Seerat-ul-Nabi 77

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ قریش کی بدعہدی

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ قریش کی بدعہدی
بنی بکر نے ساتھ میں قریش سے بھی مدد مانگ لی، قریشی سرداروں نے ان کی درخواست قبول کرلی، ان کی مدد کے لیے آدمی بھی دیئے اور ہتھیار بھی، پھر یہ سب مل کر ایک رات اچانک بنی خزاعہ پر ٹوٹ پڑے، وہ لوگ اس وقت بے فکری سے سوئے ہوئے تھے، ان لوگوں نے بنی خزاعہ کو بے دردی سے قتل کرنا شروع کیا۔بنی خزاعہ کے بعض افراد جانیں بچانے کے لیے وہاں سے بھاگے اور ایک مکان میں گھس گئے… قریش نے انہیں وہاں بھی جاگھیرا اور پھر اس مکان میں گھس کر انہیں قتل کیا۔
اس طرح قریش نے بنی بکر کی مدد کے سلسلے میں اس صلح نامے کی دھجیاں اڑادیں …
جب یہ سب کر بیٹھے تو احساس ہوا کہ یہ ہم نے کیا کیا۔اب وہ جمع ہوکر اپنے سردار ابوسفیان کے پاس آئے، سارا واقع سن کر انہوں نے کہا:
“یہ ایسا واقعہ ہے کہ میں اگرچہ اس میں شریک نہیں ہوں ، لیکن بے تعلق بھی نہیں رہا اور یہ بہت برا ہوا۔اللّٰہ کی قسم! محمد( صلی الله علیہ وسلم )اب ہم سے جنگ ضرور کریں گے… اور میں تمہیں بتائے دیتا ہوں … میری بیوی ہندہ نے ایک بہت بھیانک خواب دیکھا ہے، اس نے دیکھا ہے کہ حجون کی طرف سے خون کا ایک دریا بہتا ہوا آیا اور خندمہ تک پہنچ گیا۔لوگ اس دریا کو دیکھ کر سخت پریشان اور بدحواس ہورہے ہیں ۔”
اس پر قریش نے ان سے کہا:
“جو ہونا تھا، وہ تو ہوچکا، اب آپ محمد( صلی الله علیہ وسلم )کے پاس جائیں اور ان سے نئے سرے سے معاہدہ کرے… آپ کے سوا یہ کام کوئی نہیں کرسکتا… ”
اس پر ابوسفیان اپنے ایک غلام کے ساتھ مدینہ منوره کی طرف روانہ ہوئے… اِدھر ان سے پہلے بنی خزاعہ کا ایک وفد آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور جو کچھ ہوا تھا، تفصیل سے بیان کردیا۔
حضور صلی الله علیہ وسلم اس وقت مسجد نبوی میں اپنے صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔بنی خزاعہ کی دردبھری روداد سن کر حضور صلی الله علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور ارشاد فرمایا:
“اگر میں بنی خزاعہ کی مدد انہی چیزوں سے نہ کروں ،جن سے میں اپنی مدد کرتا ہوں تو اللّٰہ تعالیٰ میری مدد نہ فرمائے۔”
اسی وقت آسمان پر ایک بدلی آکر تیرنے لگی، حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا:
“یہ بدلی بنی خزاعہ کی مدد کے لیے بلند ہوئی ہے۔”
اُمّ المومنین حضرت میمونہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم میرے پاس تھے،رات میں اٹھ کر انہوں نے نماز پڑھنے کے لیے وضو کیا، ایسی حالت میں ، میں نے انہیں لبیک لبیک لبیک فرماتے سنا… یعنی میں حاضر ہوں … میں حاضر ہوں … میں حاضر ہوں ، ساتھ میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
“میں مدد کروں گا، میں مدد کروں گا، میں مدد کروں گا۔”
اب وہاں کوئی اور تو تھا نہیں … چنانچہ میں نے عرض کیا:
“اے اللّٰہ کے رسول! میں نے آپ کو تین بار لبیک اور میں مدد کروں گا، فرماتے ہوئے سنا ہے… یہ کیا معاملہ ہے؟ ”
جواب میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“بنی خزاعہ کے ساتھ کوئی واقعہ ہوگیا ہے۔”
اس کے تین دن بعد بنی خزاعہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچے تھے… گویا اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی، جب کہ ابوسفیان اس کوشش میں تھے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے وہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے جاکر ملیں … یعنی ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے مسلمانوں کو اس واقعہ کی خبر نہ ہو۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بھی پہلے ہی ان الفاظ میں خبر دے دی تھی۔
“بس یوں سمجھو! نئے سرے سے معاہدہ کرنے اور اس کی مدت بڑھانے کے لیے ابوسفیان آیا ہی چاہتا ہے۔”
پھر ابوسفیان سے پہلے ہی بنی خزاعہ کا وفد مدینہ منوره پہنچ گیا۔یہ لوگ حضور صلی الله علیہ وسلم سے مل کر واپس روانہ ہوئے تو راستے میں ابوسفیان سے ان کا سامنا ہوا، ابوسفیان نے ان سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی، لیکن وہ بتائے بغیر آگے بڑھ گئے… تاہم ابوسفیان نے بھانپ لیا کہ یہ لوگ اسی سلسلے میں مدینہ منوره گئے تھے۔
مدینہ منوره پہنچتے ہی ابوسفیان سیدھے اپنی بیٹی، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت اُم المومنین اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا کے پاس گئے… گھر میں داخل ہونے کے بعد جب ابوسفیان نے بستر پر بیٹھنا چاہا تو اُمّ المومنین اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا نے بستر لپیٹ دیا، یہ دیکھ کر ابوسفیان حیرت زدہ رہ گئے، انہوں نے کہا:
“بیٹی یہ کیا! مہمان کے آنے پر بستر بچھاتے ہیں کہ اٹھاتے ہیں ۔”
حضرت اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا نے فرمایا:
“یہ رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کا بستر ہے… اور آپ ابھی مشرک ہیں ۔”
یہ سن کر ابوسفیان بولے:
“اللّٰہ کی قسم! میرے پاس سے آنے کے بعد تجھ میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ۔”
اس پر حضرت اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا نے فرمایا:
“یہ بات نہیں ، بلکہ بات یہ ہے کہ مجھے اسلام کی ہدایت عطا ہوگئی ہے، جب کہ آپ پتھروں کو پوجتے ہیں ، ان بتوں کو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں … آپ پر تعجب ہے،آپ قبیلہ قریش کے سردار اور بزرگ ہیں ، سمجھ دار آدمی ہیں ، اور اب تک شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔”
ان کے جواب میں ابوسفیان بولے:
“تو کیا میں اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر محمد( صلی الله علیہ وسلم )کے دین کو اختیار کر لوں ۔”
پھر ابوسفیان وہاں سے نکل کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے نئے سرے سے معاہدہ کرنے سے انکار فرمادیا، اب وہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہہ کے پاس گئے… انہوں نے بھی کوئی بات نہ سنی… وہ بار بار سبھی بڑے لوگوں کے پاس گئے… لیکن کسی نے ان سے بات نہ کی… آخر ابوسفیان مایوس ہوگئے اور واپس مکہ لوٹ آئے انہوں نے قریش پر واضح کردیا کہ وہ بالکل ناکام لوٹے ہیں ۔
ادھر ابوسفیان کے روانہ ہونے کے بعد ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کو کوچ کا حکم فرمایا، مسلمانوں کے ساتھ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو بھی تیاری کا حکم فرمایا،لیکن یہ وضاحت نہیں فرمائی تھی کہ کہاں جانا ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے آس پاس کے دیہاتوں میں یہ پیغام بھیج دیا، ان لوگوں کو حکم ہوا کہ رمضان کا مہینہ مدینہ منوره میں گزاریں ، اس اعلان کے فوراً بعد چاروں طرف سے لوگوں کی آمد شروع ہوگئی۔اس موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے دعا فرمائی:
“اے اللّٰہ قریش کے جاسوسوں اور سن گن لینے والوں کو روک دے، تاکہ ہم ان کے علاقے میں اچانک جاپڑیں ۔”
ادھر تو حضور صلی الله علیہ وسلم یہ احتیاط فرمارہے تھے کہ کسی طرح قریش کو ان کی تیاریوں کا علم نہ ہو… ادھر آپ صلی الله علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہہ نے قریش کے تین بڑے سرداروں کے نام خط لکھا۔اس خط میں انہوں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تیاریوں کی اطلاع دی تھی، یہ خط انہوں نے ایک عورت کو دیا اور اس سے کہا:
“اگر تم یہ خط قریش تک پہنچادو تو تمہیں زبردست انعام دیا جائے گا۔”
اس نے خط پہچانا منظور کرلیا، اس پر حضرت حاطب رضی الله عنہہ نے اسے دس دینار اور ایک قیمتی چادر دی اور اس سے کہا:
“جہاں تک ممکن ہو، اس خط کو پوشیدہ رکھنا اور عام راستوں سے سفر نہ کرنا…کیونکہ جگہ جگہ نگرانی کرنے والے بیٹھے ہیں ۔”
وہ عورت عام راستہ چھوڑ کر ایک اور راستے سے مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئی، اس کا نام سارہ تھا، وہ مکہ کی ایک گلوکارہ تھی، مدینہ منوره میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوئی تھی، اس نے اپنی خستہ حالی کی شکایت کی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کی مدد بھی کی تھی، پھر یہ مکہ چلی گئی، لیکن وہاں جاکر اسلام سے پھر گئی… پھر یہ وہاں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز اشعار پڑھنے لگی، ان دنوں ساره دوبارہ مدینہ آئی ہوئی تھی… حضرت حاطب رضی الله عنہہ نے اسے یہ خط دیا تو وہ یہ کام کرنے پر رضامند ہوگئی۔
اس نے وہ خط اپنے سر کے بالوں میں چھپالیا اور مدینہ منوره سے روانہ ہوئی… ادھر یہ روانہ ہوئی، اُدھر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس بارے میں خبر بھیج دی۔آسمان سے اطلاع ملتے ہی آپ نے اپنے چند صحابہ کرام رضی الله عنہم کو اس کے تعاقب میں روانہ فرمایا۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
“وہ عورت تمہیں فلاں مقام پر ملے گی… اس کے پاس ایک خط ہے، خط میں قریش کے خلاف ہماری تیاریوں کی اطلاع ہے، تم لوگ اس عورت سے وہ خط چھین لو… اگر وہ خط دینے سے انکار کرے تو اسے قتل کردینا۔”
یہ صحابہ حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت مقداد رضی الله عنہم تھے۔حکم ملتے ہی یہ اس مقام کی طرف روانہ ہوگئے…نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے عین مطابق وہ عورت ٹھیک اسی مقام پر جاتے ہوئے ملی، انہوں نے اسے گھیر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں