50

قومی اسمبلی، عمران کے خلاف قرارداد مذمت، ادارے کیخلاف جو زہر اگلا وہ پاکستان کے خلاف سازش، زبان نہ روکی گئی تو ملک مزید تقسیم ہوجائے گا، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں،ٹی وی رپورٹ) قومی اسمبلی نے قومی سلامتی کے اداروں و قیادت کیخلاف بیانات پر مذمتی قرارداد متفقہ منظور کر لی۔ قرارداد پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کی تھی۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کہا کہ عمران خان نے کل ادارے کیخلاف جو زہر اگلا وہ پاکستان کیخلاف سازش ہے، سراج الدولہ اور میرجعفر کا نام لیکر جو مثال دی اس سے بری حرکت نہیں ہوسکتی، قوم تقسیم در تقسیم ہوچکی، زہر گھول دیا گیا انکی زبان نہ روکی تو ملک مزید تقسیم ہوجائے گا، ادارے نے لاڈلے کو بچے کی طرح دودھ پلایا، جتنی سپورٹ نیازی کو ملی ہمیں ملتی تو ملک بلندی پر پہنچ جاتا، میں نے کبھی زندگی میں ہار ماننا نہیں سیکھا، پاکستان کو امریکی دھمکی کی تاریخ تو بہت پرانی ہے،اس میں سازش کا عنصر کہاں سے نکلا؟جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان سیکورٹی رسک ہیں، کسی کے ایجنڈے پر ہیں، یہ جس راستے پر چل نکلے ہیںوہ ہمارے سیکورٹی اداروں اور نیوکلیر پروگرام کی تباہی ہے،عمران پاگل شخص جو ثابت اینٹیں اپنے گھر اور ٹوٹی ہوئی دوسروں کومارتا ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ گزشتہ حکومت میں ملک کے مجموعی قرضوں کی شرح میں 80 فیصد سے زائد کا اضافہ کرکے آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا گیا، دن رات چور اور ڈاکو کا راگ الاپ کر قوم کو تقسیم کیا گیا، اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا اور صورتحال بے قابو ہوگئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا، جن علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہے ہم اس کا نوٹس لیں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن نور عالم خان کی طرف سے صوبہ خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کی صورتحال کے حوالے سے نکتہ اعتراض پر وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یکم مئی کے بعد لوڈشیڈنگ میں واضح کمی واقع ہوئی ہے مگر فاضل رکن کی بات کو رد نہیں کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم نے ساڑھے تین ہفتہ پہلے اقتدار سنبھالا اور ایک جھرلو اور دھاندلی کی پیداوار حکومت سے آئینی طریقے سے جان چھڑائی۔ ماضی کی حکومت نے تیل اور گیس وقت پر نہیں خریدے، جب دنیا میں گیس 3 ڈالر فی یونٹ تھی اس وقت نہیں منگوائی گئی اور مہنگا تیل خریدا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سستی ترین گیس نہ خرید کر ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سال میں ایک مرتبہ بجلی کے پلانٹس کی مرمت ہوتی ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ان پلانٹس کی مرمت سردیوں میں کی جائے تاکہ عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر سابق حکومت نے اس فیصلے کی پروا نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گیس کے ٹینڈر بھی طلب کرلئے ہیں۔ ملک کو اس وقت ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کے تاریخ کے سب سے بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ 2018ء کے بعد پاکستان کے مجموعی قرضہ جات میں 80 سے 85 فیصد کا اضافہ کردیا گیا مگر ملک میں ایک نئی اینٹ تک نہیں رکھی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ سے آنے والی نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا گیا اور قوم کا وقت ضائع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے یہ کہا ہے کہ میں نے یہ خط لکھا کہ دھمکی آمیز الفاظ ضرور ہیں مگر سازش کا لفظ انہوں نے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی قوت کے حوالے سے کیا کہا وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے بھی دھمکیاں ملتی رہیں، دھمکیوں کی تاریخ تو بہت لمبی ہے، اس میں سازش کا عنصر کہاں سے نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک قائداعظم کی تحریک اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بلاخوف تردید کہنا چاہتا ہوں کہ اس مقتدر ادارے نے سابق حکومت کی بھرپور سپورٹ کی مگر اس کے باوجود یہ بری طرح ناکام ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے مقابلے میں کسی اور حکومت کو اس طرح کی سپورٹ حاصل ہوتی تو ملک کو ترقی کے پر لگ جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کے مقابلے میں کوئی اور نظام آگیا تو یہ خطرناک ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سازش کا نوٹس نہ لیا گیا اور صورتحال قابو سے باہر ہوگئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ خیبرپختونخوا اور ملک کے دور دراز علاقوں میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینگے۔قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف نامناسب زبان کے استعمال اور تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے حوالے سے مذمتی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے جلسوں میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ملک کی مسلح افواج کے حوالے سے ملک میں سازش کا تاثر دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے بلا خوف سرحدوں کی حفاظت کی۔ ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بے شمار خدمات پر یہ ایوان مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ قومی اداروں کے خلاف سیاسی مقاصد کیلئے الزام تراشی پاکستان کی خدمت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیراعظم نے عید سے پہلے اعلان کیا تھا کہ یکم مئی سے لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، وزیراعظم کے اس اعلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 12 سے 16 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ گھی، چینی اور آٹا کیوں مہنگا ہو رہا ہے۔ غریب آدمی یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ حکومت کو دلیرانہ فیصلے کرنے ہونگے۔ جن لوگوں نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے حکم عدولی کی ہے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم پر بیرونی سازش کا الزام لگایا جارہا ہے، امپورٹڈ حکومت کا الزام لگایا جا رہا ہے، وثوق سے کہتا ہوں یہ شخص ملک کی بقا کے ضامن اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 75سال بعد آئینی اداروں نے واضح الفاظ میں کہا آئین مقدس ڈاکیومنٹس ہے، 75سال میں تمام اداروں نے اپنی حدود سے تجاوزکیا، دکھ کی بات ہے جب ادارے تجاوز کریں تو کہتے ہیں سب ایک پیج پر ہیں، ان کی زبان نہیں تھکتی تھی، حقیقت یہ ہے یہ پیج آئینی پیج ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ذاتی مفاد کا نہیں ہونا چاہیے، ہم نے آئینی طریقے سے وزیراعظم کوڈی سیٹ کیا۔ عمران خان کا اتحادیوں کے ساتھ رویہ ہمارے لیے مددگار ثابت ہوا، عدم اعتماد کے دوران کسی کو کوئی ٹیلی فون نہیں آیا، عمران خان کی انا، رعونت، تکبرہمارے لیے مدد گارثابت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں