔سب اپنی اپنی باریاں لگا کر چلتے بنیں اور جب گیے تو قومی خزانہ خالی کر کے گئے۔جن حکومتوں نے بڑے بڑے منصوبات جات شروع کیے انہوں ان منصوبوں سے خوب کمیشن کمایا۔کمیشن بھی ایسے ٹیکنکل طریقہ سے بٹورا کہ انکی اس کرپشن کے ملک کے کسی ادارے کے پاس کوئی بڑا ثبوت نہیں ہے۔
اگر کسی مسلمان کا دل نور ایمان سے منور نہ ہوتو جب اسے کوئی عہدہ ملتا ہے تو وہ اپنے عہدے کو ذاتی منفعت اور معاشی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔دور رواں میں ہمیں میدان سیاست میں جو لوگ نظر آرہے وہ ایمانی دولت سے بالکل محروم ہیں الا ماشاء اللہ۔
آئندہ آنے والی نسل بھی ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے کہ اس سے ایمانداری اور حب الوطنی کی توقع کرنا کار عبث ہے۔ایک مضبوط منصوبہ بندی کے تحت روایات اور تعیلمات اسلامی سے رشتہ کاٹا جارہا ہے۔یہ المیہ ہے کہ اس پر اہل وطن کا کوئی طبقہ سنجیدگی سے نہیں سوچ رہا۔سیاستدانوں کی آپس میں لڑائیاں مذہبی طبقہ کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں مستقبل کا ایک خوف ناک منظر پیش کررہی ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ۔لک اور اس قوم کی خیر فرمائے۔
طالب خیر وعافیت
جی۔ اے نعیمی۔
7

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں